خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباامت کی تقسیم اور دارفور کا خون
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

امت کی تقسیم اور دارفور کا خون

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 30, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 30, 2025 0 تبصرے 62 مناظر
63

دنیا کے نقشے پر دارفور ایک عام سا خطہ لگتا ہے۔ مگر جو شخص تاریخ، سیاست اور انسانیت کی آنکھ سے دیکھے، اسے یہ زمین خون، خاک اور المیے کا ایک دردناک استعارہ نظر آتی ہے۔ دارفور کبھی امن و سکون کا علاقہ تھا۔ قافلے گزرتے، گاؤں آباد تھے، کھیتوں میں زندگی لہلہاتی تھی۔ الفاشر، شمالی دارفور کا دارالحکومت، تجارت کا دروازہ تھا۔ یہاں کی منڈیاں دور دراز کے علاقوں سے آنے والے تاجروں سے بھری رہتی تھیں۔ مگر آج وہی شہر ویران ہے، دیواروں پر خون کے دھبے ہیں اور گلیوں میں موت کی خاموشی ہے۔

دارفور کی خانہ جنگی دراصل طاقت، نسل اور مفادات کی وہ کہانی ہے جس میں انسانیت سب سے پہلے ماری گئی۔ دو ہزار تین میں جب جنگ شروع ہوئی، تو بظاہر یہ ایک مقامی تنازع تھا۔ مگر اس کے پیچھے نسل پرستی، ناانصافی اور طاقت کی غیر مساوی تقسیم چھپی ہوئی تھی۔ غیر عرب قبائل اپنے بنیادی حقوق کے لیے اٹھے تھے۔ وہ تعلیم، روزگار، اور زمین پر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر خرطوم کی حکومت نے بجائے اصلاح کے، ان کے خلاف بندوقیں اٹھا لیں۔

حکومت نے "جنجوید” نامی ملیشیا تشکیل دی، جو عرب قبائل سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ ملیشیا گاؤں کے گاؤں جلاتی گئی۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں پر ظلم ڈھائے گئے۔ اندازاً تین لاکھ لوگ مارے گئے اور بیس لاکھ بے گھر ہوئے۔ یہ المیہ اتنا گہرا تھا کہ اقوامِ متحدہ نے اسے نسل کشی (Genocide) قرار دیا۔ مگر دنیا کی عدالتیں خاموش رہیں۔ انصاف ایک بار پھر طاقت کے پاؤں تلے دب گیا۔

بعد میں یہی جنجوید ملیشیا "ریپڈ سپورٹ فورس” (RSF) کہلائی۔ حکومت نے سوچا کہ انہیں فوج میں شامل کر لیا جائے تاکہ یہ قابو میں آ جائیں، مگر ہوا الٹا۔ RSF طاقتور، منظم اور خودمختار ہوتی گئی۔ محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی نے اسے ایک منی آرمی بنا دیا۔ جدید اسلحہ، بھاری فنڈنگ، اور غیر ملکی روابط نے اسے ریاست کے اندر ریاست بنا دیا۔

اپریل دو ہزار تئیس میں سوڈان کی فوج اور RSF کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ خرطوم سے شروع ہونے والی یہ جنگ رفتہ رفتہ ملک کے مغربی حصوں تک پھیل گئی۔ دارفور ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گیا۔ سترہ مہینے تک الفاشر شہر محاصرے میں رہا۔ وہاں کے لوگ بھوک، پیاس اور خوف کے سائے میں جیتے رہے۔ بازار بند، اسپتال تباہ، اور اسکول ویران ہو گئے۔ اکتوبر دو ہزار پچیس میں بالآخر RSF نے الفاشر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی پورا دارفور باغی ملیشیا کے کنٹرول میں چلا گیا۔

اب وہاں ریاست نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی۔ قانون بندوق کے دہانے پر ہے۔ زندگی ایک خواب بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دارفور کے کئی علاقے مکمل تباہی کی زد میں ہیں۔ خوراک ختم، پانی آلودہ، اور دوائیں ناپید ہیں۔ بچے ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے ہیں، عورتیں خوف میں زندگی گزار رہی ہیں، اور مرد یا تو مارے جا چکے ہیں یا کسی کیمپ میں قید ہیں۔

اس المیے کی ایک اور تلخ حقیقت عرب ممالک کا کردار ہے۔ کئی معتبر عالمی رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات RSF کو اسلحہ، پیسہ اور لاجسٹک سہولت فراہم کر رہا ہے۔ بظاہر یہ سب تجارت اور سفارت کے نام پر ہے، مگر دراصل اس کے پیچھے مفادات چھپے ہیں۔ دارفور کی زمین سونے، تانبا، تیل اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ عرب ریاستیں وہاں اپنے مفادات کے لیے سرمایہ لگا رہی ہیں۔ ان کا مقصد اپنی فوڈ سیکیورٹی اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ مگر افسوس، اس قیمت پر مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب انسان خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ سب کس کے لیے ہو رہا ہے؟ کیا ایک مسلمان کا خون اتنا سستا ہو گیا ہے کہ دوسرے مسلمان کے مفاد کی راہ میں بہا دیا جائے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب امتِ مسلمہ کا ضمیر تقسیم ہوا، تو دشمن کو کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑی۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ امت قوموں میں بٹی ہوئی ہے، مفادات میں الجھی ہوئی ہے، اور طاقت کی غلامی میں مصروف ہے۔

بین الاقوامی برادری کا کردار بھی شرمناک ہے۔ اقوامِ متحدہ بیانات دیتی ہے، مغربی دنیا پریس کانفرنسیں کرتی ہے، مگر کوئی عملی قدم نظر نہیں آتا۔ افریقی یونین خاموش ہے، او آئی سی غیر متعلق۔ لگتا ہے کہ دارفور کے مظلوموں کی کوئی آواز سننے والا نہیں۔

یہ جنگ دراصل صرف سوڈان کی نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کی جنگ ہے۔ وہی بے حسی جو فلسطین میں نظر آئی، وہی جو شام اور یمن میں تھی، آج دارفور میں دکھائی دے رہی ہے۔ ہم سب گواہ ہیں مگر بولنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، مگر امت نہیں۔

اگر جنگ جاری رہی تو سوڈان کئی حصوں میں بٹ جائے گا۔ افریقہ کا سب سے بڑا ملک ٹکڑوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ معیشت پہلے ہی برباد ہو چکی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں، اور نوجوان نسل ہجرت پر مجبور ہے۔

الفاشر کا زوال ایک علامت ہے۔ یہ صرف ایک شہر کی شکست نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور انسانی وقار کی شکست ہے۔ ہر بار جب کسی مسلمان کی لاش بے گور و کفن رہتی ہے، تو دراصل امت کے ضمیر پر ایک اور قبر کھلتی ہے۔ دنیا کی خاموشی انسانیت کے ماتم میں بدل چکی ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر آج دارفور میں خاموش رہیں گے، تو کل یہی کہانی کہیں اور دہرائی جائے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے لیے کھڑے ہوں۔ اسلام کا پیغام امن، انصاف اور اتحاد ہے۔ مگر ہم نے اسے صرف الفاظ تک محدود کر دیا ہے۔

دارفور ہمیں ایک بار پھر یاد دلا رہا ہے کہ امت کی تقسیم کا نتیجہ ہمیشہ خون، ویرانی اور ذلت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ لیا تو شاید آنے والے زمانے ہمیں بھی اسی طرح یاد کریں گے جیسے آج ہم اندلس، بغداد اور غرناطہ کے ملبے کو یاد کرتے ہیں۔

اللہ سوڈان کے مظلوموں پر رحم فرمائے۔
اللہ ہمیں اپنے اندر کی بے حسی سے نجات دے۔
اور اللہ ہمیں وہ بصیرت عطا کرے جو ظلم کے خلاف آواز بن سکے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی
  • خدا کا شُکر ہے گرداب سے نکل آیا
  • نا مکیں یہاں کے ہم
  • مس اڈنا جیکسن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ پریشانی مبارک ہو!
پچھلی پوسٹ
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)

متعلقہ پوسٹس

قوم کی توقعات کو قومی توقعات سمجھیں؟

نومبر 14, 2020

ہے خبر گرم

دسمبر 6, 2019

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

ابتداء اور انتہا تها میں

مئی 21, 2020

درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہوسکتا

مارچ 21, 2020

ہر دن ماں کا دن

مئی 13, 2021

ایک معمولی سی عورت

اگست 7, 2022

ایک فطری جلوہ

جنوری 12, 2025

جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

اپریل 11, 2021

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک نظم جو لکھی نہیں جاسکتی

دسمبر 8, 2019

نا مکمل تحریر

جنوری 15, 2020

خوف طاری نہیں ہوتا

اکتوبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں