100
میرے دل میں اٹھا ہے سوال آج کل
تیرا ہی رہتا ہے کیوں خیال آج کل
تیرے دیدار میں منتظر ہی رہی
میری شوخ_ نظر بے مثال آج کل
عشق نے اتنا لاچار کر ڈالا ہے
پیار نے کر دیا یوں نڈھال آج کل
حسن کے جلووں کی تو کیا بات ہے
اس کی خوشبو میں جادو کمال آج کل
کیا اسے لوگ دیوانگی کہتے ہیں
ہو گیا ہے مرا بھی جو حال آج کل
اب محبت پہ اپنی ٹکے ہی رہیے
منفرد ہے عدو کی بھی چال آج کل
بے سبب شعر میری غزل کے ہوئے
چھڑ رہے ہیں مسلسل ہی تال آج کل
کویتا غزل مہرا
