361
کچھ خاک سے ہے کام کچھ اس خاک داں سے ہے
جانا ہے دور اور گزرنا یہاں سے ہے
دل اپنی رائیگانی سے زندہ ہے اب تلک
آباد یہ جہاں بھی غبار جہاں سے ہے
بس خاک پڑ گئی ہے بدن پر زمین کی
ورنہ مشابہت تو مری آسماں سے ہے
دل بھی یہی ہے وقت بھی منظر بھی نیند بھی
جانا کہاں ہے خواب میں جانا کہاں سے ہے
اک داستاں قدیم ہے اک داستاں دراز
ہے شام جس کا نام وہ کس داستاں سے ہے
وابستہ میز پوش کے پھولوں کی زندگی
مہمان سے ہے میز سے ہے میزباں سے ہے
ذوالفقار عادل
