خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسندھو کے کنارے سے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزانور علیتحقیق و تنقید

سندھو کے کنارے سے

از انور علی مارچ 13, 2025
از انور علی مارچ 13, 2025 0 تبصرے 117 مناظر
118

سندھو کے کنارے سے ایک سروئیر کی پکار

میں ہر روز جب اپنی آنکھیں صبح کی پہلی کرن پر کھولتا ہوں، تو میرے سامنے سندھ کا دریا ہوتا ہے۔ میں ایک سروئیر ہوں، اور میری ڈیوٹی اس وقت سکھر بیراج پر ہے۔ 2003 سے میں اسی میدان میں کام کر رہا ہوں — گڈو بیراج، کوٹری بیراج، اور اب سکھر بیراج۔ سندھ کے تمام کینالوں کا سروے کر چکا ہوں۔
مگر آج کل میرے دل میں ایک عجیب بےچینی ہے، ایک نامکمل بات، ایک سوال جو دل میں گونج رہا ہے:
میں کوئی بڑا سروئیر نہیں ہوں، نہ ہی خود کو دوسروں سے زیادہ قابل سمجھتا ہوں۔ پاکستان میں مجھ سے بہتر اور تجربہ کار سروئیر موجود ہیں۔ مگر قسمت یا تقدیر، جو بھی کہہ لیجیے، نے مجھ پر خاص کرم کیا۔ مجھے وہ موقع ملا، جو شاید ہر کسی کو نہ ملا ہو — سندھ کے پورے آبپاشی نظام کو قریب سے دیکھنے، اس پر کام کرنے، اسے پڑھنے اور محسوس کرنے کا موقع۔
میری نوکری کا سارا سفر سندھ کے واهن اور بیراجوں سے جڑا رہا ہے۔

سندھ کے بیراج — قدرت کے نظام پر ضرب

2003 سے میں مسلسل سندھ کے مختلف بیراجوں اور ان سے نکلنے والے کینالز پر کام کرتا رہا ہوں۔
گڈو بیراج پر کام کرتے ہوئے میں نے گھوٹکی فیڈر کے ساتھ نارا کینال، مٹھڑاؤ کینال، کھپرو کینال کے سروے کیے۔
سکھر بیراج پر رائس کینال، دادو کینال، نارتھ ویسٹ کینال، اور دیگر شاخوں پر کام کیا۔
کوٹری بیراج پر، لیفٹ بینک کینال، اکرم واہ، سیہون میں دانستر کینال اور اڑال کینال کے منصوبوں میں حصہ لیا۔
LBOD اور RBOD کے بھی سروے کیے، جہاں میں نئون کوٹ سے لے کر سمندر تک پہنچا۔

عجیب بات یہ ہے کہ میری نوکری کی ساری کہانی صرف سندھ کے پانی سے جڑی رہی۔
میں نے کبھی سندھ سے باہر نوکری نہیں کی — نہ پنجاب، نہ بلوچستان۔
جیسے قدرت نے مجھے یہاں بھیجا ہو، تاکہ میں اپنی دھرتی کے پانی کے درد کو محسوس کر سکوں۔
میں دن رات سندھ کے واهن پر چلا ہوں، پانی کے بہاؤ کو ماپا ہے، اس کے دکھوں کو پڑھا ہے، اور اس کی خاموش فریاد کو سنا ہے۔

بیراج: ترقی یا تقسیم؟

جب میں ان بیراجوں پر کام کرتا تھا، تو ایک سوال ہمیشہ میرے ذہن میں رہتا تھا:
"یہ بیراج بنانے کی اصل ضرورت کیا تھی؟ اگر یہ نہ بنتے تو کیا ہوتا؟”

سندھ کا دریا لاکھوں سالوں سے بہہ رہا تھا۔ ہزاروں نسلوں کی پیاس بجھائی، زراعت کو سیراب کیا، اور زمین کو زرخیز بنایا۔
مگر پھر بیراج بنے — پانی کو روکنے، بانٹنے، اور کسی خاص طبقے کے حوالے کرنے کا نظام قائم ہوا۔
شاید اس وقت یہ نظام انسان کی بھلائی کے لیے بنایا گیا ہو، مگر آج میں دیکھتا ہوں کہ یہ نظام قدرت سے ٹکراؤ ہے۔
بیراجوں کی تعمیر کے بعد پانی کی تقسیم طاقتور کے ہاتھ میں آگئی۔
کسی کو زیادہ ملا، کسی کو کم، اور کسی کو بالکل بھی نہیں۔
یہ انصاف تھا یا ناانصافی؟

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کیسے ایک طرف زمینیں سرسبز ہیں، تو دوسری طرف کھیت سوکھے پڑے ہیں۔
کیسے ایک علاقہ خوشحال ہے، تو دوسرا تباہ حال۔
کیسے پانی پر سیاست کی گئی، کیسے علاقوں کو تقسیم کیا گیا، اور کیسے سندھ اور پنجاب کے بیچ فاصلے بڑھائے گئے۔

انگریزوں کا منصوبہ — پانی پر قبضہ

جب میں نے تاریخ کو کھنگالا، تو حیران رہ گیا۔
بیراج بنانے کا اصل مقصد مقامی لوگوں کی بہتری نہیں تھا۔
انگریز جب یہاں آئے، تو ان کی نظر صرف زرعی پیداوار پر تھی۔
انہوں نے بیراج بنا کر پانی کو قابو کیا، پیداوار بڑھائی، اور یہ اناج انگلینڈ بھیجنے لگے۔
قدرتی بہاؤ کو روک کر، طاقتور جاگیرداروں اور وڈیروں کو پانی کا کنٹرول دیا گیا، تاکہ منافع بڑھایا جا سکے۔
پانی پر قبضہ کیا گیا، تاکہ طاقت کی بازی کھیلی جا سکے۔

اقبال کا درد — مغرب کی گمراہی

میرے ذہن میں اکثر علامہ اقبال کے اشعار گونجتے ہیں، خاص طور پر جب میں پانی کی تقسیم کو دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ کیسے مغرب نے ہمیں تقسیم کیا:

دلیلِ کم نظری سے مغرب کے ساحلوں پر
یہ مدرسہ نہیں ہے، فقط کھیل ہے، تماشا ہے!

اقبال نے مغربی تہذیب کو "گمراہی” کہا، کیونکہ اس کا مقصد علم نہیں، بلکہ طاقت پر قبضہ ہے۔
انگریزوں نے بھی یہی کیا — پانی پر قبضہ کیا، وسائل کو روکا، اور ہمیں آپس میں لڑوایا۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اصل دشمن وہ نظام ہے، جو ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔

میری سوچ کا انجام — ایک پیغام

میں کوئی بڑا لکھاری نہیں، نہ ہی کوئی فلسفی۔
میں بس ایک سروئیر ہوں، جو سندھ کے پانی سے جڑا ہوا ہے۔
میں ان واهن کے کنارے چلا ہوں۔
میں ان بندوں پر کھڑا ہوا ہوں، جنہوں نے پانی کو قید کر رکھا ہے۔
میں ان آنکھوں میں جھانکا ہوں، جو پانی کے لیے ترستی ہیں۔
اور میں یہ کہتا ہوں:
سندھ اور پنجاب کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔
یہ جھگڑا پانی پر قبضے کا ہے۔
یہ جھگڑا ان نظاموں کا ہے، جو انگریزوں نے بوئے، اور ہم آج تک انہیں پانی دے رہے ہیں۔
"پانی پر قبضہ، سوچ پر قبضہ ہے۔”
اگر ہم قدرت کے ساتھ چلتے، تو پانی خود سب تک پہنچ جاتا۔
ہمیں پانی پر قبضے کے بجائے، ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں پانی کی سیاست ختم کرنی ہوگی، تاکہ نفرتیں ختم ہوں۔
ہمیں پانی کو آزاد کرنا ہوگا، تاکہ انسانوں کے ذہن بھی آزاد ہو سکیں۔
اور میں یقین رکھتا ہوں کہ…
اگر سوال سچا ہے، تو جواب ضرور ملے گا…!

انور علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غیب کے دشت میں ہوتے ہیں ٹھکانے میرے
  • ہالی ووڈ کا فریب – آخری قسط
  • جوہرِ بیش بہا کو کھولا
  • پاوں بھاجی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
انور علی

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر طارق قمر
پچھلی پوسٹ
عربی زبان

متعلقہ پوسٹس

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

صورت ِخواب کوئی مجھ سے بغل گیر ہوا

نومبر 14, 2021

ٹیلی گرام

جنوری 15, 2020

بے صدا ہورہی ہیں آوازیں

اگست 8, 2024

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

نومبر 29, 2020

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن

جولائی 13, 2025

اوہدے ولوں ہاں وی نئیں سی

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ادھیڑ عمر کی عورت

جنوری 4, 2022

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

صدام حسین

مارچ 8, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں