108
اسکے پھولوں کو سنبھالے رکھنا
غم کی راتوں میں اجالے رکھنا
بے وقوفوں سی ہے حرکت یہ تو
سانپ پہلو میں ہی پالے رکھنا
میرے نزدیک محبت یہ ہے
دل بے دردوں کے حوالے رکھنا
تیری عادت ہے یہ تُو کر پوری
ایک ہی بات اچھالے رکھنا
خواہشِ لمس ہی پوری نہ ہوئی
اسکا بس کام ہے ٹالے رکھنا
سمجھے کیسے کوئی دکھ مفلسی کا
صبح کے شام نوالے رکھنا
دینے والا ہے وہ دستک سو زمل
دل کے دروازے پہ تالے رکھنا
ناصر زملؔ
