خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعلمائے دیوبند کا فکری منہج
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو کالمز

علمائے دیوبند کا فکری منہج

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025 0 تبصرے 61 مناظر
62

محدثین دہلی اور ان کے چشمہٴ علم و عرفان سے سیراب

دارالعلوم اور علمائے دیوبند اپنے مسلک اور دینی رخ کے اعتبار سے کلیتاً اہل سنت و جماعت ہیں پھر وہ خودرَو قسم کے اہل سنت نہیں بلکہ اوپر سے ان کا سندی سلسلہ جڑا ہوا ہے؛ اس لئے مسلک کے اعتبار سے وہ نہ کوئی جدید فرقہ ہیں نہ بعد کی پیداوار ہیں بلکہ وہی قدیم اہل سنت والجماعت کا مسلسل سلسلہ ہے جو اوپر سے سند متصل اور استمرار کے ساتھ کابراً عن کابرٍ چلا آرہا ہے۔
علمائے دارالعلوم دیوبند کے اس جامع، افراط و تفریط سے پاک مسلک معتدل کو سمجھنے کے لئے خود لفظ اہل سنت والجماعت میں غور کرنا چاہئے جو دو اجزاء سے مرکب ہے: ایک ’السنة‘ جس سے اصول، قانون، اور طریق نمایاں ہیں اور دوسرا ’الجماعة‘ جس سے شخصیات اور رفقائے طریق نمایاں ہیں۔ اہل السنة والجماعة کے اس ترکیبی کلمہ سے یہ بات پورے طور پر واضح ہو تی ہے کہ اس مسلک میں اصول و قوانین بغیر شخصیات کے اور شخصیات بغیر قوانین کے معتبر نہیں کیوں کہ قوانین ان شخصیات ہی کے راستے سے آتے ہیں؛ اس لئے ماخوذ کو لیا جانا اور ماخذ کو چھوڑ دینا کوئی معقول مسلک نہیں ہوسکتا۔
حدیث ”ما أنا علیہ و أصحابي“ میں بہتّر (۷۲) فرقوں میں سے فرقہٴ ناجیہ کی نشاندہی فرماتے ہوئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے معیار حق انہی دو چیزوں کو قرار دیا ”ما انا“ سے اشارہ سنت یعنی طریق نبوی یا قانون دین کی طرف ہے اور ”واصحابی“ سے اشارہ الجماعة یعنی برگزیدہ شخصیات کی طرف ہے بلکہ مسند احمد اور سنن ابی داؤد میں اصحابی کے بجائے الجماعة کا صریح لفظ موجود ہے۔
اس لئے تمام صحابہ، تابعین، فقہائے مجتہدین، ائمہ محدثین اور علمائے راسخین کی عظمت و محبت ادب و احترام اور اتباع و پیروی اس مسلک کا جوہر ہے؛ کیوں کہ ساری دینی برگزیدہ شخصیتیں ذات نبوی سے انتساب کے بدولت ہی وجود میں آتی ہیں۔ پھر مختلف علوم دینیہ میں حذاقت و مہارت اور خداداد فراست و بصیرت کے لحاظ سے ہر شعبہٴ علم میں ائمہ اور اولوالامر پیدا ہوئے اور امام و مجتہد کے نام سے انھیں یاد کیا گیا۔ مثلاً ائمہ اجتہاد میں امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل وغیرہ، ائمہ حدیث میں امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام ترمذی، امام نسائی وغیرہ، ائمہ درایت و تفقہ میں امام ابویوسف، امام محمد بن حسن، امام خلال، امام مزنی، امام ابن رجب وغیرہ۔ ائمہ احسان و اخلاص میں اویس قرنی، فضیل بن عیاض وغیرہ، ائمہ حکمت و حقائق میں امام رازی، امام غزالی وغیرہ، ائمہ کلام میں ابوالحسن اشعری، ابو منصور ماتریدی وغیرہ نیز اس قسم کی دین کی اور بھی برگزیدہ شخصیتیں ہیں جن کی درجہ بدرجہ توقیر و عظمت مسلک دارالعلوم دیوبند میں شامل ہے۔
پھر ان تمام دینی شعبوں کے اصول و قوانین کا خلاصہ دو ہی چیزیں ہیں: ”عقیدہ و عمل“ عقیدے میں تمام عقائد کی اساس و بنیاد عقیدئہ توحید ہے اور عمل میں سارے اعمال کی بنیاد اتباع سنت ہے۔
توحید:
مسلک دیوبند میں عقیدئہ توحید پر بطور خاص زور دیا جاتا ہے تاکہ اس کیساتھ شرک یا موجبات شرک جمع نہ ہوں اور کسی بھی غیر اللہ کی اس میں شرکت نہ ہو۔ ساتھ ہی تعظیم اہل اللہ اور اربابِ فضل و کمال کی توقیر کو عقیدئہ توحید کے منافی سمجھنا مسلک کا کوئی عنصر نہیں۔
خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ:
علمائے دیوبند کا یہ ایمان ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل البشر و افضل الانبیاء ہیں، مگر ساتھ ہی آپ کی بشریت کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔ وہ آپ کے علودرجات کو ثابت کرنے کے لئے حدود عبدیت کو توڑ کر حدود معبودیت میں پہنچادینے سے کلی احتراز کرتے ہیں۔ وہ آپ کی اطاعت کو فرض عین سمجھتے ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو جائز نہیں سمجھتے۔
علمائے دیوبند برزخ میں آپ کی حیات جسمانی کے قائل ہیں مگر وہاں معاشرت دنیوی کو نہیں مانتے۔ وہ آپ کے علم عظیم کو ساری کائنات کے علم سے بدرجہا زیادہ مانتے ہیں پھر بھی اس کے ذاتی و محیط ہونے کے قائل نہیں ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:
علمائے دیوبندتمام صحابہ کی عظمت کے قائل ہیں؛ البتہ ان میں باہم فرق مراتب ہے تو عظمت مراتب میں بھی فرق ہے، لیکن نفس صحابیت میں کوئی فرق نہیں اس لیے محبت و عقیدت میں بھی فرق نہیں پڑسکتا پس ”الصحابة کلہم عدول“ اس مسلک کا سنگ بنیاد ہے۔ صحابہ بحیثیت قرن خیر من حیث الطبقة ہیں اور پوری امت کے لیے معیار حق ہیں۔ علمائے دیوبند انھیں غیر معصوم ماننے کے باوجود ان کی شان میں بدگمانی اور بدزبانی کو جائز نہیں سمجھتے اور صحابہ (کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے بارے میں اس قسم کا رویہ رکھنے والے کو حق سے منحرف سمجھتے ہیں۔
علمائے دیوبند کے نزدیک ان کے باہمی مشاجرات میں خطا و صواب کا تقابل ہے حق وباطل اور طاعت ومعصیت کا نہیں؛ اس لیے ان میں سے کسی فریق کو تنقید و تنقیص کا ہدف بنانے کو جائز نہیں سمجھتے۔
صلحائے امت:
علمائے دیوبند تمام صلحائے امت و اولیاء اللہ کی محبت و عظمت کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس محبت و تعظیم کا یہ معنی قطعاً نہیں لیتے کہ انھیں یا ان کی قبروں کو سجدہ و طواف اور نذر و قربانی کا محل بنالیا جائے۔
وہ اہل قبور سے فیض کے قائل ہیں استمداد کے نہیں۔ حاضری قبور کے قائل ہیں مگر انھیں عیدگاہ بنانے کو روا نہیں سمجھتے ، وہ ایصال ثواب کو مستحسن اور اموات کا حق سمجھتے ہیں مگر اس کی نمائشی صورتیں بنانے کے قائل نہیں۔
وہ تہذیب اخلاق، تزکیہٴ نفس اور عبادت میں قوتِ احسان پیدا کرنے کے لیے اہل اللہ کی بیعت و صحبت کو حق اور طریق احسانی کے اصول و ہدایات کو تجربتہً مفید اور عوام کے حق میں ایک حد تک ضروری سمجھتے ہیں اور اسے شریعت سے الگ کوئی مستقل راہ نہیں سمجھتے بلکہ شریعت ہی کا باطنی و اخلاقی حصہ مانتے ہیں۔
فقہ اور فقہاء:
علمائے دیوبند احکام شرعیہ فروعیہ اجتہادیہ میں فقہ حنفی کے مطابق عمل کرتے ہیں بلکہ برصغیر میں آباد مسلمانوں میں کم وبیش نوے فیصد سے زائد اہل السنة والجماعة کا یہی مسلک ہے؛ لیکن اپنے اس مذہب و مسلک کو آڑ بناکر دوسرے فقہی مذاہب کو باطل ٹھہرانے یا ائمہ مذاہب پر زبانِ طعن دراز کرنے کو جائز نہیں سمجھتے کیوں کہ یہ حق و باطل کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ صواب و خطا کا تقابل ہے۔ مسائل فروعیہ اجتہادیہ میں ائمہ اجتہاد کی تحقیقات میں اختلاف کا ہوجانا ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ اور شریعت کی نظر میں یہ اختلاف صحیح معنوں میں اختلاف ہے ہی نہیں۔ قرآن حکیم ناطق ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوحاً وَالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بہ اِبْرَاہِیْمَ وَمُوسٰی وَعِیسٰی أَنْ اَقِیمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہ۔ (سورة الشوریٰ)
ظاہر ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور تک شریعتوں اور منہاج کا کھلا ہوا اختلاف رہا پھر بھی قرآن حکیم ان کو ایک ہی دین قرار دے رہا ہے اور شریعتوں کے باہمی فروعی اختلاف کو وحدتِ دین کے معارض نہیں سمجھتا۔ اگر یہ فروعی تنوع بھی افتراق و اختلاف کی حد میں آسکتے تو پھر ”وَلاَ تَتَفَرّقُوْا فِیْہِ“ کا خطاب کیوں کر درست ہوتا؟
لہٰذا جس طرح شرائع سماویہ فروعی اختلاف کے باوجود ایک ہی دین کہلائیں اور ان کے ماننے والے سب ایک ہی رشتہ اتحاد و اخوت میں منسلک رہے۔ تحزب و تعصب کی کوئی شان ان میں پیدا نہیں ہوئی؛ اسی لئے وہ ”وَکَانُوْا شِیَعًا“ً کی حد میں نہیں آئے۔ ٹھیک اسی طرح ایک دین حنیف کے اندر فروعی اختلافات اس کی شان اجتماعیت و وحدت میں خلل انداز نہیں ہوسکتے۔
مواقع اجتہاد میں اہل اجتہاد کا اجتہاد بھی دین کا مقرر کردہ اصول ہے۔ اسے دین میں اختلاف کیسے کہا جاسکتا ہے۔ رہا جماعتِ مجتہدین میں سے کسی ایک کی پیروی و تقلید کو خاص کرلینا تو دین کے بارے میں آزادیِ نفس سے بچنے اور خودرائی سے دور رہنے کے لئے امت کے سواد اعظم کا طریق مختار یہی ہے، جس کی افادیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ باب تقلید میں علمائے دیوبند کا یہی طرز عمل ہے۔ وہ کسی بھی امام، مجتہد یا اس کے فقہ کی کسی جزئی کے بارے میں تمسخر، سوئے ادب یا رنگ ابطال و تردید سے پیش آنے کو خسران دنیا و آخرت سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک یہ اجتہادات شرائع فرعیہ ہیں اصلیہ نہیں کہ اپنے فقہ کو موضوع بناکر دوسروں کی تردید یا تفسیق و تضلیل کریں؛ البتہ اپنے اختیار کردہ فقہ پر ترجیح کی حد تک مطمئن رہیں۔
مذکورہ بالا امور میں علمائے دیوبند کا یہ طرزعمل اور مسلک ان کی موٴلفات (شروح حدیث، تفسیر، فقہ وکلام وغیرہ) میں پوری تفصیل کیساتھ مندرج ہیں، جنھیں دیکھ کر خود فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
فقہ میں سنت کی راہیں:
برصغیر میں کم و بیش نوے فی صد مسلمان فقہ حنفی پر عامل ہیں۔ فقہ حنفی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اجتہادات، ان کے تلامذہ کے استخراجات اور اصحاب ترجیح کے فیصلوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر بحث و تحقیق اور کانٹ چھانٹ کے بعد فقہ کا کوئی مسئلہ اصولِ شریعت کے خلاف باقی نہیں رہ سکتا۔ مگر اس طریق عمل میں ایک پہلو یہ بھی تھا کہ عمل کرنے والے کی نظر ائمہ و فقہاء کی تخریجات تک محدود رہتی، گو وہ عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ کے طریق سے متجاوز نہ ہوتا؛ مگر عمل کرنے والے کا شعور اتباع سنت کی لذت پوری طرح محسوس نہیں کرسکتا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کا یہ عظیم تاریخی کارنامہ ہے کہ اس نے اعمال و عبادات کو ان کے بنیادی مصادر کی طرف لوٹایا۔ احادیث کے دفاتر کھلے، رجال کی گہری نظر سے پڑتال ہوئی، معانی حدیث میں بحث کی گئی، گو ان حضرات کو اس علمی و تحقیقی کاوش سے فقہ کا کوئی مفتی بہ قول اصول شریعت سے معارض نہ ملا تاہم اس راہ تحقیق نے (جو ظاہریت کی تفریط اور اہل بدعت کی افراط سے پاک سلف صالحین کے مقرر کردہ منہاج پر مبنی ہے) ایسی فضا پیدا کردی کہ پہلے جن مسائل پر فقہ سمجھ کر عمل کیا جاتا تھا اب وہی مسائل سنت کی خنک روشنی دینے لگے اور ان اعمال میں اتباع حدیث کی وہ لذت محسوس ہونے لگی جو اس فکری تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
علمائے دارالعلوم کا فکری اعتدال
علمائے دیوبند دین کے سمجھنے سمجھانے میں نہ تو اس طریق کے قائل ہیں جو ماضی سے یکسر کٹا ہو کیوں کہ وہ مسلسل رشتہ نہیں ایک نئی راہ ہے۔ اور نہ وہ اس افراط کے قائل ہیں کہ رسم و رواج اور تقلیدِ آباء کے تحت ہربدعت، اسلام میں داخل کردی جائے۔ جن اعمال میں تسلسل نہ ہو اور وہ تسلسل خیر القرون سے مسلسل نہ ہو وہ اعمال اسلام نہیں ہوسکتے۔ یہ حضرات اس تقلید کے پوری طرح قائل ہیں جو قرآن وحدیث کے سرچشمہ سے فقہ اسلام کے نام سے چلتی آئی ہے۔ قرآن کریم تقلید آباء کی صرف اس وجہ سے مذمت کرتا ہے کہ وہ آباء عقل و اہتداء کے نور سے عاری تھے: ”اَوَلَو کَانَ آبَاءُ ہُم لا یَعْقِلُون شیئاً وَلاَ یَہتَدُون“۔ ائمہٴ سلف اور فقہائے اسلام جو علم وہدایت کے نور سے منور تھے ان کی پیروی نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ مطلوب ہے ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ صرف حضرات انبیاء علیہم الصلاة والسلام ہی کی نہیں، صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہ پر چلنے چلانے کی ہر نماز میں اللہ سے درخواست کریں؛ کیوں کہ یہی صراط مستقیم ہے۔ ”اِہدِنا الصِّراطَ المُسْتَقِیم صِراطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمتَ عَلَیہِمْ‘۔ اس منہج اعتدال کی بنا پر علمائے دیوبند مذہبی بے قیدی اور خودرائی سے محفوظ ہیں اور شرک و بدعت کے اندھیرے انھیں اپنے جال میں نہ کھینچ سکے۔
علمائے دیوبند نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں ہی کو سنت کا شعور بخشا بلکہ دیگر بلاد اسلامیہ مصر و شام وغیرہ بھی ان کے اس فکر سے متاثر ہوئے۔ دیوبندی مکتبہٴ فکر کا نصوص فہمی میں منہج مختار یہی ہے۔علمائے دیوبند کی تالیفات مثلاً فیض الباری شرح بخاری، لامع الدراری شرح بخاری، فتح الملہم شرح صحیح مسلم، الکوکب الدری شرح جامع ترمذی، معارف السنن شرح جامع ترمذی، بذل المجہود شرح سنن ابی داؤد، اوجز المسالک شرح موٴطا امام مالک، امانی الاحبار شرح معانی الآثار للطحاوی، اعلاء السنن، ترجمان السنة، معارف الحدیث وغیرہ میں اس منہج مختار کو دیکھا جاسکتا ہے۔
(مآخذ: ماہنامہ الرشید لاہور فروری مارچ ۱۹۷۶ء، دارالعلوم نمبر ، ص ۱۵۷ تا ۱۶۵، مقالات حبیب، مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی، جلد اول، ص ۵۶تا ۶۳- فاتح گلبرگہ: ٢٧-٢٨ )

از ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت
  • قومی زبان اُردو کے نفاذ کا ادھورا سفر
  • زندگی رکتی تو نہیں
  • پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سجدے کی حالت میں
پچھلی پوسٹ
نادان ادھاری

متعلقہ پوسٹس

اِنسانی نسلیں اور معاشرتی ترقی

نومبر 16, 2025

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

مارچ 30, 2020

رمِ حیات پہ پوری کتاب لکھوں گی

جنوری 12, 2026

پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے

مارچ 15, 2026

سمندر کے نام ایک غنائیہ

مارچ 25, 2026

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا

دسمبر 17, 2025

طارق عزیز سے ڈاکٹر عامر لیاقت تک

اگست 30, 2020

آن لائن شاپنگ کی دراز رسی

اکتوبر 10, 2025

رحمت عزیز چترالی صاحب ایک عاشق رسول ﷺ!

اکتوبر 8, 2021

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تیری آنکھوں کی طرف

فروری 17, 2026

منیر نیازی سے ایک ملاقات

دسمبر 28, 2020

انسانوں کے غیر انسانی رویے!

دسمبر 18, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں