خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباصفاتی ناول ’’صُفہ‘‘اور دُردانہ نوشین خان
آپکا اردو بابااردو تحاریرمجید احمد جائیمقالات و مضامین

صفاتی ناول ’’صُفہ‘‘اور دُردانہ نوشین خان

تبصرہ نگار :مجیداحمد جائی

از مجید احمد جنوری 31, 2020
از مجید احمد جنوری 31, 2020 0 تبصرے 767 مناظر
768

صفاتی ناول ’’صُفہ‘‘اور دُردانہ نوشین خان کادلیر قلم

انسان کو دوسری مخلوق پر ممتاز کرنے والے دو ہی فعل ہیں ۔ ’’آنسو اور مسکراہٹ‘‘ ۔ اس قیمتی خزانے کو اپنے رب کی راہ میں خرچ کرو ۔ رب کی راہ میں خرچ کرنا یہ بھی ہے کہ کسی غریب ،یتیم کی حالت دیکھ کر آنکھ بھر آنا ۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دُنیاوی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل کا روگ نہ بنایا کرو ۔ یاد رکھنا آنکھیں بھی خالی ہو جاتی ہیں ۔

یہ اقتباس صفاتی ناول ’’صُفہ ‘‘سے لیا گیا ہے ۔ جس کو دُر دانہ نوشین خان نے لکھا ہے ۔ دُر دانہ نوشین خان میرے ہمسائے شہر مظفر گڑھ کی باسی ہے ۔ آپ کتاب دوست ،کتابوں سے محبت کرنے والی مسکراتی شخصیت کی مالک ہیں ۔ دُر دانہ نوشین خان کالم نگار ،ناول نگار اور خوب صورت لب ولہجے کی شاعرہ بھی ہیں ۔ پہلا زینہ ،اندر جال ،ریت میں ناءو ،ریگ ماہی ،ریت کے بُت ،پھولوں کی وفو گری اور اب شاہکار ناول ’’صُفہ‘‘دُردانہ نوشین خان کے فکر وفن اور افکار و خیال کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

’’صُٖفہ‘‘ایک ایسا ناول ہے جس کا ہر پرت ،ایک نیا در کھولتا ہے ۔ اس میں تجسس ہے ،کشمکش ہے ،جزائیات نگاری ،کم کم منظر نگاری بھی اوراستعارے بھی ہیں ۔ اس میں عشق و محبت کے قصے نہیں بلکہ لمحہ لمحہ خود کی تلاش کراتا ناول ہے ۔ اس ناول کی خوبیاں ہی خوبیاں ہیں ۔ اس ناول میں تصوف،تاریخ ،احادیث اور قرآن پاک کی آیات کے حوالے ہیں جو اپنے کرداروں سے بیان کرائے گئے ہیں ۔

’’صُفہ‘‘ناول میں دُردانہ نوشین خان کئی سوالات اُٹھاتی ہیں اور قاری کو فکر و خیال کی طرف راغب کرتی ہیں ۔ یہ اقتباس دیکھئے ’’عورت دُنیا ہے ،دُنیا دار ہے ۔ اس لیے کہ اس کو روحانی ارتقاء کا کوئی الگ سے وعدہ نہیں دیا گیا ۔ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ۔ وہ جماعت نہیں کراسکتی ،اذان نہیں دے سکتی ،فتویٰ نہیں دے سکتی ،کوئی لیڈنگ علمی رول ادا نہیں سکتی ناں ۔ ۔ یہی بات

دُر دانہ نوشین خان ’’صُفہ‘‘ناول میں جگہ جگہ فکر وافکار کے نئے در وا کرتی نظر آتی ہیں ۔ ناول سادہ اور عام فہم ہے ۔ اسلوب شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ کسی بھی لکھاری کو لے لیں اس کے اسلوب سے اس کی شخصیت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔ دُردانہ نوشین خان ’’صُفہ ‘‘ناول میں قاری کے آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرتی نظر آتی ہیں ۔ چند جملوں کو پڑھئے ۔ آپ کسی حد تک اس ناول کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ’’شاعری ادب کو لے لو ،کبھی کسی نے عورت کی صفاتی تعریف نہیں کی ،بیڑا غرق کر دیا ۔ اُنہوں نے عورت کو انسان سمجھنے کا ،عورت ہے تو جو بن بہار ۔ خدا ہونے کا دعویٰ بھی مردوں نے کیا ہے ۔ عورت نے آج تک یہ نہ کہا ، میں تمہارارب ہوں ۔ دُنیا ایک ایسا کُتا ہے جسے ہم اپنے ہاتھ میں ہڈی لیے ،لیے پیچھے لگاتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

’’صُفہ ‘‘ناول کا نام اصحاب صُفہ کی نسبت سے ہے ۔ اس کا مرکزی کردار صُفہ بخاری ہے ۔ جو خیربانٹتی ہے ۔ اللہ سے ملواتی ہے ۔ اللہ سے باتیں کراتی ہے ۔ جو بھی اس سے ملتا ہے وہ سب کچھ بھول بھال کر خیر کے راستے کا مسافر ہو جاتا ہے ۔ اس میں علاقائی زبانوں کا تڑکا بھی ملتا ہے ۔ مقامی الفاظ کا استعمال ناول میں ندرت اور انفرادیت پیدا کرکے دلچسپی میں اضافہ در اضافہ کرتا ہے ۔ ۔

’’صُفہ‘‘ناول کا سرورق بہت ہی پیار ا ہے ۔ اگر سرورق کو غور سے دیکھا جائے اور غوروفکر کیا جائے تو ناول کے پلاٹ کو جان سکتے ہیں ۔ بیک فلاپ پر دُردانہ نوشین خان کی تصویر ہے اور تصویر کے نیچے ’’ابدال بیلا‘‘کے تاثرات ہیں ۔ لکھتے ہیں ’’صُفہ‘‘کہنے کو اس چار نکری چراغٖ کے چاروں کونے چار سندریاں ہیں ،کچھ مرچیلی ،کوئی نمکین ۔ کسی میں مٹھاس ،کون کس لمحے ،کون ساموڑ مڑگئی ۔ یہ آپ پورا ناول پڑھ کر جان لیں گے ۔ خیر اور شر کی داستان پرانی ہے ۔ دُردانہ نوشین خان نے اپنی تخلیقی ایچ سے اپنے اُجلے من میں کہانی کو پُروکے معاشرے کو خیر کا ایک قابل ِتقلید رُخ دکھایا ہے ۔ جو شاندار ہے ۔

’’صُفہ‘‘کو علی میاں پبلی کیشنز نے نومبر 2019ء میں شائع کیا ہے ۔ جس کے 318صفحات ہیں اور اس کی قیمت چھ سو روپے ہے ۔ انتساب بہت خوبصورت ہے جو کچھ یوں ہے ۔ ’’افضل النساء العالمین ،افضل النساء الجنتہ سیدہ کائنات ،اُم ابیہا جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بی بی فاطمہ بتول سلام اللہ علیھا ،میرے ماں باپ ،اولاد آپ پر قربان ،میری کُل حیاتی کا حاصل کلام و قلم آپ ہیں ۔

میں کون ہوں کے عنوان میں دُردانہ نوشین خان لکھتی ہیں ۔ شوق ایک بے نیازی ہے ۔ اس پہ جتنا غور کیا اتنا ہی لطف آیا اتنا ہی کھلتا چلا گیا ۔ کسی بھی شوق کو مطلق بے نیازی اپنائے بغیر پایا نہیں جا سکتا ۔ شوق کے اخلاص کا پیمانہ ماسوائے بے نیازی نہیں ۔ جنون شوق کا منفی مظہر ہے ۔ شوق خود اپنی راہ کے خار وکنکر پہچان کے بچ کے چلے ،گر نہ پہنچانے تو پاءوں زخمیانے پہ واویلا نہ کرے ۔ سبق سیکھے پلو سے باندھے ۔ واویلا فریادہے اور فریاد بے نیازی نہیں بلکہ طلب امداد ہے ۔ گریہ بے نیازی میں ہوتا ہے ۔ باطن میں لہو ٹپکاتا ہواگر یہ ،ظاہر سے بے نیازواحد کا نیاز مند ۔ ۔ ۔ ہوتا بے حد وحساب کٹھن ہے جان پہ کر بلا گزر جاتی ہے ۔ میں مدتوں سے شب کے شفاف آسمان کو بیرنگ لفافے پوسٹ کرتی چلی آرہی ہوں ۔ آسمان کتنا سخی ہے اس نے کبھی نہیں لوٹائے ۔ موصول ہو جانا (کر لینا )بانصیب سماعت اور بڑا اطمینان ہے ۔

’’صُفہ‘‘ناول کے کل چودہ ابواب ہیں ۔ جن کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری بوریت محسوس نہیں کرتا بلکہ ہر باب میں دلچسپی ،تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے اور قاری مٹھاس اور مسرت محسوس کرتا ہے ۔ مجھے تو باب نمبر تیرہ نے رُولا دیا ہے ۔ قاری سے زیادہ لکھاری حساس دل رکھتا ہے ۔ ضروری نہیں کے قاری اور لکھاری کی سوچیں ایک ہی ہوں لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہے ۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ ،خود کو ضرورتلاشیں گے ۔ جستجو میں ضرور نکلیں گے اور اس ناول کو مدتوں یاد رکھیں گے ۔

 یہ ناول لمحہ لمحہ تڑپاتا ہے ۔ سِسکھاتا ہے ،نئی سوچوں کے در کھولتا ہے ۔ جس میں دین ہے ،دُنیا ہے ،خدا ہے انسان ہے ۔ خود سے سوالات کراتا ناول ہے ۔ جوابات کی تلاش اور منزلوں کے راستوں پر گامزن کرتا ہے ۔ میں نے اس کو لفظ لفظ پڑھا ہے پھر بھی بار بار پڑھنے کومن کرتا ہے ۔ آپ بھی ایک بار میرے کہنے پر مطالعہ کیجئے آپ کی زندگی کے دھاڑے ضروربدل جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ دُردانہ نوشین خان کو سلامت رکھے اور یہ ناول ان کے لیے ذریعہ نجات بن جائے آمین

تبصرہ نگار :مجیداحمد جائی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سمندر کی گہرائیوں میں
  • ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں
  • گردِ ملال چہرے پہ
  • بُھلا دیا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مجید احمد

اگلی پوسٹ
غریب کی چائے
پچھلی پوسٹ
بات کرکے دیکھتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جنوری 15, 2021

جہاں پہ تو ہے

جون 21, 2020

یہ کون سا نظام ہے؟

نومبر 18, 2020

بیٹیاں

دسمبر 17, 2021

اگرچہ بہت در بدر ہو گیا ہوں

جنوری 30, 2022

تمہیں گلا ہی سہی ہم تماشہ کرتے ہیں

جون 6, 2020

عبادت میں تری، آڑے نہ آیا کوئی بھی پتھر

مارچ 3, 2022

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے

اکتوبر 20, 2019

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

اکتوبر 12, 2025

اللّٰہ کبھی کسی کو بھوکا نہیں سلاتا

جنوری 24, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دریا نہیں تھا پر مجھے دریا...

مارچ 2, 2022

احساس کی خوشبو یہ لگن تیرے...

اپریل 26, 2020

مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں

مئی 5, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں