خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباقانو ن کی حکمرانی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

قانو ن کی حکمرانی!

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2022
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2022 0 تبصرے 82 مناظر
83

کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیابی کا دارومدارقانون کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری پر ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالا دستی کا تصور ہی قوم میں نظم وضبط اور حکمرانوں کے اختیارا ت اور اِن کے دائرہ کار کی حددو کا تعین کرتا ہے۔عوام کی اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کو طے شدہ ضابطوں اور اصولوں کے مطابق ڈھالنے اور قانون کے احترام کی بنا پر اپنی قومی تہذیب وتمدن کو استوار کرنے اور اپنی شناخت کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں سیاسی‘سماجی و مذہبی راہنماؤں کا بڑا اہم کردارہوتا ہے‘ بالخصوص ریاست کے معرض وجود میں آنے اور معاشرے کی تشکیل پانے کے بعد بلا امتیاز رنگ و نسل‘ زبان‘مذہب‘ جنس‘ ذات‘ سیاسی رائے‘ معاشی وسماجی حیثیت‘ جغرافیائی یا علاقائی بنیادوں پر کسی قسم کی امتیازتفریق کے بغیر قانون کے عمل داری کے لحاظ سے تمام باشندگان ریاست کو مساوی سلوک کا مستحق گرداننا‘ریاست و حکومت کے بنیادی اور ضروری فرائض میں شامل ہے۔ قانون کی عملداری سے ہی معاشرے میں انصاف کے قیام کی راہیں ہموار ہوتی ہیں اور سماجی عدل قائم ہوتا ہے۔ جس سے قوم کے اندر سیاسی استحکام سے اور یکجہتی جنم لیتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی ترقی اور ارتقاء کی راہوں پر گامزن ہوتی ہے۔ دُنیا میں ہرانسانی گروں‘ معاشرہ اور ریاست اجتماعیت قائم رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی ضابطہ کار‘ کتاب قانون یا دستور ِحیات بناتی ہے اور اس کی روشنی میں کاروان ِ حیات کو چلایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسلامی معاشرے اور مسلمان قوم کو پورے عالم پر فوقیت حاصل رہی کہ ان کا ضابطہِ حیات تشکیل دینے کے لیے نہ کو کسی دوسری قوم کی دریوزہ گری کی ضرورت پڑی ہے اور نہ ہی کسی اور مشکل کاسامنا کرنا پڑتا ہے‘ بلکہ ان کی اپنی قومی روایات اتنی شاندار رہی ہیں کہ اگر وہ قانون کی حکمرانی اور اصولوں کی پاسداری کی طرف تھوڑی سی بھی توجہ دیں تو وہ اقوام عالم میں منفرد‘ باوقار تہذینی مقام اور پہچان دوبارہ قائم کر سکتے ہیں۔
لیکن افسوس ہے کہ ہم میثاق ِمدنیہ‘ خطبہ حجتہ الوداع کے اسباق اور خلافت ِ راشدہ کے رول ماڈل کو بھول چکے ہیں۔ قانون اور ضوابطہ موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ روایات ہیں مگر ان کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ قانون شکنی اور طے شد ضوابطہ سے بے اعتنائی کی روش روز بروز پختہ ہوتی جارہی ہے‘ جس سے معاشرے میں اعتدال‘ توازن اور سماجی انصاف ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے اسباب‘محرکات کیا ہیں اور اس کا تدارک اور تلافی کیسے کی جا سکتی ہے‘ یہ الگ موضوع ہے اس پر بحث اس وقت میرے پیش ِنظر نہیں‘ قانو ن کی حکمرانی کے حوالے سے یہ تمہیدی اور اصولی بات میں نے اس پس ِ منظر میں دوہرائی ہے کہ آج بھی اگر طے شدہ اصولوں‘ ضابطوں کی پاسداری اور قانون کی عملداری کے ذریعے کارِ حکومت کو چلایا جائے تو معاشرے میں انصاف اور میرٹ کا قیام ممکن ہو سکتا ہے‘ جس سے عوام میں یکجہتی‘ اتحاد اور ہم آہنگی کی فضاء فروغ پا سکتی ہے اور بھائی چارے‘ اخوت اور روداری کے جذبات ابھر سکتے ہیں‘ اگرچہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ بالخصوص ایک ایسے معاشرے میں جہاں قانون شکنی اور بے اعتدالی ایک قومی مزاج بن چکا ہو۔ سیاسی‘ برداری اور سرمایہ کی قوت اور ذاتی اثر و رسوخ کو ہی طاقت کا سرچشمہ خیال کیا جاتا ہو۔ قانون کی پاسداری کے ذریعے کارِ حکومت معاشرت اور معیشت چلانا دشوار ترین کام ہے۔
مجھے پانچ سال وزیر ِ اعظم آزاد کشمیر (وقت)سردار سکندر حیات خان صاحب کے ہمراہ بطورِ پرنسپل سیکرٹری کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران میں‘ میں نے محسوس کیا ہے کہ موصوف غیر معمولی سیاسی اور انتظامی فہم و فہراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارِ حکومت کو چلانے کے لئے قاعدے‘ قانون اور رولز آف بزنس کی پابندی کو ہر موقع پر ملحوظِ خاطر رکھنے کی صحت مند روایت کو پوری طرح قائم رکھنے کی کوشش کی ہے‘ مختلف شعبہ ہائے حکومت سے متعلق احکامات کے اجراء کے وقت انہوں نے فائلوں کو سیاق و سباق کے حوالے سے انتہائی عرق ریزی سے پڑھااور ذاتی پسند‘ ناپسند‘ سیاسی تقاضوں‘ گروہی مصلحتوں‘ برادری مفادات کو سامنے رکھنے کے بجائے قاعدے‘ قانون اور اجتماعی قومی مفاد کو پیش ِ نظر رکھا اور لوگوں کے کام ان کے حق اور ضرورت کی بناء پر سر انجام دینے کی سپرٹ کو پوری طرح قائم رکھاجس کی وجہ سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئیں‘ سماجی شعبوں میں تعلیم‘ صحت عامہ‘ مواصلات اور دفاعی شعبوں میں ہمہ گیر اور یکساں تعمیر و ترقی کے مواقع‘ آثار اور تبدیلیاں واضح ہو کر سامنے آئیں۔
تعمیر و ترقی کے حوالے سے مختلف شعبوں میں حکومت کی کارگزاری کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا۔زیر ِ نظر صفحات میں‘ میں ان سینکڑوں احکامات میں سے چند ایک کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے‘ جو حکومتی امور کی انجام کے لیے مختلف اوقات میں جناب وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات خان صادر فرماتے رہے جو اُن کے اپنے قلمی ہیں۔ میرے خیال میں گڈ کورننس کا تصور بھی یہی ہے کہ طے شدہ قاعدے قانون اور متعین شدہ اصولوں کے مطابق ریاستی ادارے اور حکومتی شعبہ جات اپنا اپناکام کریں‘ اس سے میرٹ کی بالا دستی بھی قائم ہوتی ہے اور انصاف کے ثمرات بھی معاشرے میں محسوس ہوتے ہیں‘جناب وزیر ِ اعظم (وقت)سردار سکندر حیات خان کی قیادت میں حکومت نے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالا دستی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں انہیں آزاد کشمیر کی آئینی اور سیاسی زندگی میں کوئی مورخ نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ ایک مثال دے رہا ہوں کہ زکوٰۃ منافع فنڈ ہمیشہ وزیر اعظم کی صوابدید پر رہا جہاں چاہے خرچ کرے‘ لیکن محترم سردار سکندر حیات خان نے اقتدار سنبھالتے ہی زکوٰۃ منافع فنڈ کے استعمال کے رولز بنوائے جس سے مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کے علاوہ مستحق طلباء کے لیے وظائف اور مستحق اداروں کے لیے مالی امداد شامل تھی‘ نیز صدر اور وزیر اعظم کے اس فنڈ پر اختیارات محدود کر دیے گئے۔ مجھے اس امر کا ادراک ہے کہ مختلف معاملات کے بارے میں جہاں حکومت کی اتھارٹی ہو احکامات صادر کرنا ایک معمول کی کارروائی اور رسمی بات ہے‘ مگر ان صفحات میں ایسے احکامات کو جمع کیا گیا جو ان تمام سیاسی اکابرین ِ حکومت اور سرکاری حکام کے لیے نمونہ عمل اور بہترین گائیڈ لائن ثابت ہو سکتے ہیں جو قانون کی پاسداری اور طے شدہ ضابطوں کے مطابق کار حکومت چلانے کی خواہش رکھتے ہوں۔

(کتاب قانون کی حکمرانی‘ اکرم سہیل‘ اشفاق ہاشمی سے اقتباس)

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا
  • تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)
  • بڑا خوش نما یہ مقام ہے نئی زندگی کی تلاش کر
  • بلوچستان کا امن اور علیحدگی پسند تحریکیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زندگی کیا ہے
پچھلی پوسٹ
تبدیلئ مزاج کو آب و ہوا ملے

متعلقہ پوسٹس

احترام رمضان

اپریل 11, 2021

ایک طوفان ہے ، ٹالا نہیں جا سکتا

جنوری 28, 2020

پاکستان کی شان بڑھانے والے!

نومبر 7, 2021

ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور اُردو زبان

ستمبر 18, 2025

پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں

دسمبر 11, 2025

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اکتوبر 13, 2025

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

نظر آتی ہے اب بھی خواب میں

جون 8, 2020

اب تک ہیں تخیل میں اتاری ہوئی زلفیں

دسمبر 17, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شہروں کی طرف گاؤں سے جاتا...

مئی 1, 2022

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 13, 2024

کہیں دیوار، کہیں چھت، کہیں در

نومبر 11, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں