خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجج کرنا مناسب نہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحمد یوسف برکاتی

جج کرنا مناسب نہیں

از محمد یوسف برکاتی مئی 14, 2025
از محمد یوسف برکاتی مئی 14, 2025 0 تبصرے 64 مناظر
65

کسی کے بارے میں جانے بنا اس کو جج کرنا مناسب نہیں

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
آج کے آرٹیکل کے موضوع کو پڑھ کر یقینی طور پر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا موضوع ہے ؟ لیکن یہ صرف موضوع نہیں بلکہ ہمارے آج کے معاشرے میں ہونے والی کئی خرابیوں اور کئی غلط فہمیوں کی وجہ بھی ہے کیونکہ ہمارے یہاں اکثر و بیشتر ایسی صورتحال کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے جب لوگ بات کیا کررہے ہوتے ہیں اور ہم ان کے بارے میں کیا سوچ لیتے ہیں کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بغیر ان کے بارے میں کچھ جانے ان کے بارے میں عجیب و غریب مفروضے قائم کرنا شروع کردیتے ہیں یا ہمیں کسی حالت میں کسی مجبوری میں دیکھ کر لوگ ہمارے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے قائم کرلیتے ہیں یہ سب کسی طرح سے مناسب نہیں بلکہ انتہائی نامناسب ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لیکن دیکھا یہ ہی گیا ہے کہ ایسی سوچ رکھنے اور پیدا کرنے والے خود ہی شرمندہ ہوتے ہیں جب انہیں حقیقت کا علم ہوتا جیسے ایک صاحب جن کا نام ارشد تھا اپنے بیٹے کے ساتھ ٹرین کے سفر میں تھے ان کے سامنے ایک شادی شدہ جوڑا بیٹھا تھا جب ٹرین اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ رواں دواں تھی تو ارشد صاحب کا بیٹا کھڑا ہوکر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا اور زور زور سے چلانے لگا کہ پاپا دیکھو سارے درخت اور ساری چیزیں ہماری گاڑی سے پیچھے کی طرف جارہی ہیں تو اس کے پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بیٹا ہاں ایسا ہی ہے اس بچے کی اس حرکت پر وہ شادی شدہ جوڑا ہنسنے لگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تھوڑی دیر ہوئی تو وہ بچہ پھر کھڑا ہوا اور چلانے لگا کہ پاپا دیکھو اوپر سارے بادل ہمارے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں تو راشد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں بیٹا ایسا ہی ہے تو اس شادی شدہ جوڑے نے مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کہ جناب آپ اس بچے کو کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں لیکر جاتے تو ارشد صاحب نے بڑے اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ میں اپنے بیٹے کو ابھی ہسپتال سے ڈسچارج کرواکر ہی لارہا ہوں کیوں کہ میرا بیٹا پیدائشی طور پر نابینا تھا اور اب ایک آپریشن کے بعد اس کے آنکھوں کی روشنی واپس آگئی ہے اور ابھی یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہے یہ سن کر وہ دونوں شرمندہ ہوگئے اور دل میں سوچنے لگے کہ ہم تو اس بچے کو پاگل سمجھ رہے تھے یعنی کچھ جانے بنا صرف اس کی حرکات کو دیکھ کر یہ جج کرلیا کہ یہ پاگل ہے جبکہ ایسا نہیں تھا اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ کسی کے بارے میں بنا جانے اس کو جج نہیں کرنا چاہیے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہم سوچے سمجھے بغیر کسی کے بھی بارے میں کوئی رائے قائم کرلیتے ہیں جو کہ ایک غیر اخلاقی بات ہے لیکن یہ ہماری زندگی کا ایک معمول بن چکا ہے ہم کسی کو اس کے کپڑوں سے تو کسی کو اس کے رہن سہن سے تو کسی کو اس کی باتوں سے جج کرنا شروع کردیتے ہیں جب پہلی بار کسی سے ملنا ہوا تو ہم ابھی صرف سلام کرکے مصافہ کرتے ہیں اور دل ہی دل میں اس کے بارے میں بہت کچھ سوچنے لگ جاتے ہیں اور وہیں فیصلہ کرنے لگتے ہیں کہ یہ شخص کیسا لگتا ہے اور اس کی سوچ تو ایسی ہوگی وغیرہ وغیرہ تو آپ خود ہی بتائیں کیا یہ رویہ صحیح ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں نے اپنی زندگی میں کئی لوگ ایسے بھی دیکھے ہیں جو انپڑھ اور جاہل ہوتے ہیں لیکن ان کی صحبت اچھے اور پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان سے بات چیت کرتے ہوئے محسوس تک نہ ہوگا کہ یہ شخص کوئی انپڑھ شخص ہے اور اسی طرح کچھ ایسے پڑھے لکھے لوگوں سے بھی واسطہ پڑا ہے جو بظاہر بہت پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لیکن ادب اور اخلاق ان کے قریب سے بھی نہیں گزری ہوئی ہوتی مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم کسی بھی انپڑھ انسان کو دیکھ کر اس کے بارے اپنی رائے قائم کرنے میں دیر نہیں لگاتے اور کسی اعلی تعلیم یافتہ انسان کو دیکھ کر اس کے بارے میں بھی عجیب و غریب رائے قائم کرلیتے ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جیسے میں ایک جگہ سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ کافی لوگ جمع ہیں اور چیخنے چلانے کی آواز آرہی ہے میں نے قریب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک گاڑی والے کی ایک موٹر سائیکل والے سے ٹکر ہوگئی اور موٹر سائیکل سلپ ہوگئی گاڑی چلانے والا ایک نوجوان تھا جبکہ موٹر سائیکل چلانے والا ایک بزرگ نوجوان کا کہنا تھا کہ غلطی بڑے صاحب کی ہے جبکہ اس بوڑھے شخص کا کہنا تھا کہ غلطی نوجوان کی ہے اب لوگ بغیر تحقیق کئے نوجوان کو بگڑے ہوئے باپ کی بگڑی ہوئی اولاد سمجھ کر پکڑلیتے ہیں اب بتائیں کہ کیا ایک بزرگ شخصیت ہونے کی وجہ سے ان سے غلطی نہیں ہوسکتی؟ کیا نوجوان کا نوجوان ہونا ہی غلطی تھا ؟ اس کو کہتے ہیں ججمنٹل یعنی بغیر تحقیق کے کسی کو مجرم کا اور کسی کو مظلوم کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دینا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کولمبیا کے ایک ڈاکٹر مسٹر مارکم کا کہنا ہے کہ اس قسم کے لوگ جو ججمنٹل کا شکار ہوتے ہیں حقیقت جانے بنا منفی قیاس آرائی کرتے ہیں دنیا کو اپنے ذاتی تعصب کی نظر سے دیکھتے ہیں ہمدردی کا دکھاوا کرتے ہیں لیکن کسی کو اچھا نہیں سمجھتے ہر شخص انہیں اپنے خلاف دکھائی دیتا ہے یعنی حریف نظر آتا ہے اور وہ طبیعت کے اعتبار سے ناخوش رہتے ہیں یعنی اگر کہیں کچھ لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو یہ سوچ لیتے ہیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں بات کررہے ہیں یہ اس کی اپنی سوچ ہوتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر ہم اس معاملے کو مذہبی اعتبار سے دیکھیں تو یہ بدگمانی کہلائے گی جس کی شریعت میں بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے کسی کی بارے میں اپنے ذہن میں غلط سوچ پیدا کرنے کو بدگمانی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید سورہ الحجرات کی آیت 12 کے ایک حصہ میں ارشاد فرمایا کہ "اے ایمان والوں بہت گمان سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے مطلب یہ کہ کوئی انسان کسی کے بارے میں سوچے سمجھے بغیر بدگمانی کرے تو یہ اس کے لئے گناہ کا سبب ہوگا صحیح البخاری اور صحیح مسلم کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” زیادہ بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی میں کی جانے والی بات سب سے جھوٹی ہوتی ہے ”
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آپ لوگوں نے احساس کمتری کی بیماری کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا لیکن یہاں مسئلہ احساس بڑھتری کا ہے کیونکہ یہ کیفیات احساس بڑھتری والوں کے ساتھ ہوتی ہیں احساس بڑھتری یعنی دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا اپنے سے حقیر سمجھنا جن لوگوں کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ لوگ ہی دوسروں کے بارے میں جانے بغیر اپنی رائے قائم کرلیتے ہیں جیسے دو نوجوان ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے ایک کا نام دانش تھا جو ایک غریب انسان کا بیٹا تھا اس کا باپ ایک مزدور تھا لیکن دانش پڑھائی میں اچھا تھا جبکہ دوسرے کا نام مبشر تھا جو ایک بڑے بزنس مین کا بیٹا تھا اور پڑھائی اس کے لئے صرف ایک ضد سے زیادہ نہ تھی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مبشر ہمیشہ دانش سے کہتا کہ تم ایک غریب لڑکے ہو اس لئے تمہارا مستقبل وہ ہی ہے جو تمہارے بڑوں کا رہا ہے تم کبھی بھی کسی بڑے عہدے پر نہیں پہنچ سکتے جبکہ دانش خاموشی کے ساتھ مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا جاتا وقت گزرتا گیا اور کالج کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد دونوں کی راہیں الگ الگ ہوگئیں اور دونوں اپنے اپنے راستوں پر رواں دواں ہوگئے کبھی نہ رکنے والا وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہا تھا اور یوں کم و بیش دس سال کا عرصہ بیت گیا پھر ایک دن یوں ہی مبشر اپنی خوبصورت بیوی کے ساتھ شاپنگ کرکے باہر کی طرف آرہا تھا جبکہ دو عدد گارڈز بھی موجود تھے اور جب وہ باہر پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا ہی رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر سامنے کھڑے ایک نوجوان پر پڑی جو کوئی اور نہیں بلکہ اس کے ساتھ کالج میں پڑھنے والا دانش تھا جو انتہائی سادہ کپڑوں اور جوتوں کے ساتھ کھڑا تھا تب مبشر نے اسے اشارا کیا اور یوں دانش اس کے قریب آیا اور وہ مبشر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا لیکن جب مبشر نے اس کا سادہ سا لباس دیکھا تو طنزیہ لہجے میں اپنی بیوی سے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ میرے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا ایک غریب آدمی کا بیٹا اور میری طرح کے مستقبل کا خواب دیکھ رہا تھا پھر اس نے دانش سے کہا کہ دیکھو میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اپنے والد کے بلبوتے پر شاندار پیکج ہر کام کررہا ہوں اور مجھے معلوم تھا کہ تم اپنی غربت کی وجہ سے کبھی آگے نہیں بڑھ پائو گے وہ مسلسل دانش کی بیعزتی کرتا رہا اور دانش کی ایک بھی بات نہ سنی پھر اچانک ایک ملٹری کی گاڑی وہاں آکر رکی اور دو فوجی اس میں سے اتر کر دانش کے قریب آئے پہلے سیلیوٹ کیا اور کہا کہ سر ٹریفک زیادہ تھا اس لئے دیر ہوگئی تو دانش نے کہا کوئی بات نہیں چلو پھر وہ گاڑی میں بیٹھا اور وہاں سے روانہ ہوگیا جبکہ مبشر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا تھا پھر وہاں پر کھڑے پولیس والے سے پوچھا یہ کون تھا ؟ تو اس نے بتایا کہ یہ سرکاری ادارے میں ایک بہت بڑے عہدے پر فائز ہیں یہ سن کر مبشر کا سر اپنی بیوی کے سامنے شرمندگی کی وجہ سے جھک سا گیا اور وہ خاموشی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا سارے راستے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا رہا وہ سوچتا رہا کہ وہ آج جو کچھ ہے اپنے باپ کی وجہ سے ہے جبکہ دانش نے اپنی محنت اور قابلیت سے وہ مقام پالیا جو وہ چاہتا تھا وہ ہمیشہ دانش کو ایک غریب انسان سمجھ کر جج کرتا رہا لیکن اس کی ججمنٹ غلط تھی وہ ہمیشہ اس کے لباس کو دیکھ کر اسے جج کرتا رہا لیکن اس کی ججمنٹ غلط تھی اس نے کبھی بھی اپنی کسی بھی بات کا کسی بھی وقت دانش کو جواب دیتے نہیں دیکھا بلکہ مسکراتے ہوئے دیکھا اور یہ ہمیشہ اس بات کو اس کی کمزوری اور بزدلی سمجھتا رہا جبکہ یہ اس کی کامیابی کا ایک پوشیدہ راز تھا جو مبشر کو آج سمجھ آیا اسے اس مقام پر دیکھ کر آج وہ اپنے آپ کو دنیا کا کمزور ترین انسان سمجھ رہا تھا ایک ہارا ہوا انسان جس کے پاس سب کچھ ہے لیکن کچھ بھی نہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے احساس بڑھتری کی بیماری جس میں ہم ہر انسان کو اپنے سے کم تر سمجھ کر اس کو جانے پہچانے بنا اس کے متعلق رائے قائم کرلیتے ہیں اور وہ بھی منفی نوعیت کی جو بالکل بھی مناسب نہیں اور شریعت کی رو سے اسے ہی بدگمانی کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں کسی شخص یا اس کی کسی بات کے بارے میں جانے پہچانے بغیر کوئی رائے قائم کرلینے کے دو طریقے بہت زیادہ دیکھے گئے ہیں ایک ٹیکنکلی اور دوسرا پریکٹیکلی اب آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے ایک کلاس میں ایک ٹیچر میتھ کی کلاس لے رہی تھی اور انہوں نے ایک بچے کو کھڑا کیا جس کا نام علی تھا انہوں نے علی سے پوچھا کہ اگر میں تمہیں دو عدد امرود دوں اور تھوڑی دیر بعد پھر دو امرود دوں تو آپ کے پاس کتنے امرود ہو جائیں گے تو علی نے جواب میں کہا کہ پانچ اس کے اس جواب تمام بچوں کے ساتھ ٹیچر بھی پریشان ہوگئی لہذہ انہوں نے دوبارہ پوچھا تو علی نے پھر یہ ہی جواب دیا کہ پانچ ٹیچر نے سوچا شاید امرود علی کو پسند نہ ہو اس لئے وہ غلط جواب دے رہا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ٹیچر نے سوال کے انداز کو بدلتے ہوئے پوچھا کہ یہ بتائو اگر میں تمہیں دو عدد کیلے دوں اور تھوڑی دیر بعد پھر دو کیلے دوں تو تمہارے پاس کتنے کیلے ہو جائیں گے تو علی نے جواب دیا کہ چار یہ جواب سن کر ٹیچر نے دوبارہ امرود والا سوال کیا تو علی نے دوبارہ اس کے جواب میں پانچ کہا اب آئیے میں بتاتا ہوں کہ اصل کہانی کیا ہے اصل میں اگر ہم اس معاملہ کو ٹیکنیکلی دیکھیں تو ٹیچر کو ظاہری طور پر جو نظر آرہا تھا اس پر ان کی رائے بنی کیونکہ انہیں جو نظر آرہا ہے وہ اس پر اپنی رائے قائم کررہی ہے اس کے حساب سے دو اور دو امرود چار ہوتے ہیں لہذہ وہ یہ بات ٹیکنیکلی کہ رہی تھی جبکہ علی اپنی جگہ صحیح تھا کیونکہ وہ پریکٹیکلی جواب دے رہا تھا یعنی بقول ٹیچر دو امرود پہلے اور دو بعد میں دینے تھے لیکن علی کے بیگ میں پہلے ہی ایک امرود موجود ہے جس کی حقیقیت کا علم صرف اس کو ہی ہے اور اسی وجہ سے وہ امرود کی تعداد پانچ بتارہا تھا لہذہ وہ صحیح تھا بغیر کچھ سمجھے اور جانے ٹیچر نے علی کے بارے میں رائے قائم کرلی کہ امرود علی کو پسند نہیں اس لئے وہ غلط جواب دے رہا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور تھی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دوسروں کے بارے میں بنا جانے جج کرنے کے بارے میں واقعات اور مشاہدات کتابوں میں بھرے پڑے ہیں اور ہمارے ارد گرد اور ساتھ رہنے والے لوگوں کی بھی ایک کثیر تعداد اس بیماری میں مبتلا نظر آتی ہے اسی لئے شریعت مطہرہ نے دوسروں سے حسن ظن رکھنے کی تاکید کی ہے بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی کے بارے جانے بنا کسی کے خلاف غلط رائے قائم کرنا سخت منع ہے اور بروز محشر اس کی جواب دہی بھی ہوگی لہذہ کسی کے بارے میں جانے بغیر بھی اچھا گمان رکھنا چاہیے اور اچھے گمان کا اجر بھی ملے گا اور فائدہ بھی ہوگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہر ایک کے لئے اچھا سوچیں اچھا گمان رکھیں چاہے اس کو ہم جانتے ہوں یا نہیں جانتے ہماری ججمنٹ سب کے لئے مثبت رکھیں بدگمانی کے عذاب سے اپنے آپ کو ہمیشہ دور رکھیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس بیماری سے دور رکھے اور دوسروں کے لئے ہمیں اچھا گمان رکھنے اور اچھی سوچ پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے اور ہم سب کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاالنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بٹائی کے دنوں میں
  • ہم کب ایک قوم بنیں گے
  • مجھے سارے رنج قبول ہیں
  • میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
پروٹوکول
پچھلی پوسٹ
شکستِ ساز

متعلقہ پوسٹس

قومی یکجہتی اور اردو زبان

اگست 22, 2025

جسم کو اسم کی تشکیلِ فنا کا دکھ ہے

فروری 2, 2020

پیاری ڈکار

دسمبر 30, 2019

پھول صحرا کی ہتھیلی پہ جو دھر جاتے ہو

اپریل 8, 2020

قانو ن کی حکمرانی!

اپریل 23, 2022

شی مین

مئی 10, 2020

اوور کوٹ

دسمبر 6, 2019

اپنے دُکھ مجھے دے دو

جنوری 15, 2020

سیلاب، سیاست اور بے بس انسان

ستمبر 9, 2025

اشک سمندر ہوجاتے ہیں

اپریل 4, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حدیث کی اقسام

جنوری 22, 2023

جہاں پریاں اترتی ہیں

جون 15, 2025

قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط

اگست 7, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں