محترم انصاری صاحب!
آداب!
میں نادان ادھاری مہاجر میرٹھی ثم بدحال پوری آپ کی خدمت میں یہ عریضہ لکھنے کی جسارت کررہا ہے اور مجھے امید ہے کہ تحریرِ ہذا میں درج میری گزارشات پر آپ صدقِ دل سے غور فرماکر ان کے پورا کرنے کے فرامین جاری فرمائیں گے۔ حضور! آپ بھی میرٹھ سے ہیں اور بندہ ناچیز کا تعلق بھی اُسی مٹی سے ہے جس نے ہندوستان کو غالب اور پاکستان کو اسمعیل میرٹھی جیسے شاعر سے سرفراز فرمایا ہے۔صاحب! مجھے تو بہت اچھی طرح یاد ہے آپ کا البتہ علم نہیں کہ ہمارے خاندان میرٹھ میں پڑوسی ہوا کرتے تھے اور آپ کے ابا حضور تو اکثر دن کا کھانا ہمارے ہاں ہی تناول فرما کر وہیں قیلولہ بھی فرما لیا کرتے تھے۔ آپ کے دادا جان غفرلہ جو سخاوت میں یکتائے زمانہ اور خویش پروری میں اپنی مثال آپ تھے اُن کا زیادہ تر وقت میرے دادا جان غفرلہ کے ساتھ ہی بسر ہوتا تھا اور دونوں صاحبان میرٹھ کی ٹھنڈی سڑک پر غم غلط کرنے کےلیے مشاغل فرماکر وقت گزاری کیا کرتے تھے۔ مجھے یہ سب واقعات کل کی طرح ازبر ہیں اور حافظے میں بتمام و بکمال محفوظ ۔آپ کی عمر بھی اُس وقت قریب سات سے آٹھ برس ہوگی اور میں بھی کم و بیش اُتنا ہی تھا جب تقسیم کا تنازعہ پیش آیا تھا اور ہم لوگ وہاں سے ہجرت کرکے یہاں چلے آئے تھے جبکہ بعد میں علم ہوا کہ آپ کا خاندان بھی میرٹھ سے اٹھ کر حیدرآباد چلا آیا اور اب ماشاء اللہ کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہوا ملک کے متمول خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔
جناب انصاری صاحب! میں بے حد شرمندہ ہوں کہ آپ کا مکمل نام اس وقت ذہن سے نکل گیا تاہم صرف نام ہی نکلا ہے آپ یا آپ کا خاندان اور اُن کی نیکیاں نہیں۔ اور میں اس وقت بھی اُسی نیکی کی جانب ہی آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ صاحب! قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن میں چھوٹا کم سن اور نادان بچہ تھا اور آپ کے والد ماجد جن کی بابت مجھے علم نہیں کہ غفرلہ لکھنا ہے یا سلمہ اُن کے ساتھ کھیلتا ہوااُن کے ڈاچ دینے کی وجہ سے گلی میں گرگیا تھا جس کی وجہ سے بہت رو یا تھا۔ میں نہ جانے کب تک روتا رہتا کہ اتنے میں آپ کےدادا جان غفرلہ مسجد سے نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد واپس آرہے تھے وہ میرے پاس آئے ، مجھے اٹھایا اور پھر چپ کراتے ہوئے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے ایک عدد کھلونا ٹرک جس کی قیمت اُس وقت ایک تولہ سونا کے برابر تھی وہ میرٹھ کے میلے سے لیکر دیں گے۔ اُس زمانے میں میرٹھ کا میلہ بہت مشہور تھا اور دور دراز سے لوگ دیکھنے آتے تھے۔ میں نادان بچہ تھا اُن کے وعدے کا اعتبار کرکے چپ ہولیا مگر اُن کو شاید وعدہ یاد نہیں رہا اور میں سال بھر میلے کا انتظار کرتا رہا کہ ٹرک ملے گا مگر میلہ گزر بھی گیا ٹرک بیچنے والے چلے بھی گئے لیکن اُن کو ٹرک خرید کر مجھے دینا یاد نہیں رہا۔ میں نے حالانکہ میلے کے دنوں میں کئی بار آپ کے گھر کے آگے جاکر ٹرک والے سٹائل میں ہارن بھی بجائے کہ اُنہیں یاد آجائے مگر بے سود۔ میرا گلہ بیٹھ گیا لیکن اُنہیں وعدہ یاد نہ آیا۔ اسی دوران وہ چل بسے اور ہم بھی وہاں سے چل دیے جس کی وجہ سے وہ معاملہ یعنی ٹرک کی خریداری کا کھٹائی میں پڑ گیا۔ اب مگر حالات یہ ہیں کہ پچھلے تین دن سے اپ کے دادا جان مجھے خواب میں دکھائی دیتے ہیں اور یہی کہتے دیکھتا ہوں کہ نادان ادھاری بیٹا! میں تمہارا مقروض ہوں۔ میں نے دو دن تو اس کو وہم جانا لیکن کل تو وہ بہت روئے کہ دامن بھیگ گیا۔ میں نے ہر چند کہا اجی حضور! جانے بھی دیجیے لیکن کہنے لگے نہیں بیٹا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ تمہیں جب تک تمہاری چیز نہ دلوادوں چین کہاں سے آوے گا۔ تم میرے پوتے (یعنی آپ سے) کہو کہ اُس ٹرک کی فی زمانہ قیمت جو تقریبا ایک تولہ سونا کے برابر بنتی ہے وہ مجھے عنایت فرمادیں تاکہ وہ اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہوکر اس وبال سے نجات حاصل کرسکیں۔
قبلہ! آپ تو جانتے ہیں میں اس متاعِ دنیوی کا نہ تو شائق ہوں اور نہ مشتاق، لیکن معاملہ چونکہ اب آپ کے دادا جان کا ہے اس لئے آپ ایک تولہ سونا یا اُس کی مساوی رقم مجھے ارسال فرمادیں جسے میں بادلِ نخواستہ قبول کرکے اُن کے حق میں دعائے مغفرت فرمادونگا جس کے بعد وہ سرخرو ہوکر کامرانی و کامیابی کی منازل طے فرماتے ہوئے اپنی منزل ِ مقصود پر خیریت سے پہنچ جائیں گے۔رقم بھلے کسی بھی طریقے سے بھیجیں مگر ایک تولہ سونا کے مساوی ہو تاکہ اُن کی گردن چھڑا ئی جا سکے۔
آپ کی طرف سے ایک تولہ سونے کا منتظر
آپ کا سابقہ پڑوسی
نادان ادھاری مہاجر میرٹھی
حال وارد بدحال پورہ کوچہ نادہندگان
واجد علی گوہر
