337
داستاں میں آج شب اک ایسا منظر آگیا
سن کے جس کو میں اچانک لوٹ کر گھر آگیا
قید کر کے گھر کے اندر اپنی تنہائی کو میں
مسکراتا گنگناتا گھر سے باہر آگیا
مستقل میرے تعاقب میں تھی شب زادوں کی فوج
میں بھی پھر میدان میں سورج اٹھا کر آگیا
جل چکے جب رات کے بستر پہ خوابوں کے بدن
اجڑی تعبیروں کا غم آنکھوں کے اندر آگیا
میری راہِ جستجو میں یوں ہوا اکثر نبیلؔ
ایک دریا سر کیا تھا اک سمندر آگیا
عزیز نبیل
