282
غیب کے دشت میں ہوتے ہیں ٹھکانے میرے
بیٹھی رہتی ہے سدا یاد سرہانے میرے
رات آتے ہی اگر نیند سفر پہ نکلوں
مجھ سے ملتے ہیں کئی خواب پرانے میرے
وقت بے وقت کے رونے کا نتیجہ ہے کہ اب
زنگ آلود ہوئے آئنہ خانے میرے
مجھ کو معلوم نہیں ہے شبِ فرقت کی قسم
کس طرح ختم کیے اشک خدا نے میرے
ہے جو اک پیڑ اداسی کا مرے آنگن میں
وہ مجھے روز سناتا ہے فسانے میرے
صورتِ حال سے معلوم ہُوا ہے مجھ کو
ہیں جہاں بھر کے سبھی درد دوانے میرے
مجھ کو تنہائی سرِ شام بتاتی ہے سعید
کیسے گم گشتہ ہوئے سارے زمانے میرے
مبشر سعید
