خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلڈاکٹر طارق قمر
اردو بابا سپیشلڈاکٹر طارق قمرسوانح حیات

ڈاکٹر طارق قمر

از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 12, 2025 0 تبصرے 78 مناظر
79

ڈاکٹر طارق قمر کی پیدائش یکم جولائی 1975 کو سنبھل کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی ، آپ کے گھر میں شروع سے ہی ایک علمی ادبی و روحانی ماحول تھا ، آپ کے دادا پیر سید فضل احمد قادری ایک بڑے عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے دیار سنبھل میں وہ طالبان رشد وہدایت کا مرکز تھے جہاں ہروقت علماء اور عقیدت مندوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا ، گھر کی فضا قال اللہ قال الرسول کی صداؤں سے مشکبار اور علمی مجلسوں سے معمور تھی وہ بیک وقت عربی اردو اور فارسی تینوں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے ، انھیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ تعلق تھا اس تعلق کے اظہار کے لیے انھوں نے “سیرت نور “ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور تعلق مع اللہ کے اظہار کے لیے ایک مسجد تعمیر کروائی جو آج بھی سنبھل میں “پیر جیوں والی مسجد “ کے نام سے مشہور ومعروف ہے ۔

آپ کے والد سید عقیل احمد عقیل بھی اپنے والد کے نقش قدم پر تھے لیکن پیری مریدی کا سلسلہ ترک کردیا تھا ، وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے ، عربی اردو فارسی اور انگریزی چاروں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے ، جرم سخن کے مرتکب تھے اس لیے عقیل تخلص رکھتے تھے ، ان کے قطعات کا پہلا مجموعہ “زخمِ احساس “ کے نام سے شائع ہوا ، اس کے بعد “ جرسِ گُل “ کے نام سے علماء سنبھل کے تذکرے پر دوسری کتاب شائع ہوئی ، انگریزی گرامر پر بھی ایک گراں قدر کتاب تصنیف فرمائی ، آپ کے انتقال کے بعد آپ کا بکھرا ہوا سارا کلام “ جرم سخن “ کے نام سے آپ کے بیٹے نے جمع کرکے شائع کیا ۔

ڈاکٹر طارق قمر کی والدہ ماجدہ بھی ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں اور شعروادب کا اعلی ذوق رکھتی ہیں ، اس طرح کے علمی وادبی ماحول میں ڈاکٹر طارق قمر نے آنکھیں کھولیں ، ابتدائی تعلیم سنبھل ہی میں حاصل کی اس کے بعد اپنے تعلیمی کارواں کو آگے بڑھاتے ہوئے مرادآباد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا ، تین سبجیکٹ اردو انگریزی اور ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اردو مضمون میں گولڈ میڈلسٹ رہے ، رسمی تعلیم کے آخری پڑاؤ یعنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی سے حاصل کی ، بعد ازاں بی بی سی لندن سے جرنلزم کا کورس کیا اور صحافت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اسوقت آپ نیوز 18 لکھنؤ بیورو کے سینئر ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں ۔

ڈاکٹر طارق قمر کو شعری وادبی ذوق وراثت میں ملا ان کے والد کے دوست ڈاکٹر نسیم الظفر نے اسے مزید صیقل کیا ۔

ڈاکٹر طارق قمر کی شعری کائنات بہت وسیع ہے ، ان کی شاعری اپنے عہد کے حالات سے بہت مربوط ہے ، انداز بیان سادا اور شگفتہ ہے اور شعری رموز وعلائم سے مزین ہے ، ان کے فن پر کئی بڑے مستند نقادوں نے تبصرہ کیا ہے اختصار کے پیش نظر یہاں صرف چند ماہرین فن کے تبصرے پیش کیے جاتے ہیں ، پروفیسر شارب رودولوی لکھتے ہیں “ طارق قمر نئی نسل کے معتبر اور نمائندہ شاعر ہیں جن ذہنی اور جذباتی صدموں سے یہ نسل گزررہی ہے ان کا بڑا مؤثر اظہار ان کی غزلوں میں ہوا ہے ان کا ایک امتیاز یہ ہے کہ بعض دوسرے نئے شاعروں کی طرحdr tariq qamar وہ اپنے تجربات کی شدت کو اتنا بے لگام نہیں ہونے دیتے کہ وہ سلیقہ اظہار کی حدوں کو پھلانگ جائے ، ان کا موضوع آج کی زندگی ہے لیکن ان کے پیرایہ بیان میں ماضی کے استاذوں جیسا رکھ رکھاؤ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی تہذیبی وادبی روایت سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ اس کا احترام بھی انھیں ملحوظ ہے “

مرحوم بیکل اتساہی رقم طراز ہیں “ طارق قمر کی شاعری میں اس دور کا لوچ بھی ہے اور لچک بھی اور یہ فولاد کی طرح لوچ اور لچک ہے ان کی شاعری میں جذبات کی جامعیت اور سادگئ بیان کا اختصار ان کی غزلوں کا خاصہ ہے ، بالخصوص ردیف وقوافی کا نیاپن اور اس پر ان کا زور بیان عصری شاعری میں انفرادیت کا درجہ رکھتا ہے “

پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں “ ادبی روایت طارق کے خون کا حصہ ہے اور زبان وبیان پر ان کی گرفت مضبوط ہے ، طارق کے یہاں ایک چنگاری ہے جو مخالف ہواؤں کی زد میں آتے ہی سلگ اٹھتی ہے “

ڈاکٹر طارق قمر غزلوں کے علاوہ نظموں کے بھی شاعر ہیں ، حالات حاضرہ کے حوالے سے انھوں نے کئی بہترین نظمیں تخلیق کی ہیں ، ایک صحافی کتنی بھی کوشش کرلے لیکن وہ اپنی ذات کو اپنے ماحول سے الگ نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ عصری حسیت ان کی شاعری کی جزو لا ینفک بن گئی ہے اور وہ شاعری ہی کیا جو اپنے دور کا ترجمان نہ ہو ۔

ڈاکٹر طارق قمر ایک شاعر ادیب مترجم محقق ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ عہد کے مشاعروں کا ایک مقبول عام چہرہ بھی ہیں ، مشاعروں کے اس دور میں جہاں کلاسیکی مشاعرے اپنا دم توڑ چکے ہیں ، مشاعرے ہلڑ بازی اور تماش بینوں کا اڈہ بن چکے ہیں ، شعراء مشاعرہ پڑھنے اور داد سخن حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک گرنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ڈاکٹر طارق قمر اس بھیڑ سے بالکل الگ دکھائی دیتے ہیں ، وہ نہ اپنا وقار داغدار ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی خاندانی شرافت پر کوئی آنچ آنے دیتے ہیں وہ اس دور میں بھی بامقصد اور سنجیدہ کلام سے دلوں کو گرماتے اور قومی غیرت کو للکارتے ہیں ، وہ اندرون ملک کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی شاندار نمائندگی کرچکے ہیں جن میں لندن ، مانچسٹر ، قطر ، ابوظبی ، شارجہ ، مسقط ، کویت ، بحرین ، دمام ، ریاض ، جدہ ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، ایران وعراق وغیرہ شامل ہیں ۔

ڈاکٹر طارق قمر کئی علمی وادبی وثقافتی تنظیموں سے وابستہ ہیں جنھیں یہاں قلم انداز کیا جاتا ہے ، ان کی خدمات کے اعتراف میں اب تک انھیں بے شمار انعامات و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے تاہم بطور سند یہاں صرف چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے ہندی اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ، بی بی سی ورلڈ سروس ایوارڈ ، راجیو گاندھی سمان ، وقار ادب ایوارڈ ( پنجاب اردو اکیڈمی ) وغیرہ

ڈاکٹر طارق قمر کی تصنیفات درج ذیل ہیں

1. شجر سے لپٹی ہوئی بیل ( پہلا شعری مجموعہ )

2. پتوں کا شور ( شعری مجموعہ )

3. نئی غزل میں امیجری ( ڈاکٹریٹ کا مقالہ )

4. جرم سخن ( ترتیب وپیشکش کلام حضرت عقیل سنبھلی )

ڈاکٹر طارق قمر نے بہت کم عمری ہی میں ادب میں اس مقام کو پالیا جہاں تک پہونچنے میں داڑھیاں سفید ہوجاتی ہیں اور پاؤں لرزنے لگتے ہیں ، اسے خدا کا خاص فضل وکرم ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شہرت وہاں وہاں ہے جہاں جہاں اردو موجود ہے وہ ابھی جوان ہیں اور جذبہ سے بھرپور ہیں ، ان کے اندر قوم کو بہت کچھ دینے کی صلاحیت موجود ہے اس لیے ان سے بجا طور پر بہت سارے توقعات کو وابستہ کیا جاسکتا ہے ۔

بشکریہ

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کرنل محمدخان
  • گیلی چُپ
  • کالی یا سفید
  • ہم کو سماعتوں نے نہ دھوکا کبھی دیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ندی کے اُس پار
پچھلی پوسٹ
سندھو کے کنارے سے

متعلقہ پوسٹس

لوبیا کے پکوڑے

جون 11, 2024

الکیمسٹ

مئی 26, 2024

شہزاد نیّرؔ پر عائشہ کرن کا مقالہ

اپریل 23, 2022

شیخ ناسخ کی قصے

دسمبر 15, 2019

رفاقت حیات

فروری 4, 2020

مزدوری کرتے ہیں

مئی 3, 2024

سوچ رہا ہوں اکثر

اگست 29, 2025

انور مسعود

اکتوبر 19, 2019

چکن ملائی بوٹی

جون 11, 2024

اردو شعرا کے حوالےسے چند معلومات

نومبر 5, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈاکٹر عزیز فیصل کے اعزاز میں...

جنوری 19, 2020

نشانِ سجدہ پہ اتنا گمان اچھّا...

ستمبر 6, 2024

حسن فتحپوری

نومبر 17, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں