102
دوا میں زہر ملائے تو پھر مزہ آئے
طبیب تجھ سا پلائے تو پھر مزہ آئے
سوال آئے محبت کا تیرے پرچے میں
تجھے جواب نہ آئے تو پھر مزہ آئے
جو کندھا آج میسر تجھے ہے سونے کو
مری طرح بھی سلائے تو پھر مزہ آئے
شبِ فراق میں جتنی تپش ہے گرمی ہے
بجھے دیوں کو جلائے تو پھر مزہ آئے
اسے تڑپنا پڑے میری طرح فرقت میں
وہ روئے حشر اٹھائے تو پھر مزہ آئے
خدا سے مانگ رہا ہوں میں جس قدر اسکو
وہ چیختا ہوا آئے تو پھر مزہ آئے
ناصر زملؔ
