106
جس کا ہونا میرا ہونا بنتا ہے
وہ دنیا کے آگے بونا بنتا ہے
ہم تو فرض نبھاتے ہیں مجبوری کا
ہنسنے کی بنیاد کھلونا بنتا ہے
جس میں اپنے پاؤں بھگو لے وہ اک بار
اس دریا کا پانی سونا بنتا ہے
خاموشی اظہار میں ڈھل کر بات بنی
ہونے کی بنیاد نہ ہونا بنتا ہے
عمروں کی مزدوری لگتی ہے اس پر
لمحوں میں تو وقت کا کونا بنتا ہے
میں دشمن کی موت پہ کیسے رقص کروں
میرا تو اس دکھ میں رونا بنتا ہے
پہلے اس کو باغ سلامی دیتا ہے
بعد میں ہر اک پھول بچھونا بنتا ہے
اس پرچم میں بدبو ہے غداری کی
اس پرچم کو خون سے دھونا بنتا ہے
اوروں کا تو بار گراں ہے مان لیا
اپنا اپنا بوجھ تو ڈھونا بنتا ہے
اس کا جسم نومبر کا خورشید منیر
اس پیکر کی دھوپ میں سونا بنتا ہے
منیر جعفری
