583
سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی
یہ دم قدم ہمارا غنیمت ہے شہر میں
عذابِ خواہشِ تعمیر لے کے اُترا ہے
وہ میرے خواب میں تعبیر لے کے اُترا ہے
میں خالی ہاتھ ہوں اور دیکھتا ہوں میرے خلاف
مرا عدو ، مری شمشیر لے کے اُترا ہے
سفر کے بوجھ تلے خود کو کھینچتا ہوا دن
مری ہتھیلی پہ تاخیر لے کے اُترا ہے
یہ کیسا دشت ہے جس کی جڑوں کا سنّاٹا
تمام شہر پہ تعزیر لے کے اُترا ہے
لہو جمی ہوئی آنکھوں میں وقت کا پنچھی
جو کھو گئی تھی وہ تصویر لے کے اُترا ہے
عزیز نبیل
