خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےمس اڈنا جیکسن
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

مس اڈنا جیکسن

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 17, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 17, 2020 0 تبصرے 348 مناظر
349

مس اڈنا جیکسن

کالج کی پرانی پرنسپل کے تبادلے کا اعلان ہوا، طالبات نے بڑا شور مچایا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی محبوب پرنسپل ان کے کالج سے کہیں اور چلی جائے۔ بڑا احتجاج ہوا۔ یہاں تک کہ چند لڑکیوں نے بھوک ہڑتال بھی کی، مگر فیصلہ اٹل تھا۔ ان کا جذباتی پن تھوڑے عرصے کے بعد ختم ہو گیا۔ نئی پرنسپل نے پرانی پرنسپل کی جگہ لے لی۔ طالبات نے شروع شروع میں اس سے بڑی نفرت و حقارت کا اظہار کیا مگر اس نے ان سے کچھ نہ کہا۔ حالانکہ اس کے اختیار میں سب کچھ تھا۔ وہ ان کو کڑی سے کڑی سزا دے سکتی تھی۔ ہر وقت اس کے پتلے پتلے ہونٹوں پر مسکراہٹ تیرتی رہتی۔ وہ سرتا پا تبسم تھی۔ کالج میں کھلی ہوئی کلی کی طرح آتی اور جب واپس جاتی تو دن بھر گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود اس میں مرجھاہٹ کے کوئی آثار نہ ہوتے۔ تھوڑے عرصے کے بعد۔ کالج کی طالبات اس کی گرویدہ ہو گئیں۔ ہر وقت اس سے چمٹی رہتیں۔ ایک دن، جب کوئی جلسہ تھا، مس اڈنا جیکسن نے تقریر کی اور کہا۔

’’میں بہت خوش ہوں کہ تم اب مجھ سے مانوس ہو گئی ہو۔ شروع شروع میں جیسا کہ میں جانتی ہوں تم مجھ سے نفرت کرتی تھیں، میری پیاری بچیو، میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئی تھی۔ مجھے یہاں میرے حاکموں نے بھیجا تھا۔ ایک دن آنے والا ہے جب تم سنجیدہ اور متین بن جاؤ گی۔ تمہاری گود میں بچے کھیلتے ہوں گے، تم سے بھی کہیں زیادہ شریر اور نٹ کھٹ۔ میں تمہاری پرنسپل ہوں۔ لیکن دل میں یہ خیال کبھی نہ لانا کہ میں کوئی ظالم عورت ہوں۔ میں تم سب سے محبت کرتی ہوں۔ اور چاہتی ہوں کہ مجھ سے بھی کوئی محبت کرے۔ ‘‘

یہ تقریر سن کر لڑکیاں بہت متاثر ہوئیں اور مس جیکسن کی محبت میں اور زیادہ گرفتار ہو گئیں۔ سب دل میں نادم تھیں کہ انھوں نے ایسی شریف اور شفیق پرنسپل کے آنے پر کیوں اعتراض کیا۔ ایک دن بی اے کی ایک لڑکی طاہرہ جس نے مس جیکسن کی آمد پر آوازے کسے تھے اور بڑے سخت الفاظ استعمال کیے تھے، پرنسپل کے کمرے میں تھی۔ طاہرہ کا سر جھکا ہوا تھا۔ خوف و ہراس اس کے چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔ پرنسپل کاغذات پر دستخط کررہی تھی۔ بے حد منہمک تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب اس نے طاہرہ کی سسکیوں کی آواز سنی تو اس کو اس کی موجودگی کا علم ہوا۔ ایک دم چونک کر اس نے اپنا ننھا سا فونٹین پین ایک طرف رکھا اور اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کو یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے طاہرہ کو بلایا ہے۔

’’کیا بات ہے طاہرہ؟‘‘

طاہرہ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

’’آپ۔ آپ ہی نے تو مجھے یہاں طلب فرمایا تھا‘‘

ایک لحظے کے لیے مس جیکسن خالی الدماغ رہی، لیکن اسے فوراً یاد آگیا کہ معاملہ کیا ہے۔ طاہرہ کے نام ایک مرد کا محبت نامہ پکڑا گیا تھا۔ یہ اس کی ایک سہیلی ناہید نے مس جیکسن کے حوالے کردیا تھا۔ یہ خط اس کی دراز میں محفوظ تھا۔ مس جیکسن کے مسکراتے ہوئے ہونٹ طاہرہ سے مخاطب ہوئے۔

’’بیٹا۔ یہ کیا بپتا ہے؟‘‘

اس کے بعد اس نے میز کا دراز کھول کر خط نکالا اور طاہرہ سے کہا

’’لو۔ یہ تمہارا خط ہے پڑھ لو اور اگر چاہو تو مجھے ساری داستان سنا تاکہ میں تمہیں کوئی رائے دے سکوں۔ ‘‘

طاہرہ کچھ دیر خاموش رہی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کہے۔ پرنسپل مس جیکسن نے اٹھ کر اس کے کاندھے پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا

’’طاہرہ!شرماؤ نہیں۔ ہرلڑکی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں۔ ‘‘

طاہرہ نے رونا شروع کردیا۔ بوڑھا چپڑاسی کسی کام سے اندر داخل ہوا تو مس جیکسن نے اس سے کہا۔

’’نظام دین! ابھی تم باہر ٹھہرو۔ میں بلالوں گی تمہیں۔ ‘‘

جب وہ چلا گیا تو مس جیکسن نے بڑے پیار سے طاہرہ سے کہا۔

’’محبت ایک عظیم جذبہ ہے۔ مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن تمہاری عمر کی لڑکیاں اکثر دھوکا کھا جایا کرتی ہیں۔ مجھے تمام واقعات بتا دو۔ میں تم سے عمر میں بہت بڑی ہوں مگر مجھ سے آج تک کسی نے محبت نہیں کی، لیکن میں نے کئی استوار اور نااستوار محبتیں دیکھی ہیں۔ بیٹا، مجھ سے گھبراؤ نہیں۔ بیٹھ جاؤ۔ ‘‘

طاہرہ اپنے دوپٹے سے آنسو پونچھتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔ پرنسپل اپنی گھومنے والی کرسی پر نشست اختیار کرتے ہوئے اپنی شاگرد سے بولیں

’’اب دیر نہ لگاؤ۔ بتا دو۔ مجھے بہت سے ضروری کام کرنے ہیں۔ ‘‘

طاہرہ کچھ دیر ہچکچاتی رہی۔ لیکن اس کے بعد اس نے اپنا دل کھول کے اپنی پرنسپل کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے بتایا کہ ایک نوجوان لیکچرار ہے جس سے وہ ٹیویشن لیتی ہے۔ قریب قریب ایک سال سے وہ باقاعدہ پانچ بجے اس کے گھرمیں آتا رہا ہے۔ اس کی باتیں بڑی دلفریب ہیں۔ شکل و صورت کے لحاظ سے بھی خوب ہے۔ فارسی کے اشعار کا مطلب سمجھاتا ہے تو ایک نقشہ کھینچ دیتا ہے۔ اس کی زبان میں غضب کی مٹھاس ہے۔ طاہرہ نے مزید بتایا کہ اس کے دل میں لیکچرار کے لیے جگہ پیدا ہو گئی۔ آہستہ آہستہ بے قرار رہنے لگی۔ اس کو ہر وقت اس کی یاد ستاتی۔ پانچ بجنے والے ہوتے تو اس کو یوں محسوس ہوتا کہ وہ مجسم گھڑی بن گئی ہے۔ اس کا رواں رواں ٹک ٹک کرنے لگتا۔ وہ اس سے زبانی تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، اس لیے کہ شرم و حیا اجازت نہیں دیتی تھی۔ اس نے ایک رات لیکچرار کے نام خط لکھا۔ اس نے اپنی زندگی بھر میں ایسا خط کبھی نہیں لکھا تھا حالانکہ وہ اپنے خاندان میں خط لکھنے کے معاملے میں کافی مشہور تھی کہ ہر بات بڑے سلیقے سے لکھتی ہے، لیکن یہ خط لکھتے ہوئے اسے بڑی دقتیں پیش آئیں۔ القاب کیا ہو، مضمون کیسا ہونا چاہیے، پھر یہ سوال بھی اس کے درپیش تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ یہ خط اس کے باپ کے حوالے کردے۔ وہ ایک عرصے تک سوچتی رہی۔ اس کے دل میں کئی خدشے تھے لیکن آخر اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ خط ضرور لکھے گی۔ چنانچہ اس نے رائٹنگ پیڈ کے کئی کاغذ ضائع کرکے چند سطور اس لیکچرار کے نام لکھیں:۔

’’آپ بڑے اچھے استاد ہیں۔ مجھے اس طرح پڑھاتے ہیں جیسے۔ جیسے آپ کو مجھ سے خاص لگاؤ ہے۔ ورنہ اتنی محنت کون استاد کرتا ہے۔ میرا تو یہ جی چاہتا ہے کہ ساری عمر آپ میرے استاد اور میں آپ کی شاگرد رہوں۔ بس اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں لکھ سکتی۔ ‘‘

یہ خط اس نے کئی دن اپنے پرس میں رکھا۔ اس کے بعد جرأت سے کام لے کر اس نے کاغذ کا یہ پرزہ اپنے استاد کی جیب میں دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ ڈال دیا۔ دوسرے روز جب وہ شام کو ٹھیک پانچ بجے آیا تو اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہ کیا۔ اسے سخت مایوسی ہوئی۔ دو گھنٹے کے بعد جب وہ چلا گیا تو اس نے بڑے چڑچڑے پن سے اپنی کتابیں اٹھائیں اور اپنے کمرے میں جانے لگی۔ ایک کتاب اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ طاہرہ نے بڑی بے دلی سے اٹھائی تو اس کے اوراق میں سے کاغذ کا ایک ٹکڑا جھانکنے لگا۔ اس نے یہ ٹکڑا نکالا۔ اس پر چند الفاظ مرقوم تھے۔ طاہرہ کے زخمی جذبات پر مرہم کے پھاہے لگ گئے۔ اس کے استاد نے یہ لکھا تھا:

’’مجھے تمہاری تحریر مل گئی ہے۔ میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں۔ زندگی بھر تمہارا استاد رہنے کا تو میں وعدہ نہیں کرسکتا لیکن خادم ضرور رہوں گا۔ میں استادی شاگردی سے تنگ آگیا ہوں۔ تمہاری غلامی اس سے ہزار درجے بہتر ہو گی۔ ‘‘

اس کے بعد دونوں میں کتابوں کے اوراق کی اوٹ میں خط و کتابت ہوتی رہی۔ لیکن طاہرہ کے والدین کو یکلخت شہر چھوڑنا پڑا، اس لیے کہ اس کے باپ ظہیر کی تبدیلی کسی سلسلے میں دوسرے شہر میں ہو گئی۔ طاہرہ کو ہوسٹل میں داخل کردیا گیا، جس کی سپرنٹنڈنٹ مس جیکسن تھی۔ اس کا قیام اسی ہوٹل میں تھا۔ کالج سے فارغ ہو کر آتی تو اپنے کمرے میں اکثر ناول پڑھتی رہتی۔ عجیب عجیب قسم کے۔ ہوسٹل کی لڑکیاں اس کے پاس آتیں اور اس کے کئی ناول چرا کے لے جاتیں اور مزے لے لے کر پڑھتیں۔ پھر واپس وہیں پررکھ دیتیں جہاں سے انھوں نے اٹھائے تھے۔ مس جیکسن کو لڑکیوں کی اس شرارت کا کوئی علم نہیں تھا۔ طاہرہ نے بھی کئی ناول پڑھے اور اس کا عشق اپنے استاد کے عشق سے بڑھتا گیا۔ وہ ہوسٹل سے باہر نکل نہیں سکتی تھی اس لیے اس نے ایک خط لکھا اور اسے کسی نہ کسی طریقے سے اپنے استاد تک پہنچا دیا۔ یہ خط جو اس نوجوان لیکچرار نے جواب میں لکھا تھا، غلط ہاتھوں میں پہنچ گیا۔ یعنی ناہید کے پاس جس کو طاہرہ سے صرف اس لیے بغض تھا کہ وہ اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوب صورت تھی۔ یہ خط اس نے پرنسپل کے حوالے کردیا۔ طاہرہ، جب اپنی ساری داستان سنا چکی جو مس جیکسن نے بڑی دلچسپی لیتے ہوئے سنی تو اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد طاہرہ سے کہا۔

’’اب تم کیا چاہتی ہو؟‘‘

’’مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ جو فیصلہ فرمائیں گی، مجھے منظور ہو گا۔ ‘‘

مس جیکسن اپنی کرسی پر سے اٹھیں اور کہا

’’نہیں طاہرہ، محبت کے معاملے میں مجھے فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔ یہ مذہب سے بھی زیادہ مقدس جذبہ ہے۔ تم خود بتاؤ۔ ‘‘

طاہرہ نے شرم سے بھری ہوئی آنکھیں جو نم آلود تھیں، جھکا کر صرف اتنا کہا

’’میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ ‘‘

مس جیکسن نے ٹھیٹ پرنسپلانہ انداز میں پوچھا۔

’’کیا وہ بھی چاہتا ہے؟‘‘

’’اس نے ابھی تک اس خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن وہ۔ ‘‘

’’میں سمجھتی ہوں۔ وہ بھی تو تم سے محبت کرتا ہے۔ اسے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا تمہارے والدین رضا مند ہو جائیں گے؟‘‘

’’ہرگز نہیں ہوں گے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ وہ میری منگنی ایک جگہ کر چکے ہیں۔ ‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’میرے خالہ زاد بھائی کے ساتھ۔ ‘‘

’’ہم کرسچینوں میں تو ایسا نہیں ہوتا۔ ‘‘

’’ہمارے ہاں تو اکثر ایسا ہوتا ہے۔ ‘‘

’’خیر چھوڑو اس بات کو۔ کیا میں تمہارے اس لیکچرار کو اپنے پاس بلا کر اس سے مفصل بات چیت کروں؟ طاہرہ یہ زندگی بھر کا سوال ہے ایسا نہ ہوکوئی غلطی ہو جائے۔ میں عمر میں تم سے بہت بڑی ہوں۔ میں تمہیں صحیح مشورہ دوں گی۔ ایک مرتبہ تم مجھے اس سے مل لینے دو۔ ‘‘

طاہرہ نے شکریہ ادا کیا۔

’’آپ ضرور ملیے لیکن۔ اس سے کہہ دیجیے گا۔ کہ۔ ‘‘

پرنسپل نے بڑی شفقت سے کہا۔

’’رک کیوں گئی ہو۔ جو کچھ تم اس سے کہنا چاہتی ہو، مجھ سے کہہ دو۔ ‘‘

’’جی۔ بس صرف اتنا کہ اگر اس کے قدم مضبوط نہ رہے تو میں خود کشی کرلوں گی۔ عورت زندگی میں۔ صرف ایک ہی مرد سے محبت کرتی ہے۔ ‘‘

محبت کا لفظ سنتے ہی پرنسپل مس اڈنا جیکسن کے دل کی جھریاں اور زیادہ گہری ہو گئیں۔ اس نے طاہرہ کے آنسو اپنے رومال سے بڑی شفقت کے ساتھ پونچھتے ہوئے رخصت کردیا۔ اس کے بعد اس نے گھنٹی بجا کر چپڑاسی کو اندر بلایا۔ اس نے بڑے ضروری کاغذات اس کے میز پر رکھے۔ اس نے سرسری نظر سے ان کو دیکھا۔ ایک کاغذ پر طاہرہ کے اس لیکچرار کے نام خط لکھا کہ وہ ازراہ کرم اس سے کسی وقت شام کو بورڈنگ ہاؤس میں ملے۔ یہ خط اس نے لفافے میں ڈالا، پتہ لکھا اور چپڑاسی سے کہا کہ فوراً سائیکل پر جائے اور یہ لفافہ لیکچرار صاحب کو پہنچا دے۔ چپڑاسی چلا گیا۔ شام کو مس اڈنا جیکسن اپنے کمرے میں بیٹھی پرچے دیکھ رہی تھی کہ نوکر نے اطلاع دی کہ ایک صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ صاحب کون ہیں، چنانچہ اس نے نوکر سے کہا۔

’’انھیں اندر لے آؤ!‘‘

طاہرہ کا استاد ہی تھا جو اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ مس جیکسن نے اس کا استقبال کیا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ جون کا مہینہ، سخت تپش تھی۔ مس جیکسن اس سے بڑے اخلاق کے ساتھ پیش آئی۔ نوجوان لیکچرار بہت متاثر ہوا۔ اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ مس اڈنا جیکسن طاہرہ کے بارے میں بات شروع کرنے ہی والی تھی کہ اس پر ہسٹیریا کا دورہ پڑ گیا۔ اس کو یہ مرض بہت دیر سے لاحق تھا۔ لیکچرار بہت فکر مند ہوا۔ گھر میں کوئی نوکر نہیں تھا، اس لیے کہ وہ چھٹی کرکے کہیں باہر سو رہے تھے۔ اس نے خود ہی جو اس کی سمجھ میں آیا، کیا۔ جب۔ کالج گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد کھلا تو لڑکیوں کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ ان کی پرنسپل مس اڈنا جیکسن سے اس لیکچرار کی شادی ہو گئی ہے، جس کو طاہرہ سے محبت تھی۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ لیکچرار لطیف کی عمرپچیس برس کے قریب ہو گی اور مس اڈنا جیکسن کی لگ بھگ پچاس برس۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر
  • فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں!
  • وہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی
  • مقصد ِحیات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وقار محل کا سایہ
پچھلی پوسٹ
پرانی شراب نئی بوتل

متعلقہ پوسٹس

پانچ قبریں

دسمبر 23, 2021

روایات سے روشنی تک

جنوری 4, 2026

عید کی جوتی

دسمبر 30, 2017

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!

اگست 28, 2025

بلوچستان کے تعلیمی نظام کی ان کہی داستان

دسمبر 14, 2025

عید قربان معارف و اسباق

جولائی 31, 2020

اعصاب شکن!

فروری 26, 2024

پاک بحریہ کا کارنامہ

جنوری 22, 2026

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

دسمبر 6, 2025

ننھے بچوں کو موبائل دیں

مارچ 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرگوشیِ حسن

دسمبر 22, 2024

انشاء کا اعظمی کو تیسرا خط

دسمبر 2, 2019

رازکی بات ہے کسی کو بتایئے...

ستمبر 1, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں