خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغریب کی چائے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرمجید احمد جائی

غریب کی چائے

مجیداحمد جائی کا ایک افسانہ

از مجید احمد جنوری 31, 2020
از مجید احمد جنوری 31, 2020 0 تبصرے 540 مناظر
541

غریب کی چائے

جنوری کی یخ بستہ را ت میں ہر طرف کُہر پڑ رہی تھی ۔ دیواریں ٹھنڈی تھیں اور جانداروں کا خون منجمدہونے کو تھا ۔ بوڑھے تو بیچارے بدنام ہیں جوانوں کے دانت بھی بج رہے تھے ۔ اچھے خاصے صحت مند بھی چادریں لپٹتے پھر رہے تھے ۔ میں بھی بدن پہ چادر لپیٹے،پاءوں میں لُنڈے کا بوٹ اور موزے پہنے ،ہاتھوں کو دستانوں سے ڈھانپے ،کانوں کو مفلر سے چُھپائے خراماں خراما ں چل رہا تھا ۔ خود کو محفوظ سمجھنے کے باوجود بھی مجھے سردی لگ رہی تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ میں کمزور تھا ،اچھی بھلی صحت تھی ۔ ہڈیاں گوشت پوست سے دھکی ہوئی تھیں ۔ گال خون سے سُرخ تھے جو اب کالے نیلے پڑ رہے تھے ۔ جیسے خون رُکنے لگا ہو ۔ میں چائے پینا چاہتا تھا تاکہ ٹھنڈ سے کچھ لمحے نجات ملے اور رات بھی سرک جائے ۔

پورے کا پورا شہر لحافوں میں ڈب گیا تھا ۔ تاریکی چہار سو اپنے نوکیلے پنجے گاڑھ چکی تھیں ۔ میں تن تنہا مٹر گشت کر رہا تھا ۔ وہ بھی سردیوں کی رات میں ۔ میں سردیوں میں سر عام گھومنے کا شوقین نہیں ہوں ۔ میری مجبوری تھی ،اس شہر میں اجنبی تھا ۔ کسی سے جان پہچان نہیں تھی ،ہوتی بھی تو کیا ہونا تھا ۔ چھوٹے فلیٹوں میں رہنے والے دِل کے بھی چھوٹے ہوتے ہیں ۔

لو آگئی اک اور آفت ۔ کہاں سُلائیں گے ،کیا کھلائیں گے ،تنور ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ،ہوٹل بند ہو گئے ہوں گے ،کھانا کون لائے گا،کس کو اتنی سردی میں باہر بھجیں ،جیسے سوال نہیں سُنانا چاہتا تھا ،جو کسی کے ہاں مہمان بننے کے موقع پر اکثر دُہرائے جاتے ہیں ۔ ۔ مہمان بیچارہ اندر ہی اندر شرمند ہ ہو رہا ہوتا ہے ۔

شہر صاف سُتھرا تھا ۔ سڑکیں چمکتی تھیں ۔ دن کو ان پہ سرکاری عہدے دار سوٹ بوٹ پہنے ،اپنے فراءض سر انجام دینے کے لئے آفس آیاجایا کرتے ہیں ۔

یہ سڑکیں بھی کتنی خوش قسمت ہیں ،پُر سکون رہتی ہیں ۔ ان کے سینے پہ جتنا مرضی وزن پڑ جائے اُف تک نہیں کرتیں ۔ ہر پرسنلٹی کا دیدار کرتی ہیں ۔ ہر کردار سے واقف رہتی ہیں ۔ ان کو سردی لگتی ہے نہ گرمی ۔ بس چُپ چاپ سنتی رہتی ہیں ،شکوہ نہیں کرتیں ۔ ایک اِنسان ہے اپنے بنانے والے سے شکوءوں کے انبار لگائے رکھتا ہے ۔ ہر نعمت پاکر بھی ناشکرا رہتا ہے ۔

پوراشہر بڑی بڑی کوٹھیوں اور محل نما بنگلوں سے سجا ہے ۔ یہاں دولت مندوں کا بسیرا ہے ۔ بنگلوں کے گیٹ پر سیکورٹی گارڈ کی چھوٹی سے کوٹھری ہے یہاں وہ گن سنبھالے ،سگریٹ کے کش پہ کش لے کر رات کو دھکیل رہے ہوتے ہیں اور صبح کا اُجالا پھیلتے ہی گھر کو لوٹ جاتے ہیں ۔

میں اپنے شہر سے یہاں انٹرویو کے لئے آیا تھا ،سُن رکھا تھا جہاں نوکری مل جاتی ہے ۔ نوکری کے چکر میں طویل سفرطے کرکے آیا تھا ۔ انٹرویو تو ہو گیا لیکن واپسی کی گاڑی نہ مل سکی ۔ انجان تھا گاڑیوں کے آمد ورفت کے اوقات کا پتا نہیں تھا ۔ سو رات پڑ گئی اور گاڑی میرے شہر جانے والی کا وقت گزر گیا تھا اب صبح سویرے گاڑی نے نکلنا تھا ۔ سواب مجھے رات کاٹنی تھی ۔

رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی ۔ میں ہوٹل میں کسی کمرے کا متلاشی تھا ۔ جس بھی ہوٹل میں جاتا رات گزارنے کے ہزاروں مانگے جاتے ۔ میں التجائیں کرتا رہا لیکن میری دال نہ گل سکی ۔ میں حیران تھا کہ کس دیس میں آگیا ہوں یہاں رات کی گھڑیاں گزارنے پہ ہزاروں کی رقم وصول کی جاتی ہیں ۔

کئی ہوٹل یخ بستہ رات میں پیچھے چھوڑ آیا تھا ۔ ایسا نہیں تھا کہ میں جان بوجھ کر کمرہ حاصل نہیں کر رہا تھا ۔ میری مجبوری یہ تھی کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی ۔ بمشکل واپسی کا کرایہ بچا تھا ۔ غریب آدمی کے پاس ہوتا بھی کیا ہے ۔ وہ سفر پہ جاتا ہے تو روپیہ روپیہ سنبھال کے خرچ کرتا ہے کہیں واپسی کا کرایہ نہ ختم ہو جائے ۔ اسی خوف سے پیٹ بھر کے کھانا تک نہیں کھا سکتا ۔ جیب کٹنے کا ڈرالگ ستائے رکھتا ہے ۔

میرا یہاں کوئی رشتے دار بھی نہیں رہتا تھا جس کے ہاں چلا جاتا ۔ کوئی دوست بھی نہیں تھا بلکہ میں خود غرضی کے اِس دور میں دوستی کے قابل نہیں تھا ۔ دوستیاں بھی تو امیر کی ہوتیں ہیں ۔ غریب دوستی پالے یا اپنے بچوں کا پیٹ ۔ ہاں البتہ میں لڑکی ہوتی تو دوستی کی لمبی قطاریں لگ جاتیں ۔ ہر مرسیڈی والا انتظار میں کھڑا ہوتا ۔ عشقیہ جُملے ہوتے ،لبوں میں مسکراہٹ ہوتی اور آنکھوں میں بے شرمی کی انگڑئیاں ۔

اجنبی تھا اور ہر طرف ناکامی کے گہرے بادل چھائے تھے ۔ اب میں نے خود سے فیصلہ کیا کہ ہوٹلوں سے چائے پی پی کر رات گزاری جائے ۔ صبح ہوتے ہی گاڑی پکڑ لوں گا اور پھر گاڑی میں لمبی تان کر سو جاءوں گا ۔ بے فکری کی نیند ۔ ڈر نہ خوف ۔ ڈرتے تو وہ ہیں جو دولت مند ہوتے ہیں ۔ دولت اُن کو سونے نہیں دیتی ۔ سُکون چھین لیتی ہے ۔ مجھ جیسے تو فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر سو جاتے ہیں ۔ خوف نہ خطرہ ۔ پُرسکون ۔ سکون ڈھونڈنا ہے تو غریبوں کی جھونپڑیوں میں جا کر دیکھیں ۔ وہ تو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جیتے ہیں اور دولت مند اپنی حفاظت کے لئے چار چار گارڈ رکھتا ہے ۔ موت سے ڈرتا ہے بیچارہ ۔ پھر بھی موت نہیں چھوڑتی ۔

میرے شہر کا سفر تقریباًنو گھنٹے کا ہے ۔ گاڑی میں لمبی تان کر سو بھی جاتا تو سفر مزے سے کٹ جاتا ۔ نیند بھی پوری اور سفر بھی ختم ۔ خیالات کے اُتار چڑھاءو میں رات کا ایک بج گیا ۔ میں شہر کے وسط میں واقع ہوٹل میں پہنچ چکا تھا ۔ ہوٹل بڑا شاندار تھا ۔ اندر داخل ہوتے ہی خوبصورت ہال تھا جس میں ترتیب سے کُرسیاں رکھی ہوئیں تھیں ۔ لیکن اِس وقت ہال منہ چڑھا رہا تھا ۔ سُنسان اور ویران سا تھا اور کاءونٹر پہ ایک خوبرولڑکا چادر اوڑھے گاہکوں کا منتظر تھا ۔

میں نے کاءونٹر پہ کھڑے لڑکے کو چائے کا آڈر کیا اور ہال کے ایک کونے میں دب کر بیٹھ گیا ۔ لڑکے نے ترچھی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ وہ زیر لب بڑبڑایا ۔ اُس نے کیا کہا ، میں سُن نہ سکا ۔ لیکن اُس کے چہرے سے ناگواری کے تاثرات ضرور پڑھے جا سکتے تھے جو میں نے پڑھ بھی لیے ۔

میری نگاہیں ہال کا جائزہ لینے لگیں ۔ ہال نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ یہ ہوٹل اور ریستوران بھی تھا ۔ مسافرلوگ یہاں ٹھہرتے تھے ۔ یا ٹھہرائے جاتے تھے ۔ میں بھی تو مسافر تھا ۔ اِن میں اور مجھ میں فرق ضرور تھا ۔ تبھی تو میں کمرے کے لئے مارا مارا پھر رہا تھا اور یہ نیم تاریکی میں بھی نیند کے مزے لے رہے تھے یا پھر خرمستیوں میں غرق تھے ۔ شاید یہاں بھی کمروں کا ریٹ ہزاروں روپے ہو گا ،سو میں یہاں چائے کی چسکیاں لینے کے خاطر آن بیٹھا ہوں ۔ اِسی بہانے گھنٹہ دو گھنٹہ گزار دوں گا ۔

لڑکے نے موٹی گرم چادر اوڑھ رکھی تھی اور اُس کی آنکھیں نیند کے خمار سے سُر خ ہو رہی تھیں ۔ چہرے پہ چھپی مایوسی میں دیکھ سکتا تھا یا یہ مایوسی مجھے ہی دِکھتی تھی ۔ ویسے خوبرو اور وجہیہ شکل کا خوبصورت لڑکا تھا ۔ نین نقش پیارے تھے ۔ آنکھیں مستی سے بھری تھیں ۔ قد کاٹھ بھی ٹھیک تھا ۔ بالوں کی کٹنگ سے پڑھا لکھا معلوم ہوتا تھا ۔

مجھے اِس لڑکے سے کوئی غرض نہیں تھی ۔ میں تو رات گزرنے کا بہانہ تلاش کرتا پھرتا تھا ۔ وہ کون تھا ،کہاں کا تھا ،مجھے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ میں تو پل دو پل کا مسافر تھا ۔ صبح ہوتے ہی منزل کی طرف چلا جاءوں گا اور لوٹ کر شاید اِس شہر کو نہ آءوں ۔

میری نظریں کاءونٹر کو دیکھ رہیں تھیں ۔ چائے ابھی تک میری ٹیبل پہ نہیں آئی تھی اور میں بھی یہی چاہتا تھا ۔ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی ۔ میں ہال کے کونے میں یوں بیٹھا تھا کہ ہوٹل کے داخلی دروازے پہ نظریں تھیں ۔ دروازے سے اندر آنے والا میری نظروں کے تعاقب میں تھا ۔ میں پُرسکون بیٹھا تھا اور سردی قدرے کم ہو رہی تھی کیونکہ ہال کا ماحول قدرے گرم تھا ۔ ہاتھوں کو بغل میں دبائے ہوئے چپ چاپ بیٹھا تھا ۔ عین اُسی لمحے ایک خوبصورت درمیانے قد کی لڑکی،جس کی عمر بیس بائیس سال رہی ہوگی اندر داخل ہوئی ۔ اُس کے حلیے سے لگتا تھا کہ کسی بڑے گھر سے ہے ۔ وہ خراماں خراماں چلتے چلتے کاءونٹر پہ آکر رُک گئی ۔ سامنے وہی لڑکا کھڑا مسکرارہا تھا ۔ جب میں آیا تھا تب لڑکے کے چہرے پہ مسکراہٹ کا نام ونشان تک نہ تھا اور اب وہ گلاب کی طرح کِھل اُٹھا تھا ۔

رات کے اِس پہر ہال کی نیم تاریکی میں لڑکی کی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ آنکھوں میں مستی سی تھی ۔ وہ لڑکے کو دیکھتے ہی مسکرائی ۔ دونوں کی مسکراہٹیں پھیلنے لگیں اور اُس کی شوخیاں دیکھ کر مجھ میں حرارت پیدا ہونے لگی ۔

اُن دونوں میں چند جُملوں کا تبادلہ ہوا اور پھر لڑکی ادائے خاص سے چلتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ آپس میں اُنہوں نے ایک دوسرے کو کیا کہا ۔ ۔ میں سن نہ سکا اور مجھے سننے کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔ کوئی دو منٹ ہی گزرے ہوں گے لڑکا ہاتھ میں ٹرے پکڑے اُسی کمرے کی طرف چلا گیاجہاں لڑکی گئی تھی ۔ میں تماشائی بنا بیٹھا تھا ۔

شاید میں تماشائی تھا ۔ ۔ ۔ یا اُنہوں نے مجھے تماشائی سمجھ رکھا تھا جو میرے چائے کے آڈر کی طرف توجہ ہی نہیں کی تھی ۔ اُنہوں نے یکسر مجھے نظر انداز کر دیا ۔ آدھ گھنٹہ یونہی گزر گیا ۔ پھر وہ لڑکی مُرجھائی مُرجھائی ڈگمگاتی ہوئے کمرے سے نکل کر ہوٹل سے باہر نکل گئی اور اُس کے جانے کے بعد لڑکا بھی بُوجھل قدموں کے ساتھ کاءونٹر پہ آن کھڑا ہوا ۔

لڑکے نے ہال کا جائزہ لیا تو مجھے بیٹھے پایا اور اُس کی آنکھیں مجھ سے ٹکرا گئیں ۔ آنکھوں آنکھوں میں ، میں نے چائے نہ آنے کا شکوہ کیا ۔ اُس نے سر خم کرتے ہوئے ادب سے چائے لانے کا وعدہ کیا اور پھر چند منٹوں میں چائے میری ٹیبل پر تھی ۔

یا ر اتنی دیر

میں جان بوجھ کر اپنا رُعب جمانا چاہ رہا تھا تاکہ وہ یہ نہ کہے کہ اتنی دیر سے بیٹھے ہو جان کیوں نہیں چھوڑتے ۔ ۔ ۔

جناب !آپ کی ایک پیالی چائے کی خاطر میں اپنے گاہک نہیں چھوڑ سکتا ۔ ۔ ۔

گاہک ۔ ۔ ۔

ہاں میرے گاہک ۔ ۔ میری ماں کی دوائی کا سبب یہ گاہک ۔ ۔ میری پڑھائی کے اخراجات پورے کرنے والے یہ گاہک ۔

میں سمجھا نہیں ۔

آپ کا کوئی قصور نہیں صاحب ۔ ۔ ۔ بڑے بڑے بھی ناسمجھ ہو جاتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں ، میں بتلاتا ہوں ۔

میں بی ۔ اے پاس ہوں ۔ گھر میں صرف ایک بیمار ماں ہے ۔ میرا کوئی بہن بھائی نہیں ۔ باپ دوسال قبل ایک فیکٹری میں کرنٹ لگنے سے وفات پاگئے ہیں ۔ اُس وقت گھر میں جو جمع پونجی تھی اپنے باپ کے لاشے کو گھر لانے میں اُٹھ گئی ۔ پریشان نہ ہوں ہمارے قانون کے رکھوالے ایسے ہی ہیں ۔ لاش پوسٹ مارٹم کے لئے گئی تھی جس کی مد میں تمام جمع پونجی دے کر اپنے مُردہ باپ کے جسم کو گھر لے آئے ۔ یوں سفید چادر میں لپٹ کر اِن ہاتھوں سے باپ کو سُپرد خاک کر دیا ۔

ماں نے صدمے پال لئے اور میں تنہا حالا ت سے لڑنے لگا ۔ ماں چارپائی پہ پڑ گئی ۔ دوسرا اپنا کوئی نہیں تھا جو خبر گیری رکھتا ۔ رشتے باپ کی طرف سے ہوتے ہیں ۔ ابوّ کے وفات پانے کے بعد کسی رشتے دار نے پلٹ کر نہ دیکھا ۔

میں ایف ۔ اے امیتازی نمبروں سے پاس کر چکا ہوں ۔ کالج کی بھاری فیسیں اور نٹ نئے کالج کے خرچے کیسے برداشت کر رہا تھا میں جانتا ہوں ۔

میٹر ک کے بعد روزی روٹی کے لئے مارا مارا پھرتا رہا تھا ۔ بھلا اِس دور میں نوکری ہاتھوں میں اُٹھائے کون کھڑا ہوتا ہے ۔ جو بھی نوکری دیتا ہے پہلے اس کا خالی دامن بھرنا پڑتا ہے ۔

میں نے مونگ پھلیاں بیچی ۔ چاول چھولے بیچے ۔ میری عمرکے بے فکری زندگی گزار رہے تھے اور میں اپنی اور اپنی ماں کی زندگی کو زندہ رکھنے کے جتن کر رہا تھا ۔ چھوٹے موٹے کام کرتے کرتے اس ہوٹل تک آن پہنچا یہاں آکر میں نے خود سے سمجھوتہ کر لیا ۔

ایسا سمجھوتہ ۔ ۔ ۔ جوخود اپنے آپ ،ہوٹل مالک کے علاوہ اورکسی کے ساتھ نہیں تھا ۔ لیکن میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں بے بس ہوں ،میری ماں کو کینسر ہے ۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے اِس پہ کافی رقم لگے گی ۔ ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں ،مہنگی ادویات کہاں سے خریدتا ۔ مجبوریاں اِنسان کو مجبور ہی تو کر دیتی ہیں ۔ میں اپنی زندگی کا قطرہ قطرہ بیچ رہا ہوں ۔ رات بھر یہاں سے جو کماتا ہوں ۔ صبح اپنے لئے ،ماں کے لئے کھانا اوردوائی خریدپاتا ہوں ۔

نوکری کے لئے سڑکوں کی خاک چھانتا رہا ۔ اونچے اونچے دفاتر کے چکر لگائے ،ڈگریاں ہاتھوں میں لیے پھرتا رہا ۔ یہاں ڈگریاں تو جعلی چل سکتی ہیں مگر نوکری بغیر رشوت،سفارش کے نہیں مل سکتی ۔ کسی کو کوئی غرض نہیں ہے کہ کسی غریب کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے یا کسی کے بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں ۔ کوئی فاقوں سے مر جائے ،یا کوئی دوائی نہ ملنے سے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دے ۔ اِن کو بس اپنا دامن بھرنا ہے ۔

میں جہاں بھی گیا ،سفارش کے طور پر ہزاروں کی ڈیمانڈ کی گئی ۔ جس کے پاس ایک وقت کی روٹی کے لیے پیسے نہ ہوں وہ ان کے لئے ہزاروں کا بندوبست کہاں سے کرے ۔ یہی نا انصافیاں ہی تو ہیں جو معاشرے میں بگاڑپیدا ہو رہا ہے ۔ نوجوان پڑھے لکھے چور ،ڈاکو،بن رہے ہیں ۔ جس ہاتھ میں قلم ہوتا ہے وہ ہتھیار سنبھال رہے ہیں ۔

تب میں نے مجبور ہو کر اِس ہوٹل کا سہار لیا ۔ اِس نے میری جوانی خریدی ۔ یہ انوکھا سودا تھا جو میں نے کیا ۔ میں رات کو یہاں آتا ہوں ۔ صبح ہوتے ہی چلا جاتا ہوں ۔ ایک کمرے سے جو رقم ملتی ہے اُس کا ایک حصہ ہوٹل مالک لے لیتا ہے اور ایک حصہ ان کمروں میں رات گزارنے کے لئے خوراک کھاتا ہوں اور باقی رقم میری جیب میں ہوتی ہے جو صبح کسی کلینک ،یا کسی ریڑھی والے سے ناشتہ خریدتے ہوئے اُڑجاتی ہے ۔

بس یہی میری کہانی ہے ۔ آپ کی ایک پیالی چائے مجھے کیا دیتی ۔ وہاں سے دوائی خریدنے کی اُمید تو ہوتی ہے اور یہاں سے ۔ ۔ ۔;

لڑکے کی آنکھیں نم تھیں ۔ میری بھی سردی اُڑ گئی تھی اور میں خود کو مجرم سمجھ رہا تھا ۔ میں کس معاشرے میں رہتا ہوں ۔ یہاں انصاف نہیں ہے ۔ کہیں ایک روپیہ کے لئے کوئی ترس رہا ہے اور کہیں اپنی عیاشی کے لئے ہزروں لوٹائے جار ہے ہیں ۔

میں بھی اِسی لڑکے کی طرح تو ہوں ۔ اب تک کئی انٹرویو ز دے چکا ہوں ۔ سوچتا ہوں کیا ترقی پسند معاشرہ نوجوانوں کی زندگیاں تباہ نہیں کر رہا ۔ میرا خون گرمی پکڑ چکا تھا اور جذبات ٹھاٹھیں مار رہے تھے ۔ اتنے میں کاءونٹر پر ایک اور حسینہ چنچل اداءوں سے آپہنچی اور وہ لڑکا

اچھا صاحب

ایک اور گاہک میر امنتظر ہے ۔

امی کی دوائی لینے کے لئے پیسے کم ہیں ۔ ۔ اللہ معاف کرے گا ۔ ۔ ۔ معاشرے میں بسنے والے اِنسان تو معاف نہیں کرتے ۔ اللہ معاف کرنے والا ہے ۔

لڑکا یہ کہہ کر چلا گیا تھا اور مجھے ایسا لگا کہ میں جہاں بیٹھا ہوں ،زمین ٹھر ٹھر کانپ رہی ہے اور میں مٹی کے اندر دُھنستا جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ کیا میں بھی کسی ایسے ہوٹل میں اپنی قیمتی زندگی کا قطرہ قطرہ لوٹانا شروع کر لو تاکہ زندگی کے بقیہ پل خوشگوار گزار سکوں ۔ ۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے ۔ ۔ ۔

مجیداحمد جائی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تم کو واپس بلاتی پکاروں کے دکھ
  • میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے
  • عمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف
  • فطرت کے دامن میں خاموش جذبات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مجید احمد

اگلی پوسٹ
خورشٹ
پچھلی پوسٹ
صفاتی ناول ’’صُفہ‘‘اور دُردانہ نوشین خان

متعلقہ پوسٹس

رئیس امروہوی | رئیس شہر سخن

جولائی 31, 2022

سوال یہ تھا کہاں ملو گے

جولائی 25, 2022

سَرْمَسْت سوز و جذب

اکتوبر 25, 2025

نیند اچھی ہے کہ کچھ خواب

فروری 27, 2025

زندگی

اگست 19, 2025

مَیں شعر کہوں گا تو پذِیرائی کرے گا

نومبر 13, 2025

کچھ محبت کچھ گلہ آثار بارش ہورہی ہے

جون 6, 2020

خدا کا شُکر ہے گرداب سے نکل آیا

فروری 12, 2020

بند کمرے میں کوئی میرے

اکتوبر 12, 2025

یہ رزم گاہ میں ہے ناگزیر ، کھینچے گا

نومبر 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ابھی تو رات ہے

دسمبر 30, 2019

ان سے کہیں کہ چپ رہیں

ستمبر 9, 2025

نیا قانون

فروری 22, 2017
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں