خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025 0 تبصرے 90 مناظر
91

(6 دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

سید علی عباس جلالپوری برصغیر کے ان چیدہ چیدہ دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے فکری سفر کو روایتی حدود سے آزاد رکھا۔ ان کا تعلق ایسے سید گھرانے سے تھا جہاں عربی، فارسی اور کلاسیکی حکمت کی فضا موجود تھی۔ ڈنگہ اور جلالپور شریف کی تہذیبی فضا میں پلنے والے جلالپوری نے گھر کی کتابوں، ادبی رسائل اور داستانوی ادب کے زیر اثر ابتدائی ذہنی تربیت پائی۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کے لیے یہ دور سوال اٹھانے اور نئی دنیا کو سمجھنے کا زمانہ تھا، اور عباس جلالپوری نے اسی دور کے بدلتے ہوئے فکری دباؤ میں اپنی سمت بنائی۔عباس جلالپوری اپنے گھر کے ماحول کے بارے میں کہتے تھے:

” خوش قسمتی سے میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جہاں علم و حکمت کا چرچا تھا۔ ہمارے ہاں کم وبیش تمام ادبی رسائل آتے تھے۔ میں ساتویں جماعت میں تھا کہ بچوں کے رسالے ” پھول“ کے ساتھ ساتھ “ ہمایون”، “زمانہ” وغیرہ میں چھپے ہوئے افسانے بھی پڑھنے لگا تھا۔ ان کے علاوہ خواجہ حسن نظامی، راشد الخیری اور نذیر احمد دہلوی کی کتابیں بھی میری نظر سے گزرنے لگی تھیں۔ اس زمانے میں ایک دن اپنے کتب خانے کو کھنگالتے ہوئے دو نایاب کتب مرے ہاتھ لگیں جن کے مطالعے نے مجھے دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا۔ ان میں، ایک ” داستان امیر حمزہ“ اور دوسری ” الف لیلیٰ، “ تھی“۔

گورنمنٹ کالج لاہور کی علمی فضا نے ان کی ذہنی تربیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ احمد شاہ پطرس بخاری جیسے اساتذہ نے نہ صرف فکری رہنمائی دی بلکہ جلالپوری کے اندازِ نظر کو بھی تشکیل دیا۔ فلسفہ، تاریخ، مذہبیات، شاعری، موسیقی ان سب سے ان کی دلچسپی نے انہیں ایک ہمہ جہت دانشور بنایا۔ ول ڈیورانٹsyed ali abbas jalalpuri سے خط و کتابت اور علمی گفتگو اس بات کی گواہ ہے کہ وہ فلسفے کو محض کتابی اصطلاحات کے بجائے ایک زندہ تجربہ سمجھتے تھے۔

ملازمت کے دوران وہ گاؤں، قصبوں اور شہروں کی عملی زندگی سے گزرے۔ یہ تجربہ ان کے شعور کو زیادہ زمینی اور حقیقت شناس بناتا ہے۔ گوجرانوالہ، ملتان، لاہور، سیٹلائٹ ٹاؤن ان سب مراحل نے ان کی تحریروں میں وہ حقیقت پسندانہ انداز پیدا کیا جس نے انہیں تحریک خرد افروزی کا نمایاں نام بنایا۔ عباس جلالپوری کہتے ہیں:

”مسٹر ھیچ میرے ٹٹوریل گروپ کے انچارج تھے۔ انہوں نے مجھے دنیا کی سو بہترین کتابوں کی فہرست دی جس میں ہر موضوع پر کتابیں شامل تھیں، مجھے عام اور کلاس کی کتاب کا فرق یہاں سے معلوم ہوا“۔

عباس جلالپوری نے اردو میں جس موضوعاتی تنوع کے ساتھ کام کیا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ فلسفہ ہو، تصوف ہو، سماجیات ہو یا مذہبی فکر ہر میدان میں انہوں نے واضح اور غیر مبہم موقف پیش کیا۔ ”روح عصر“، ”روایات فلسفہ“، ”عام فکری مغالطے“، ”مقامات وارث شاہ“، ”اقبال کا علم الکلام“، ”رسوم اقوام“ اور ”خردنامہ“ جیسی کتابیں ان کی تحقیقی محنت اور فکری استقامت کی دلیل ہیں۔ جلالپوری کہا کرتے تھے:

” اگر میں فلسفی نہ ہوتا تو موسیقار ہوتا“۔

انہوں نے رائج تصورات کے ابطال یا تصحیح میں کوئی تامل نہیں کیا۔ اقبال کے فلسفی ہونے پر اعتراض ہو یا تصوف کی تعبیر نو، عباس جلالپوری نے ہمیشہ دلیل اور استدلال کو بنیاد بنایا۔ ان کا تعلق ایسی نسل سے تھا جو فکری آزادی کو ذاتی وقار سمجھتی تھی، اور اپنی تحریر میں اس آزادی کا اظہار بھی کرتی تھی۔ عباس جلالپوری اپنے بارے میں کہتے ہیں:

”دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جس کے لیے میں جان بھی دے سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے کوئی دبا نہیں سکتا۔ نہ نظریئے سے، نہ باتوں میں، نہ کسی قسم کے رعب سے، جب سے ہوش سنبھالا ہے میں باغی ہوں“۔

اگرچہ جلالپوری بنیادی طور پر فلسفی اور محقق کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، مگر ان کے شعری اظہار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طالب علمی کے زمانے میں یہ شوق زیادہ نمایاں تھا، مگر بعد میں فکری تحریروں نے شاعری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے باوجود ان کی شاعری میں وہی فکری شفافیت، مشاہدے کی گہرائی اور زبان کی سادگی ملتی ہے جو ان کی نثری تحریروں کا خاصہ ہے۔

ان کا کلام روایتی رومان یا رسمی تصوف سے الگ نظر آتا ہے۔ وہ جذبات کی شدت سے زیادہ ذہنی وضاحت اور فکری سچائی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں موضوعات کی سنجیدگی، بیانیے کی سادگی اور اظہار کی راست گوئی غالب رہتی ہے۔ عباس جلالپوری کی شاعری میں تین بنیادی رنگ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں جن میں سرفہرست ان کی فکری تمثیل اور فلسفیانہ طنز ہے ۔ ان کے اشعار میں بیشتر معاملات زندگی کو فلسفیانہ شدت کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ وہ معاشرتی تضادات، مذہبی تعصبات اور ذہنی جمود پر طنز کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سوال اٹھانے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

ان کی شاعری میں انسان دوستی کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کا ذکر بھی جابجا ملتا ہے۔ تحریک خرد افروزی کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔(تحریکخِردافروزی اٹھارھویں صدی کی مشہور عقلیاتی تحریک کا عنوان ہے جو ہالینڈ اور فرانس سے شروع ہوئی اور مقبول ہوکر تمام مغربی ممالک میں پھیل گئی) وہ انسان کی عظمت، فطری آزادی اور شعور کی بلندی کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان اپنی عقل کے ذریعے اپنی قسمت لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عباس جلالپوری روایتی شاعری سے بغاوت نہیں کرتے، مگر اسے اندھی تقلید کی نذر بھی نہیں ہونے دیتے۔ وہ روایت کو پرکھ کر اپناتے ہیں اور نئے فکری جواز کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کلاسیکی بہاؤ بھی ہے اور جدید ذہن کا سوال بھی ان کی شاعری کا حصہ ہے۔

عباس جلالپوری کی شاعری اگرچہ ان کے فکری کام کے مقابلے میں کم حجم رکھتی ہے، مگر اپنی فطرت میں اہم ہے۔ یہ شاعری کسی روایتی شاعر کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک مفکر کا تخلیقی رد عمل ہے۔ ان کے اشعار میں رزمیہ شان نہیں، جذبات کی بارش نہیں، بلکہ سوچ کی ٹھہراؤ اور سوالات کی حرارت موجود ہے۔ وہ قومی، فکری اور تہذیبی تاریخ میں ایسے مقام پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جہاں شاعر، محقق اور فلسفی ایک شخصیت میں گھل جاتے ہیں۔ محمد ارشاد رقمطراز ہیں:

”اس بات کو تو معرض بحث میں نہیں لایا جاسکتا کہ اس انداز فکر کا جسے پروفیسر صاحب مغالطہ کہتے ہیں واضح طور پر تہذیب و علوم کے ارتقاء میں رکاوٹ ہے۔ اس لحاظ سے عام فکری مغالطے کی علمی حیثیت عیاں ہے اور غالباً اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جو دنیا کی کسی زبان میں لکھی گئی ہے۔“

سید علی عباس جلالپوری کی زندگی مسلسل جدوجہد کا سفر تھی۔ فکری آزادی، علمی دیانت، سماجی حقیقت پسندی اور دلیل پر مبنی سوچ ان کا اثاثہ تھی۔ سید علی عباس جلالپوری کہتے ہیں:

” راقم نے bayle کی طرح علمی اور تحقیقی نکتہ نظر سے اس لغات کی تدوین کی ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن و دماغ کو روشن کیا جائے اور انہیں تنگ دلی و تنگ نظری سے نجات دلاکر ایسی معلومات بہم پہنچائی جائیں جن سے قاری کی نگاہیں وسعت اور ذہن و قلب میں کشادگی پیدا کی جائے اور وہ انفرادی و اجتماعی مسائل کا جدید سائنس اور جدید فلسفے کی روشنی میں سامنا کرسکیں“۔

اردو دنیا میں وہ نہ صرف خرد افروزی کے علمبردار رہے بلکہ ایسے محقق بھی ثابت ہوئے جنہوں نے روایت کے دباؤ کے بغیر زندہ سوال اٹھائے۔ ان کی شاعری میں اگرچہ کمیت کم ہے مگر کیفیت نمایاں ہے۔ یہ شاعری ایک فلسفی کا ذاتی بیان ہے، جو اپنے وقت کی ذہنی گتھیوں کو لفظوں میں کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کی فکر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ایک روشن تصور رکھتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح ان کی تحریروں کے پہلے جملے نے قاری کو چونکایا تھا۔

نمونہ کلام

آنکھوں کے ستاروں کو چمکائے ہوئے رہنا
رخسار کے پھولوں کو مہکائے ہوئے رہنا

دزدیدہ نگاہوں سے رہ رہ کہ تکے جانا
کینائے ہوئے رہنا، گھبرائے ہوئے رہنا

اظہار محبت کی جرات نہ کبھی کرنا
سید تیری قسمت ہے پچھتائے ہوئے رہنا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کتنی دور سے چلتے چلتے
  • سندھ دریا کا پانی
  • فطرت کے بھکاری
  • تہذیبِ تنہائی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نادان ادھاری
پچھلی پوسٹ
ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

متعلقہ پوسٹس

نادان ادھاری کا خط

اکتوبر 14, 2025

جمہوریت یاانتقامی سیاست!!

فروری 26, 2021

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

سوچ کی غلامی

اگست 24, 2025

اُردو کی مخالفت: قومی یکجہتی پر حملہ

ستمبر 21, 2025

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

اپریل 14, 2021

اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ

فروری 12, 2019

رنگ برنگی عینکیں !

جولائی 12, 2021

دلکش لگیں جناب، بلوچی لباس میں

دسمبر 8, 2025

پاکستان کیسے ترقی کر سکتا ہے

مارچ 25, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

بزمِ نشاطِ خاص میں ان کا...

اپریل 6, 2026

چھپکلی بے دیوار

دسمبر 17, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں