101
جئے جاٶں ملن کی آرزو میں
کٹے دن رات تیری جستجو میں
نہیں اوجھل تو مجھ سے ایک پل بھی
تیری صورت ہے گھر کے چارسو میں
اترے کانوں سے دل تک اک شیرینی
عجب جادو ہے تیری گفتگو میں
اسے دیکھوں تو بہکوں بن پئے ہی
کشش ایسی ہے میرے ہم سُبو میں
کشش غزلوں میں یونہی تو نہیں ہے
تو ہے رہتا خیالِ آبرو میں
تجھکو دیکھا ہے جب سے گلبدن اے
نہیں دلبستگی کچھ رنگ و بو میں
سانسیں حاوی کی تیرا نام جپتیں
دھڑکتا ہے یہ دل کب فالتو میں
طارق اقبال حاوی
