خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلڈاکٹر طارق قمر
اردو بابا سپیشلڈاکٹر طارق قمرسوانح حیات

ڈاکٹر طارق قمر

از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2025 0 تبصرے 98 مناظر
99

ڈاکٹر طارق قمر کی پیدائش یکم جولائی 1975 کو سنبھل کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی ، آپ کے گھر میں شروع سے ہی ایک علمی ادبی و روحانی ماحول تھا ، آپ کے دادا پیر سید فضل احمد قادری ایک بڑے عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے دیار سنبھل میں وہ طالبان رشد وہدایت کا مرکز تھے جہاں ہروقت علماء اور عقیدت مندوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا ، گھر کی فضا قال اللہ قال الرسول کی صداؤں سے مشکبار اور علمی مجلسوں سے معمور تھی وہ بیک وقت عربی اردو اور فارسی تینوں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے ، انھیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ تعلق تھا اس تعلق کے اظہار کے لیے انھوں نے “سیرت نور “ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور تعلق مع اللہ کے اظہار کے لیے ایک مسجد تعمیر کروائی جو آج بھی سنبھل میں “پیر جیوں والی مسجد “ کے نام سے مشہور ومعروف ہے ۔

آپ کے والد سید عقیل احمد عقیل بھی اپنے والد کے نقش قدم پر تھے لیکن پیری مریدی کا سلسلہ ترک کردیا تھا ، وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے ، عربی اردو فارسی اور انگریزی چاروں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے ، جرم سخن کے مرتکب تھے اس لیے عقیل تخلص رکھتے تھے ، ان کے قطعات کا پہلا مجموعہ “زخمِ احساس “ کے نام سے شائع ہوا ، اس کے بعد “ جرسِ گُل “ کے نام سے علماء سنبھل کے تذکرے پر دوسری کتاب شائع ہوئی ، انگریزی گرامر پر بھی ایک گراں قدر کتاب تصنیف فرمائی ، آپ کے انتقال کے بعد آپ کا بکھرا ہوا سارا کلام “ جرم سخن “ کے نام سے آپ کے بیٹے نے جمع کرکے شائع کیا ۔

ڈاکٹر طارق قمر کی والدہ ماجدہ بھی ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں اور شعروادب کا اعلی ذوق رکھتی ہیں ، اس طرح کے علمی وادبی ماحول میں ڈاکٹر طارق قمر نے آنکھیں کھولیں ، ابتدائی تعلیم سنبھل ہی میں حاصل کی اس کے بعد اپنے تعلیمی کارواں کو آگے بڑھاتے ہوئے مرادآباد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا ، تین سبجیکٹ اردو انگریزی اور ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اردو مضمون میں گولڈ میڈلسٹ رہے ، رسمی تعلیم کے آخری پڑاؤ یعنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی سے حاصل کی ، بعد ازاں بی بی سی لندن سے جرنلزم کا کورس کیا اور صحافت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اسوقت آپ نیوز 18 لکھنؤ بیورو کے سینئر ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں ۔

ڈاکٹر طارق قمر کو شعری وادبی ذوق وراثت میں ملا ان کے والد کے دوست ڈاکٹر نسیم الظفر نے اسے مزید صیقل کیا ۔

ڈاکٹر طارق قمر کی شعری کائنات بہت وسیع ہے ، ان کی شاعری اپنے عہد کے حالات سے بہت مربوط ہے ، انداز بیان سادا اور شگفتہ ہے اور شعری رموز وعلائم سے مزین ہے ، ان کے فن پر کئی بڑے مستند نقادوں نے تبصرہ کیا ہے اختصار کے پیش نظر یہاں صرف چند ماہرین فن کے تبصرے پیش کیے جاتے ہیں ، پروفیسر شارب رودولوی لکھتے ہیں “ طارق قمر نئی نسل کے معتبر اور نمائندہ شاعر ہیں جن ذہنی اور جذباتی صدموں سے یہ نسل گزررہی ہے ان کا بڑا مؤثر اظہار ان کی غزلوں میں ہوا ہے ان کا ایک امتیاز یہ ہے کہ بعض دوسرے نئے شاعروں کی طرحdr tariq qamar وہ اپنے تجربات کی شدت کو اتنا بے لگام نہیں ہونے دیتے کہ وہ سلیقہ اظہار کی حدوں کو پھلانگ جائے ، ان کا موضوع آج کی زندگی ہے لیکن ان کے پیرایہ بیان میں ماضی کے استاذوں جیسا رکھ رکھاؤ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی تہذیبی وادبی روایت سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ اس کا احترام بھی انھیں ملحوظ ہے “

مرحوم بیکل اتساہی رقم طراز ہیں “ طارق قمر کی شاعری میں اس دور کا لوچ بھی ہے اور لچک بھی اور یہ فولاد کی طرح لوچ اور لچک ہے ان کی شاعری میں جذبات کی جامعیت اور سادگئ بیان کا اختصار ان کی غزلوں کا خاصہ ہے ، بالخصوص ردیف وقوافی کا نیاپن اور اس پر ان کا زور بیان عصری شاعری میں انفرادیت کا درجہ رکھتا ہے “

پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں “ ادبی روایت طارق کے خون کا حصہ ہے اور زبان وبیان پر ان کی گرفت مضبوط ہے ، طارق کے یہاں ایک چنگاری ہے جو مخالف ہواؤں کی زد میں آتے ہی سلگ اٹھتی ہے “

ڈاکٹر طارق قمر غزلوں کے علاوہ نظموں کے بھی شاعر ہیں ، حالات حاضرہ کے حوالے سے انھوں نے کئی بہترین نظمیں تخلیق کی ہیں ، ایک صحافی کتنی بھی کوشش کرلے لیکن وہ اپنی ذات کو اپنے ماحول سے الگ نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ عصری حسیت ان کی شاعری کی جزو لا ینفک بن گئی ہے اور وہ شاعری ہی کیا جو اپنے دور کا ترجمان نہ ہو ۔

ڈاکٹر طارق قمر ایک شاعر ادیب مترجم محقق ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ عہد کے مشاعروں کا ایک مقبول عام چہرہ بھی ہیں ، مشاعروں کے اس دور میں جہاں کلاسیکی مشاعرے اپنا دم توڑ چکے ہیں ، مشاعرے ہلڑ بازی اور تماش بینوں کا اڈہ بن چکے ہیں ، شعراء مشاعرہ پڑھنے اور داد سخن حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک گرنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ڈاکٹر طارق قمر اس بھیڑ سے بالکل الگ دکھائی دیتے ہیں ، وہ نہ اپنا وقار داغدار ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی خاندانی شرافت پر کوئی آنچ آنے دیتے ہیں وہ اس دور میں بھی بامقصد اور سنجیدہ کلام سے دلوں کو گرماتے اور قومی غیرت کو للکارتے ہیں ، وہ اندرون ملک کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی شاندار نمائندگی کرچکے ہیں جن میں لندن ، مانچسٹر ، قطر ، ابوظبی ، شارجہ ، مسقط ، کویت ، بحرین ، دمام ، ریاض ، جدہ ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، ایران وعراق وغیرہ شامل ہیں ۔

ڈاکٹر طارق قمر کئی علمی وادبی وثقافتی تنظیموں سے وابستہ ہیں جنھیں یہاں قلم انداز کیا جاتا ہے ، ان کی خدمات کے اعتراف میں اب تک انھیں بے شمار انعامات و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے تاہم بطور سند یہاں صرف چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے ہندی اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ، بی بی سی ورلڈ سروس ایوارڈ ، راجیو گاندھی سمان ، وقار ادب ایوارڈ ( پنجاب اردو اکیڈمی ) وغیرہ

ڈاکٹر طارق قمر کی تصنیفات درج ذیل ہیں

1. شجر سے لپٹی ہوئی بیل ( پہلا شعری مجموعہ )

2. پتوں کا شور ( شعری مجموعہ )

3. نئی غزل میں امیجری ( ڈاکٹریٹ کا مقالہ )

4. جرم سخن ( ترتیب وپیشکش کلام حضرت عقیل سنبھلی )

ڈاکٹر طارق قمر نے بہت کم عمری ہی میں ادب میں اس مقام کو پالیا جہاں تک پہونچنے میں داڑھیاں سفید ہوجاتی ہیں اور پاؤں لرزنے لگتے ہیں ، اسے خدا کا خاص فضل وکرم ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شہرت وہاں وہاں ہے جہاں جہاں اردو موجود ہے وہ ابھی جوان ہیں اور جذبہ سے بھرپور ہیں ، ان کے اندر قوم کو بہت کچھ دینے کی صلاحیت موجود ہے اس لیے ان سے بجا طور پر بہت سارے توقعات کو وابستہ کیا جاسکتا ہے ۔

بشکریہ

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بادشاہ اور قیدی
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی
  • قرطاس مشاعرہ
  • روبینہ فیصل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ندی کے اُس پار
پچھلی پوسٹ
سندھو کے کنارے سے

متعلقہ پوسٹس

سیاہ شب کے مسافر

جون 10, 2024

دعویٰ تو ہے اسے بھی

جون 12, 2024

فسوں کدہ

فروری 9, 2025

سب سے چھپتے ہیں چھپیں

فروری 4, 2022

فارسی کا آسان قاعدہ

جنوری 21, 2025

ماش کی دال

جولائی 5, 2024

رشید حسین کےاعزازمیں محفلِ سخن

مارچ 10, 2013

ہاٹ اینڈ سار سوپ

جولائی 5, 2024

کوتوال کا بیٹا

اگست 28, 2025

فتح کی خوشخبری

اگست 28, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قلم کو روشنائی دے

جون 10, 2024

پانیوں سے الگ

اپریل 22, 2020

نِگا ہِ ناز جسے آشنائے راز...

جنوری 1, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں