خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامیڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو ناولعندلیب بھٹی

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)

از عندلیب بھٹی اکتوبر 30, 2025
از عندلیب بھٹی اکتوبر 30, 2025 0 تبصرے 55 مناظر
56

وطن واپس آکر خوب آرام کرنے پر مَیں خوش تھا ۔ ہمہ وقت اچھا بننے کی کوشش سے جان جو چھٹ گئی تھی ۔اخبار اور میگزین والد صاحب نے بخوبی سنبھال رکھے تھے ۔شام کو میرا دفتر جانے کا اردہ تھا ۔ظہرانے کے بعد کافی پیتے ہوئے اپنے مُلک کے ٹی وی سے لطف اندوز ہونا اچھا لگ رہا تھا۔اچانک ٹی وی اسکرین پر ایک چہرہ دکھائی دیا ۔ اُس عکس میں یوں الجھا کہ ٹِکر پر نگاہ نہ پڑ سکی ۔چاہنے کے باوجود اُس سے جڑی کسی یاد نے ذہن کے دروازے پر دستک نہ دی۔ شا م تک اِدھر اُد ھر کے کاموں میں مصرو ف رہنے کے باوجود اُس شبیہ میں الجھتا رہا ۔میں سر کو جھٹکتا مگر پل سرکتا اور دو نگاہیں پھر سے میرے روبرو ہوتیں ۔
’’ واہ ۔۔تبریز صاحب آپ کیسے صحافی ہیں؟‘‘
رات کو میں خود ہی اپنی یادداشت پر کئی سو بار لعنت ملامت کر چکا تھا ۔ ذہن میںوہ خبر تازہ دم کرنے کے بعداپنا اخبار دیکھنے پر اُس خبر کی تفصیل مہیّا ہو گئی ۔وہ گلوکارہ سویراابراہیم تھی ۔آنے والے روز اِس کے میوزک سکول کا اِفتتاح تھا ۔یہ خبر اُسی فنکشن کے بارے میں تھی ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟سویراابراہیم یا عفیفہ ابراہیم۔۔ جسے میں پہچانتاتھا ۔۔اخبار میںاُس چہرے کا فرنٹ کلوزاپ
۲

تھا ۔ ۔یہ وہ ہو کر بھی وہ نہیں ہے ۔۔مگر اُس جیسی کون تھی ؟سر نیم وہی آنکھیں وہی ۔۔لیکن انداز اور کام ۔۔۔یہ طے تھا کہ اُس جیسی کوئی اور ہو نہیں سکتی ۔۔پھر یہ گہری نیلے رنگ کی جینز کرُتے میں سویراابراہیم کون ہے ۔۔؟اور گلوکارہ ۔۔؟‘‘
’’ تبریز چودھری یہ چار برس میں دنیا کتنا گھوم لی ؟‘‘
’’ ۔۔یہ تو طے تھا کہ مجھے کل اُس فنکشن جانا ہی تھا ۔‘‘
اگلی رو میں نشت لینے کے لیے میں نے اپنی صحافیانہ رسائی کو استعمال کیا ۔۔جس پر اُس وقت بے تحاشا مسرور ہوا ۔۔جب وہ اسٹیج پر نمودار ہوئی ۔اُس کی چال چست اور سبک تھی ۔ہمیشہ کی طرح ۔۔اب اِس میں تمکنت کا اضافہ بھی ہو چکا تھا۔میں پیشہ وارانہ تجزیے میں مصرو ف رہا ۔
مائک پر اُس کی شان میں قلابے ملائے جانے لگے۔جب کہ وہ ایک شاندار کرسی پر ملکہ کی طرح براجمان تھی ۔جب وہ دوپٹے کے ہالے میں چہرہ کافی سے زیادہ چھپائے لیکچر دینے آتی۔۔ ملکہ تو وہ جب بھی لگا کرتی تھی ۔۔مگراب اِس کا چہرہ غرور سے تنا ہوا تھا ۔شایدیہ وقت کا دیا نیا تحفہ تھا ۔شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی وہ عفیفہ ابراہیم تھی ۔۔پھر بھی دل ،دماغ باہم گھتم گھتا تھے ۔مائک پر بیتے دو برس میں اِس کی ترقی وبلندی کے قصیدے سنائے جا رہے تھے ۔جنھیں وہ بھر پور استحقاق سے وصول کر رہی تھی ۔
گویا غرور نے عاجزی کو نکال باہر کیا ۔
نئے آنے والے نے پھر اُس کے دو برس کا سامان سامنے رکھا تو میرا ہاتھ بے اختیار اپنے سر پر چلا گیا ۔اُس سکول سے تو وہ چار برس پہلے رخصت ہوئی تھی ۔پہلے دو برس کا قصّہ کہاں
۳

ہے؟اِسی پل وہ مسکرائی ۔ لگا مجھے پڑھ کر مجھی پر مسکرا رہی تھی ۔میں وہاں ہو کر بھی ماضی میں اُسی کے ساتھ تھا ۔
وہ مائک پر بولی تو سوچا یہاں بھی بہت کچھ نیا ہو گا مگر اُس کی دانشمندی ہمیشہ رہ جانے والی بہار کی مانند اُس کی ذات سے ہنوز پیوستہ تھی ۔اُس نے قدم زمین کی جانب بڑھائے تو سبھی اعلٰی حضرات یوں اٹھ کھڑے ہوئے ۔گویا خاک کے ذررّں کی مانند صدا دے رہے ہوں کہ ہمیں اپنی نظر کی خیرات ڈال دو ۔۔اور وہ ایک ایک نظر کی بھیک ڈالتے میرے پاس سے گزرتے ہوئے لمحہ بھر کو رکی ۔
جتنے میںمیرے دل نے ایک دھڑکن چھوڑی اُتنے میں وہ مڑ کر کہنے لگی ۔
’’ جب بن بلائے آئے ہیں تو بن کہے سبھی کچھ تناول فرمائیے گا ۔مسٹر تبریز صفدر نواز ۔‘‘
میرا جواب اُس کے سراپے اور لہجے میں کہیں کھو گیا ۔ہلکے سبز اور سفید بڑے چیک کی مرادانہ لمبی قمیص پر سیاہ رنگ کی ڈھیلی جینز پر سفید پلو والی بڑی سی کالی سیاہ شال کو ایک انداز سے اوڑھ رکھا تھا ۔لیکن میں نے اِس جدت میں سے دوپٹے کی حیا کو کھوج لیا ۔اس کھوج پر پتا نہیں کیوں بہت خوش تھا ۔میرا جواب اُس کے تجزئے میں کہیں کھو یا رہا ۔ ۔ہوش آیا تو وہ بہت دور کسی کو شرینی میں کونین لپیٹ کر دے رہی تھی ۔
’’ یہ ایسے ہی بات کرتی ہے ۔جانے دیتی ہے نہ آنے دیتی ہے ۔‘‘
ایک سرگوشی میری پشت پر ابھری تھی۔
’’ خود آگاہ ہے ۔جانتی ہے کہ وہ جہاں جائے گی توجہ کا مرکز بنے گی ۔‘‘
یہ کوئی میرا ہم پیشہ تھا ۔میرے مڑ کر دیکھنے پر بوکھلا گیا ۔
۴

’’ سر آپ ۔۔آپ یہاں ۔۔؟‘‘
’’ سنو کھاپی لیا۔‘‘
’’ جی ۔!‘‘
’’کچھ نہیں ۔‘‘
میں اُسے باہر کا راستہ دکھاتے دکھاتے رہ گیا ۔
کچھ دیر بعدموسیقی بلند ہونا شروع ہوئی تواُس نے حمدیہ کلام سنا کر سب کے منہ بند کر دیے ۔
’’ نجی محفل میں نہیں گاتی تو نہ سہی یہ تو اِس کی اپنی ہی محفل ہے۔‘‘
کوئی اپنے دل کی سینکائی کر رہا تھا ۔
’’ میں عفیفہ ابراہیم اور زمانے کی سویرا ابراہیم تک رسائی حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔۔ مگر پتا چلا کہ سبھی واقف کار اعٰلی ہسیتاں وہاں پر بصد شوق موجود تھیں ۔
’’ آپ کی یاداشت آج بھی بہت اچھی ہے ۔‘‘
آخر کار میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گیا ۔
’’ آپ یہ تصدیق کرنے بن بلائے چلے آئے ؟‘‘
کوئی بیگانہ سا تعلق محفل میں آن کھڑا ہوا ۔۔جس پر میں مسرور تھا ۔
’’ آپ ایسے بات تو نہیں کرتی تھیں ؟‘‘
’’ اب کرتی ہوں ۔‘‘
’’ کیا یہ آپ کا غرور ہے ؟‘‘
۵

’’ جی ہاں !‘‘
ُاُس نے احساسات سے عاری لہجے میں جواب دیا ۔
سوالات کا انبار تھا جو اُس کے مختصر جواب کے بوجھ تلے دب گیا ۔
’’ وہ مجمع میں کھڑی تھی ۔۔میں اُس کی تفصیلات میں اکیلا کھڑا تھا ۔لمحے بھر کی مسرت کبھی کی رخصت ہوچکی ۔
’’ کیا تم شکایت کے متحمل ہو تبریز نواز؟جس نے کرنی تھی اُس نے کی نہیں ،تم کر چکے ۔‘‘
تمام راستے یہی سوچ میرے گلے کا ہار بنی رہی ۔سُن بھی رکھا تھا کہ واپسی کا سفر مشکل ہوتا ہے ۔میں ایک بار جھوٹا پڑ گیا تھا۔دوسری بار چھوٹا پڑ گیاہوں۔کیا یہ ایک برا دن تھا ۔۔۔یا بہت اچھا ۔۔؟ جواب کے مخمصے کا شکار تھا ۔
بچوں کو وقت دیتے ،کھانا کھاتے ،بیوی کو سنتے اور ابّو کے دفتر کے کھاتوں پر بات کرتے اپنے اندرکے نہاں خانوں میں کہیں عفیفہ کے ساتھ بات پر بات کر تا رہا ۔ایک شعوری حرکت تھی ۔۔دوسری میری گرفت میں نہیں تھی ۔اُس کے بعدرات ایک بجے اسٹڈی میںسگریٹ سگریٹ کھیلتا رہا۔جب معدہ خوب نکوٹین سے بھر گیا تو میں نے اپنی نشست پر خود کو آسان کر کے کٹہرے میں کھڑا کردینے میں عافیت محسوس کی ۔
عفیفہ ابراہیم چودھری سے میری پہلی ملاقات ایک سکول کے فنکشن میں ہوئی ۔وہ سکول کا سالانہ اکٹھ تھا ۔پتا چلاکچھ روز قبل اُس کی تقرری ہوئی تھی ۔اُس نے چند دنوں میں اُس فنکشن کو بھرپورطریقے سے تیار کر دیا ۔۔ایسا کہ پہلے کبھی اُس سکول کا سالانہ فنکشن ایسا کامیاب نہیںہواتھا
۶

۔اُس نے تین ڈرامے نہ صرف لکھے تھے بلکہ انھیں ڈائریکٹ بھی کیا ۔۔اور جب اچانک سے سر عبدالرحمٰن نے اُسے اپنے دفترمیں بلایا تو وہ سب خواتین اساتذہ خوش ہوگئیں جو اب تک اُس کی کارکردگی اور ملنے والی پذیرائی سے نالاں تھیں ۔انھیں لگا کہ وہ کچھ غلط کر چکی ہے جس پر سرزنش ہونے والی ہے ۔۔مگریہاں قصّہ دیگر تھا ۔اُسے کچھ ترنم سے کہنے کو کہا گیا ۔۔گویا سر اُس کی صلاحتیوں کو اچھی طرح کھنگال چکے تھے ۔ویسے کچھ عرصے بعد اس بات کی حقیقت کھل کر میرے سامنے آ گئی تھی کہ سر عبدالرحمٰن آنے والی ہر نئی ٹیچر کا شجرہ ایسے ہی چھانتے تھے ۔۔تاکہ وقت پڑنے پر اُس ہستی کا درست استعمال کر سکیں ۔اُس روز عفیفہ ابراہیم نے ایک غزل گنگنائی جو درحقیقت ایک ماں کی فریاد تھی جس سے اُس کے تین بچے بچھڑ جاتے ہیں ۔
چھن گئی درد کی دولت کیسے
ہو گئی دل کی یہ حالت کیسے
اب رہا کیا میرے دامن میں
اب اُسے میری ضرورت کیسے
پوچھ اُن سے جو بچھڑ جاتے ہیں
ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے
سمجھنے والے کیا مانیں گے شاید وہ جانتی تھی ۔۔شاید وہ جانتی تھی کہ شاعری کو کس حد تک شاعری نہیں سمجھا جاتا ۔۔اِس لیے اُس نے غزل گنگنانے سے پہلے وضاحت کر دی کہ یہ ایک ماں کی اپنے بچوں کے ہجر میں فریاد ہے ۔وہ الگ بات کہ مجھ سمیت سبھی مرد اساتذہ نے اُس کی وضاحت کو درخورِاعتنا نہ سمجھا ۔
۷

اِس کے بعد میرا اور عفیفہ کا ٹکراو ،بات چیت مسلسل بنیاد پر ہو گیا ۔۔کیونکہ میں اور وہ ایک ہی مضمون پڑھا رہے تھے۔دو طرفہ مختلف وجوہات کی بنا پر میرے اور سر عبدالرحمٰن سمیت سبھی اساتذہ نے اُسے مشکل وقت دیا اور دیتے رہے ۔میری ذات کی حد تک تو یہ تھا کہ میں چونکہ گھر سے نکلا ہوا انسان تھا ۔سو اب مجھے دنیا کے ہر شخص سے بدلہ لینے کا حق تھا ۔قصّہ مختصریہ کہ میں بیرونِ ملک جانا چاہ رہا تھا۔۔ جب کہ والد صاحب میری آزادصحافت کے خلاف ہو کر اپنا ساراکارخانہ میرے سپرد کردیناچاہتے تھے ۔
یہاں تک کہ مجھ سے بہت بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوگئیں جنھیں ماننے سے بہرحال میں انکاری تھا ۔۔اور والد صاحب کو مزید چڑانے کے لیے ایک چھوٹے سے سکول میں نوکری کر لی ۔یہ اور بات کہ اُن کابیٹاہونے کے ناطے مجھے ایک اچھی نوکری ملنے والی بھی نہیں تھی ۔اُس وقت میں ایک خر دماغ بشر تھا ۔۔اِس لیے اپنی دانست میں خود کو مکمل درست انسان کا مکمل روپ مانتا تھا ۔۔سو کسی کو بھی سزا دینے کا مکمل حق بھی رکھتا تھا ۔ایسے میں میرے عتاب کی زد میں عفیفہ ابراہیم چودھری آنے لگی ۔
اُس روز میری بیوی نے چھوٹے بیٹے کے توسط سے فون کیا ۔جس کی وجہ سے میں بری طرح طیش میں مبتلا تھا ۔ثمینہ میرے بے شمار پیسے والے زمیندار تایا کے اجڈ ماحول کی پروردہ تھی ۔جو شادی کے کئی برس بیت جانے پر بھی بھڑکیلے کپڑے پہننا ترک نہ کر سکی ۔اب دوسری بار بابا صاحب کی میں نہیں ماننے والا تھا ۔سو ثمینہ کے اِس چالاک انداز میرے اندر دھواں بھر گیا۔جس کی خلاصی ایک بار پھر عفیفہ پر ہوئی ۔
ہوا کیا کہ کلاس ہفتم کا پرچہ بنانے میںاُس سے ایک معمولی سی چوک ہوگئی۔امتحان
۸

کے روز اُس نے مجھے فون کر کے اُس چھوٹی سی غلطی کو درست کر کے سوالیہ پرچہ بچوں کو دینے کی درخواست کی ۔۔سب کر چکنے کے بعد اگر میں چاہتا تو نظر انداز کر دیتا مگر مَیںاپنی خر دماغی میں عفیفہ اور ثمینہ کے فرق کو بھول چکاتھا ۔۔یو ں ابھی تک سبھی کی اُس سے ٹھنی ہوئی تھی ۔۔میرے رپورٹ کرنے پر سر عبدالرحمٰن نے اُسے میرے علاوہ تین اور اساتذہ کے سامنے برا بھلا کہا ۔یہاں تک کہ اُس کی اُس ڈگری کو چیلنج کر دیا جو وہاں کسی کے پاس نہ تھی ۔سر کو بھی شاید ایک یونیورسٹی کے استاد کو ڈانٹنے پھٹکارنے میں اپنا آپ معتبردکھائی دیتا ۔۔پھرمیں نے بھی جلتی پر تیل چھڑکا ۔
’’ ۔۔یو ں بھی سر فی میل ٹیچرز نے کرنا ہی کیا ہوتا ہے ۔۔ان کے چھوڑے ہوئے اکثر کام تو ہم کرتے ہیں ،پرچوں کی پروف ریڈنگ نہ کریں تو دیکھیں یہی کچھ ہوتا ہے ۔ایسی غلطیوں سے والدین پر ہمارے سکول کا کیسا تاثر قائم ہو گا ۔‘‘
سکول کے تاثرکی بات پر سر ایک بار پھر تازہ دم ہو گئے ۔ اُن کاسیشن طویل ہوتا چلا گیا ۔ وہ سر جھکائے خاموش کھڑی تھی ۔اچانک اُس نے اپنا جھکا سر اوپر اٹھایا اور میری جانب ایک نگاہ کی ۔۔اُس ایک نظر میں ایسا کچھ تو تھا جس نے مجھے ساتویں آسمان سے تحت السرٰی میںلا پھینکا ۔میں نے خود کو بامشکل زمین کی ان تہوںسے باہر نکالا ۔
’’ سر مجھے اجازت دیجیے ۔‘‘
میرے کھڑے ہونے پر سر نے اپنے سفر میں پڑاو کیا۔
’’ مس ـــــــپرچہ ’’بے‘‘ مجھے دے دیں۔میں اُسے دیکھ کر پرنٹ نکلوا لوں گا ۔‘‘
اُسے ڈھونڈنے میں مجھے پچیس منٹ لگے ۔ایک کلاس کی آخری قطار میں بینچ پر سر
۹

ٹکائے بازو لپیٹے وہ ایسے تھی کہ دو بار پہلے دیکھ کر جانے پر بھی دکھائی نہیں دی ۔دکھ اور زلت کو چھپا کر برداشت کرنے کے لیے ایسے ہی گوشے درکار ہوتے ہیں ۔اُسے مخاطب کرنے کے لیے مجھے خود کو پھر سے زمیں کی کسی تہہ سے نکالنا پڑا تھا ۔
اُس نے خاموشی سے پرچہ مجھے تھما دیا۔۔وہ اپنا فولڈر اور بیگ اٹھا کر نکلنے ہی والی تھی کہ مجھے پھر سے مشقت کرنا پڑی ۔
’’ کیا معافی مل سکتی ہے ؟‘‘
’’ نہیں ۔‘‘
اُس کا مختصر جواب خوش کر گیا ۔سرعبدالرحمٰن کو پٹانا میرے لیے کچھ مشکل نہیں تھا ۔یوں بھی وہ میرے خاندانی پس منظرسے واقف تھے ۔۔اور وہ تو وہ تھے جو اگر خدا بن جاتے تو کسی کو بھی پاوں میں بیٹھا سکتے تھے ۔۔اور اگر ضرورت ہوتی تو کسی کے پاوں پڑ سکتے تھے ۔لمبی سے ڈاڑھی کے ساتھ نک سک سوٹ میں تیار آتے ۔۔اور اکژ انجانے میں لیڈیزسٹاف روم میں نکل جاتے ۔کسی ٹیچر کی خوشامد کر رہے ہوتے۔۔ تو اُسی وقت کسی کے فرعون بنے ہوتے ۔
بعد کے کچھ روز نتائج کی تیاری میں کافی مصروف گزرے ۔میں عفیفہ کابوجھ کم کرتا چلا گیا ۔ہمارے کام کافی سے زیادہ کام مشترکہ تھے۔جو پہلے زیادہ تر اُسی کے کاندھوں پر تھے۔۔جنھیں غیر محسوس انداز سے اپنی جانب کر تا چلا گیا ۔
میں حتمی نتائج دیکھنے میں مصروف تھا کہ جانے کیسے احساس ہوا کہ وہ ہے ۔ گردن گھما کر دیکھا تو وہ واقعی وہاں موجودتھی ۔
۱۰

’’ اِس سب کی اگر کوئی بھی وجہ ہے تو میرے لیے بے معنی ہے ۔مجھے سرزنش اور زلت سے لے کراپنے حصّے کا بار خود ہی اٹھانا ہے ۔ میں وہ نہیں کرنا چاہتی جو آپ کر تے رہے ہیں ۔‘‘
ایسے موقعوں پر میری ڈھٹائی اور مسکراہٹ غضب کی ہوتی تھی مگر میں نے خود کو بے حد خاموش پایا ۔اِس کے بعدنتائج کا تمام تر کریڈٹ اُس کے سامان میں رکھ دیا ۔اسمبلی میں سر نے عفیفہ ابراہیم کی صلاحتیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُسے بے حد سراہا ۔۔اور سب کے سامنے درخواست کی کہ گذشتہ برس کی طرح اِ س بار بھی سالانہ نتائج کی تقریب میںبھر پور کردار ادا کرے ۔سب جانتے تھے کہ تقریب کا انچارج میں ہوں ۔میں نے اُسی وقت سر کی پشت پر جا کر سرگوشی کی ۔
’’ اِس بار تقریب کی انچارج مس عفیفہ ہوں گی ۔سر تبریز چودھری مس کے ساتھ ہوں گے ۔‘‘
اگلے ہی لمحے اعلان تبدیل ہو گیا۔۔لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ وہ میری سرگوشی کو سمجھ گئی تھی ۔
’’ اِس سب کی وجہ ۔۔؟‘‘
آج وہ مجھے ڈھونڈ کر میرے سامنے کھڑی تھی ۔
’’ ندامت ۔‘‘
’’ مگر ۔۔‘‘
’’ کیا انسان غلطی کر چکنے کے بعد اُس پرقائم رہے ؟‘‘
میں نے اُس کی بات کاٹ کر بداخلاقی کا مظاہرہ کیا ۔
’’ اِس کے باوجود مسٹر تبریز میں یہاں کام کرنا چاہتی ہوں ۔یہ میری مجبوری ہے شغل نہیں ۔‘‘
’’ کیا آپ مجھے آدھ گھنٹہ دے سکتی ہیں ؟‘‘
11

’’ نہیں ۔‘‘
اُس کا قطعیت بھرا جواب مجھے ایک بار پھر مسرور کر گیا ۔شام تک اپنے اندر کے سوئے ہوئے صحافی کو جگا چکنے کے بعد رات بھر ایک ہی بات سوچتا رہا ۔میں نے صحیح کیا یا غلط ۔
میری رپورٹ کے مطابق اُس کے دس برس سے تین برس تک کے تین بچے تھے ۔بیٹی ابھی صرف چار برس کی تھی ۔اُس کے شوہر کے انتقال کو چھ سات ماہ کا عرصہ ہواتھا۔وہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اُسی یونیورسٹی سے وابستہ ہونے جا رہی تھی ۔۔اور یہاں ایک سکول میں چند ہزار کی نوکری کر رہی تھی ۔مجھے کسی طور وہ تین بچوں کی ماں نہیں لگی ۔
’’ وہ سب میرا ذوق ،ظرف اور اہلیّت نہیںتھا ۔۔مگر مجھ سے ہوا ۔کوئی وضاحت ہے نہ صفائی ۔۔صرف معافی کی درخواست ہے ۔‘‘
’’ دوسری بار کسی مرد کی آنکھ بھیگتے دیکھی ہے ۔‘‘
مجھے پتا چلا اُس کی ایک نظر سے کچھ نظر انداز نہیں ہوتا ۔
تقریب بے حد کامیاب رہی۔سب کے بے حد اصرار پر عفیفہ نے صرف ایک نعت ہی سنائی ۔۔وہ اور میں دونوں سمجھے کہ اُس کی مشکلات کم ہونے جارہی ہیں ۔پہلی بار ہم دونوں اکھٹے غلط ثابت ہونے جا رہے تھے ۔
ٓ میرے بار بار پوچھنے پر بھی جب اُس نے کچھ نہ بتایاتو میں نے اُس کی زندگی کو کھوجنا شروع کیا ۔دریافت تلخ حقائق سامنے لا رہی تھی ۔میں پھر سے شرمسار ہونے لگا ۔اُس کے شوہر کی پسند کی شادی تھی اِس لیے عفیفہ کا اب اپنے سسرال سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔اُس کے چار بھائی دو
۱۲

بہنیں تھیں ۔۔اُس کے کچھ نہ بتانے پر بھی میں نے جان لیا ۔وہ پی ایچ ڈی تھی ۔اور ایک مقامی سکول میں چند ہزار کی ملازمت کر رہی تھی ۔
اُسے دیکھ کر کبھی نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہے ۔ ایک حلاوت اور پاکیزگی تھی جو معصومیت کی ردا اوڑے اُس کے چہرے کا طواف کرتی رہتی ۔اُس کی آنکھ ہمہ وقت ایک حزن کا تاثر لیے رکھتی جس کے لیے شاید وہ بے اختیار تھی۔۔ورنہ وہ اُسے بھی اپنی شخصیت کی مانند نہاں رکھتی ۔اِس کے علاوہ جانے اللہ نے اُسے کیسا رعب اور وقار دیا تھا کہ ہزاروں میںتوجہ کا مرکز بن جاتی ۔۔پھر پتا چلا یہ اُس کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے ۔وقت کا ساز دھیمے دھیمے بجنے لگا۔میری جانب سے ایک غیر محسوس دوستی کا آغازتسلسل میںتھا ۔جیسے جیسے اُ س کے ساتھ کام کرتا گیا اُس کی قابلیت اور صلاحیتوں کا تجربہ ہونے لگا ۔اُن تجربات کا مشاہدہ میرے لیے باعثِ کشش ثابت ہونے لگا ۔وہ اپنی صلاحتیوں کے بارے میں خوش گمان نہیں تھی ۔اِس کی وجہ بھی ہنوز پوشیدہ تھی ۔۔مگر میں اب اُس کے لیے قیاس نہیں کرتا تھا ۔وہ اتنی ہی مختلف تھی ۔۔ہر پل قیاس کی حد کو توڑ دینے والی ایک نئی دریافت ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

عندلیب بھٹی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اپنے محور سے ہٹ رہا ہوں میں
  • کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار
  • ایک سچی حقیقت
  • بھٹوں پر کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کے نام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عندلیب بھٹی

اگلی پوسٹ
امت کی تقسیم اور دارفور کا خون
پچھلی پوسٹ
معاشرتی رویے اور جدیدیت کا چیلنج

متعلقہ پوسٹس

پیار ہے ادھورا تو

فروری 21, 2021

دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم

جولائی 4, 2020

تیرے جیسا نہ کوئی اور ملا تیرے بعد

مارچ 20, 2020

ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے

نومبر 8, 2025

جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا سمجھتا ہوں

جنوری 28, 2020

تصنیف وتالیف کی اہمیت

نومبر 15, 2025

میجر سبطین حیدر

اکتوبر 11, 2025

موسیقی کی حرمت

جون 29, 2020

اپنا ملن کسی کی دلی

نومبر 11, 2025

ہم یہاں کے ہو لیئے

نومبر 11, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مداوائے آلام ہو جائے گا

جون 12, 2020

14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے...

اگست 15, 2020

کورونا ویکسین – دو سال زندگی...

ستمبر 12, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں