102
زندگی بھر فکر کرتے رہے کہ لوگ کیا کہیں گے
مگرجواب ڈھونڈھ نہ پائے کہ لوگ کیا کہیں گے
اچھا پہننا ہے اچھا رہنا ہے چاہے ہو نہ ہو لیکن
اگر ایسا نہ کیا تو سوچئیے کہ لوگ کیا کہیں گے
برے حالات سے نکل کر حالات اچھے ہوگئے مگر
اس پر بھی یہ ٹینشن ہے کہ لوگ کیا کہیں گے
ترقی اگر ہم نے کی تو اپنی محنت سے اور اب
اک جگہ پر ہیں رکے ہوئے کہ لوگ کیا کہیں گے
کوئی پرواہ نہیں ہے لوگوں کو ہماری یہاں اور
ہمارے ذہنوں پر یہ سوار ہے کہ لوگ کیا کہیں گے
فرصت کہاں ہے کسی کو کچھ کہنے کی یوسف
کب تک رہیں گے یہ سوچتے کہ لوگ کیا کہیں گے
یوسف برکاتی
