خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلڈاکٹر طارق قمر
اردو بابا سپیشلڈاکٹر طارق قمرسوانح حیات

ڈاکٹر طارق قمر

از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2025 0 تبصرے 37 مناظر
38

ڈاکٹر طارق قمر کی پیدائش یکم جولائی 1975 کو سنبھل کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی ، آپ کے گھر میں شروع سے ہی ایک علمی ادبی و روحانی ماحول تھا ، آپ کے دادا پیر سید فضل احمد قادری ایک بڑے عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے دیار سنبھل میں وہ طالبان رشد وہدایت کا مرکز تھے جہاں ہروقت علماء اور عقیدت مندوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا ، گھر کی فضا قال اللہ قال الرسول کی صداؤں سے مشکبار اور علمی مجلسوں سے معمور تھی وہ بیک وقت عربی اردو اور فارسی تینوں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے ، انھیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ تعلق تھا اس تعلق کے اظہار کے لیے انھوں نے “سیرت نور “ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور تعلق مع اللہ کے اظہار کے لیے ایک مسجد تعمیر کروائی جو آج بھی سنبھل میں “پیر جیوں والی مسجد “ کے نام سے مشہور ومعروف ہے ۔

آپ کے والد سید عقیل احمد عقیل بھی اپنے والد کے نقش قدم پر تھے لیکن پیری مریدی کا سلسلہ ترک کردیا تھا ، وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے ، عربی اردو فارسی اور انگریزی چاروں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے ، جرم سخن کے مرتکب تھے اس لیے عقیل تخلص رکھتے تھے ، ان کے قطعات کا پہلا مجموعہ “زخمِ احساس “ کے نام سے شائع ہوا ، اس کے بعد “ جرسِ گُل “ کے نام سے علماء سنبھل کے تذکرے پر دوسری کتاب شائع ہوئی ، انگریزی گرامر پر بھی ایک گراں قدر کتاب تصنیف فرمائی ، آپ کے انتقال کے بعد آپ کا بکھرا ہوا سارا کلام “ جرم سخن “ کے نام سے آپ کے بیٹے نے جمع کرکے شائع کیا ۔

ڈاکٹر طارق قمر کی والدہ ماجدہ بھی ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں اور شعروادب کا اعلی ذوق رکھتی ہیں ، اس طرح کے علمی وادبی ماحول میں ڈاکٹر طارق قمر نے آنکھیں کھولیں ، ابتدائی تعلیم سنبھل ہی میں حاصل کی اس کے بعد اپنے تعلیمی کارواں کو آگے بڑھاتے ہوئے مرادآباد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا ، تین سبجیکٹ اردو انگریزی اور ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اردو مضمون میں گولڈ میڈلسٹ رہے ، رسمی تعلیم کے آخری پڑاؤ یعنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی سے حاصل کی ، بعد ازاں بی بی سی لندن سے جرنلزم کا کورس کیا اور صحافت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اسوقت آپ نیوز 18 لکھنؤ بیورو کے سینئر ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں ۔

ڈاکٹر طارق قمر کو شعری وادبی ذوق وراثت میں ملا ان کے والد کے دوست ڈاکٹر نسیم الظفر نے اسے مزید صیقل کیا ۔

ڈاکٹر طارق قمر کی شعری کائنات بہت وسیع ہے ، ان کی شاعری اپنے عہد کے حالات سے بہت مربوط ہے ، انداز بیان سادا اور شگفتہ ہے اور شعری رموز وعلائم سے مزین ہے ، ان کے فن پر کئی بڑے مستند نقادوں نے تبصرہ کیا ہے اختصار کے پیش نظر یہاں صرف چند ماہرین فن کے تبصرے پیش کیے جاتے ہیں ، پروفیسر شارب رودولوی لکھتے ہیں “ طارق قمر نئی نسل کے معتبر اور نمائندہ شاعر ہیں جن ذہنی اور جذباتی صدموں سے یہ نسل گزررہی ہے ان کا بڑا مؤثر اظہار ان کی غزلوں میں ہوا ہے ان کا ایک امتیاز یہ ہے کہ بعض دوسرے نئے شاعروں کی طرحdr tariq qamar وہ اپنے تجربات کی شدت کو اتنا بے لگام نہیں ہونے دیتے کہ وہ سلیقہ اظہار کی حدوں کو پھلانگ جائے ، ان کا موضوع آج کی زندگی ہے لیکن ان کے پیرایہ بیان میں ماضی کے استاذوں جیسا رکھ رکھاؤ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی تہذیبی وادبی روایت سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ اس کا احترام بھی انھیں ملحوظ ہے “

مرحوم بیکل اتساہی رقم طراز ہیں “ طارق قمر کی شاعری میں اس دور کا لوچ بھی ہے اور لچک بھی اور یہ فولاد کی طرح لوچ اور لچک ہے ان کی شاعری میں جذبات کی جامعیت اور سادگئ بیان کا اختصار ان کی غزلوں کا خاصہ ہے ، بالخصوص ردیف وقوافی کا نیاپن اور اس پر ان کا زور بیان عصری شاعری میں انفرادیت کا درجہ رکھتا ہے “

پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں “ ادبی روایت طارق کے خون کا حصہ ہے اور زبان وبیان پر ان کی گرفت مضبوط ہے ، طارق کے یہاں ایک چنگاری ہے جو مخالف ہواؤں کی زد میں آتے ہی سلگ اٹھتی ہے “

ڈاکٹر طارق قمر غزلوں کے علاوہ نظموں کے بھی شاعر ہیں ، حالات حاضرہ کے حوالے سے انھوں نے کئی بہترین نظمیں تخلیق کی ہیں ، ایک صحافی کتنی بھی کوشش کرلے لیکن وہ اپنی ذات کو اپنے ماحول سے الگ نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ عصری حسیت ان کی شاعری کی جزو لا ینفک بن گئی ہے اور وہ شاعری ہی کیا جو اپنے دور کا ترجمان نہ ہو ۔

ڈاکٹر طارق قمر ایک شاعر ادیب مترجم محقق ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ عہد کے مشاعروں کا ایک مقبول عام چہرہ بھی ہیں ، مشاعروں کے اس دور میں جہاں کلاسیکی مشاعرے اپنا دم توڑ چکے ہیں ، مشاعرے ہلڑ بازی اور تماش بینوں کا اڈہ بن چکے ہیں ، شعراء مشاعرہ پڑھنے اور داد سخن حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک گرنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ڈاکٹر طارق قمر اس بھیڑ سے بالکل الگ دکھائی دیتے ہیں ، وہ نہ اپنا وقار داغدار ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی خاندانی شرافت پر کوئی آنچ آنے دیتے ہیں وہ اس دور میں بھی بامقصد اور سنجیدہ کلام سے دلوں کو گرماتے اور قومی غیرت کو للکارتے ہیں ، وہ اندرون ملک کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی شاندار نمائندگی کرچکے ہیں جن میں لندن ، مانچسٹر ، قطر ، ابوظبی ، شارجہ ، مسقط ، کویت ، بحرین ، دمام ، ریاض ، جدہ ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، ایران وعراق وغیرہ شامل ہیں ۔

ڈاکٹر طارق قمر کئی علمی وادبی وثقافتی تنظیموں سے وابستہ ہیں جنھیں یہاں قلم انداز کیا جاتا ہے ، ان کی خدمات کے اعتراف میں اب تک انھیں بے شمار انعامات و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے تاہم بطور سند یہاں صرف چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے ہندی اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ، بی بی سی ورلڈ سروس ایوارڈ ، راجیو گاندھی سمان ، وقار ادب ایوارڈ ( پنجاب اردو اکیڈمی ) وغیرہ

ڈاکٹر طارق قمر کی تصنیفات درج ذیل ہیں

1. شجر سے لپٹی ہوئی بیل ( پہلا شعری مجموعہ )

2. پتوں کا شور ( شعری مجموعہ )

3. نئی غزل میں امیجری ( ڈاکٹریٹ کا مقالہ )

4. جرم سخن ( ترتیب وپیشکش کلام حضرت عقیل سنبھلی )

ڈاکٹر طارق قمر نے بہت کم عمری ہی میں ادب میں اس مقام کو پالیا جہاں تک پہونچنے میں داڑھیاں سفید ہوجاتی ہیں اور پاؤں لرزنے لگتے ہیں ، اسے خدا کا خاص فضل وکرم ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شہرت وہاں وہاں ہے جہاں جہاں اردو موجود ہے وہ ابھی جوان ہیں اور جذبہ سے بھرپور ہیں ، ان کے اندر قوم کو بہت کچھ دینے کی صلاحیت موجود ہے اس لیے ان سے بجا طور پر بہت سارے توقعات کو وابستہ کیا جاسکتا ہے ۔

بشکریہ

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک شام ارشاد اعوان کے نام
  • اردو نظم کے نئے آفاق
  • چہار سو
  • سعادت حسن منٹو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ندی کے اُس پار
پچھلی پوسٹ
سندھو کے کنارے سے

متعلقہ پوسٹس

بیوقوف بادشاہ

اگست 28, 2025

روشِ حسنِ مراعات چلی جاتی ہے

دسمبر 31, 2021

اردو شعرا کے حوالےسے چند معلومات

نومبر 5, 2019

بدلتی شام کے سائے

دسمبر 1, 2024

انور مسعود

اکتوبر 19, 2019

محسن نقوی کوئز

جولائی 13, 2025

ایک شام ڈاکٹر ساحل سلہری کے نام

مارچ 27, 2022

خلافت و ملوکیت

جنوری 22, 2025

سالانہ سلام اردو مشاعرہ 2025

ستمبر 28, 2025

جوش ملیح آبادی کوئز

مارچ 25, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

افسر کا فن

مئی 17, 2025

روشِ حسنِ مراعات چلی جاتی ہے

دسمبر 31, 2021

” گم شدہ سائے“ کی رونمائی...

ستمبر 17, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں