خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجمہوریت یاانتقامی سیاست!!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

جمہوریت یاانتقامی سیاست!!

از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2021
از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2021 0 تبصرے 55 مناظر
56

جمہوریت یاانتقامی سیاست!!

پاکستان کا مطلب کیالاالہ اللہ اس بات کی گواہی تھی کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر وجود میں آئے گایا پھر ایسے ہی مسلمانوں کے جذبات کو ابھارنے کیلئے اس نعرے کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے دنیا ایک ایسی حیرت میں مبتلا ہوئی کہ جس سے آج تک نہیں نکل سکی ہے۔ وہ حیرت یہ تھی کہ کس طرح سے اتنے مضبوط اقتدار سے کہ جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا ایک ریاست کو حاصل کرلیا گیا۔جیسا کہ نعرہ لگایا گیا تو پوشیدہ طور پر یہ سمجھ لینا چاہئے تھا کہ مقصد امت ِ مسلمہ کیلئے ایک نئے مرکز کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور جو خلافت ترکی میں ختم ہوئی تھی اب اس کی بنیاد پاکستان کے وجود میں آنے سے پڑ چکی تھی۔ جس سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ سرزمین ِ پاکستان جمہوریت کی نمو کیلئے سازگار نہیں اور اگر تھی بھی تو آہستہ آہستہ یہاں کی مٹی کوایسی مٹی سے تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں جمہوریت کے مصنوعی بیج تک کی بویائی ممکن نہیں دیکھائی دیتی۔ اس بات سے اتفاق کرینگے کہ جمہوریت کا لاالہ اللہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ جمہوریت دشمن کا ایک ایسا ہتھیا ر ہے جس کی بنیاد پر اس نے اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دروازہ کھولا نہیں بلکہ تمام دروازے توڑ ڈالے ہیں اور ہماری اقدار کو روندتے ہوئے، ہماری چادر اور چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے بے آب گیا میں چھوڑ دیا ہے۔

دوطاقتیں ہیں جو پس منظر میں پاکستان پر حکومت کرتی ہیں ایک وہ ہیں جن کا بنیادی کام تو سرحدوں کی نگھبانی ہے لیکن اندرونی حالات کی پیش نظر انہیں اقتدار کی بھی نگرانی کرنی پڑتی ہے جس کے لئے دوسری طاقت وہ ہے کہ جس کی مرہونِ منت یہ خطہ زمین وجود میں آیا یعنی لاالہ اللہ۔ ان دوطاقتوں کی وجہ سے پاکستان تاحال صحیح سلامت ہے ورنہ جمہوریت نے تو کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی کہ اسکے بخیئے ادھیڑ دیتی جس کا ایک عملی نمونہ تو ہم مشرقی پاکستان سے جدا ہوکر دیکھ چکے ہیں۔ اقتدار کی ہوس رکھنے والوں نے پھر بھی سبق نہیں سیکھا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں دشمن کے لا محالہ الہ کار بنے ہی رہے ہیں۔ یہ پاک وطن کی عزت کا خیال ہے ورنہ کیسے کیسے کار ہائے نمایاں ہمارے سیاست دان سرانجام دے چکے ہیں اور تاحال دیتے چلے جا رہے ہیں۔

کسی بھی نظام یا حکمت عملی کو نافذ کرنے سے قبل پہلے اسے آزمائشی دور سے گزارا جاتا ہے، لوگوں کے تاثرات دیکھے جاتے ہیں، پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسکے فائدے اور نقصانات کی نوعیت کیا ہے کیا اس میں ردوبدل کر کے بہترسے بہترین بنانے کی گنجائش موجود ہے اور پھر یہ قابل قبول ہوسکے گا یا نہیں۔ اس سارے عمل سے گزرنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشرہ تعلیم و تہذیب یافتہ ہو اور علم کی اہمیت سے بھرپور آگاہ ہوں۔ جمہوریت میں وہ عوام بااختیار ہوتی ہے جسے اچھے برے کی تمیز آتی ہو، وہ باآواز بلند بغیر کسی دباؤ یا لالچ یا خوف کے اہل لوگوں کو اپنے ملک کے فیصلے کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ہر جمہوری فرد اپنے حقوق کی حفاظت کرنا جانتا ہو قانون اسکے جائز حقوق کی بھرپور حمائت کرتا ہو۔شائد مذکورہ خصوصیات تو آج کسی قوم میں دیکھائی نہیں دیتیں۔ شائد ترقی یافتہ ممالک میں ابھی کچھ صاحب نظر لوگ ہوں جو صحیح سمت میں رہنمائی کرنا جانتے ہوں۔

قارئین اتفاق کرینگے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ درآمد شدہ چیزوں ہم پاکستانی انتہائی مقدس سمجھتے ہوئے اعلی ترین درجے پر رکھتے ہیں،جیسے کہ ایک انگریزی زبان کو ہی لے لیجئے۔ چاہے ہمیں اسکا استعمال نہیں آتا ہو۔ جمہوریت بھی ایک ایسی ہی درآمد شدہ شے ہے جو ہم اپنے ساتھ ساتھ لئے گھوم رہے ہیں (بندر کے ہاتھ ادرک کا محاورہ بھی ذہن میں رکھ لیں)۔ ہماری تاریخ چیخ چیخ کر یاد دہانی کراتی ہے بلکہ ہر روز کراتی ہے اور یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو سوائے ملک و قوم کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر ہم اس جملے کو کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے پر گہری نگاہ ڈالیں تو دیکھائی دیتا ہے کہ یہ انتقام قوم سے لینے کی بات کی جارہی ہے، یعنی جمہوریت رہیگی تو عوام کیساتھ بدترین سلوک روا رکھا جائے گا۔ ایک بادشاہ تھا جسے یہ پریشانی تھی کے رعایا کوئی شکائت نہیں کرتی تو وزیر نے مشورہ دیا کہ بادشاہ سلامت حکم صادر کروائیں کہ روز صبح جو شہرمیں داخل ہوگا اسے ایک کوڑا لگایا جائے گا، کوڑے لگنا شروع ہوگئے لیکن پھر بھی کوئی سوالی نہیں آیا کچھ دنوں کے بعد سوالی آگیا، بادشاہ کی خوشی کی انتہا نا رہی۔ سوالی پیش ہو ابادشاہ کا اقبال بلند ہو، بادشاہ سلامت (جو اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ یہ ہم سے رحم کرنے کی درخواست کریگا) شہر کے دروازے پر روزانہ ایک کوڑا لگایا جاتا ہے اس کا کیلئے وہاں صرف ایک فرد موجود ہے اور شہر میں آنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بہت دیر لگ جاتی ہے تو آپ سے درخواست یہ ہے کہ برائے مہربانی کوڑے لگانے والوں کی تعداد میں اضافہ کردیا جائے تاکہ وقت کی پریشانی سے بچا جاسکے۔ کوڑے لگانے کی وجہ سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ اسکو باقاعدہ کی گنجائش پیدا کردی گئی۔ ہم بھی کسی ایسے ہی معاشرے کا حصہ ہیں اشیائے خورد و نوش مہنگی ترین ہوچکی ہیں، نظام عدل سے لیکر خاکروب تک سب کے سب بغیر بخشش لئے کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے، جتنی بڑی کرسی اتنی بڑی رقم۔ آج دنیا میں شائد ہی کوئی ملک ہو جہاں سیاسی انتشار نا پایا جاتا ہو، اسے جمہوریت کا حسن بھی کہا جاسکتا ہے اور بدصورتی بھی۔

پاکستان میں جب بھی انتخابات ہوئے، ہارنے والی جماعتوں نے ہمیشہ جانبدار کہہ کر رد کردیا (مطلب چنے ہوئے نہیں بلکہ منتخب شدہ لوگوں کو اقتدار دیا جاتا رہا ہے)اور پھر جب تک حکومت کا تختہ الٹ نہیں دیا جاتا ہارے ہوئے اور حکومت مخالفین چین سے نہیں بیٹھتے۔سمجھنے کیلئے ایسا بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شور کرتے رہو مزے(یہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں) کرتے رہو، آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے رہو مزے کرتے رہو۔ شائد ہی کسی نے اپنی ہار کو اپنی گزشتہ کارگردگی سے موازنہ کرنے سے مشروط سمجھا ہو بس سب جیتنے کیلئے ہوتے ہیں۔ حقیقت میں شکست عوام کی ہوتی ہے سیاسی قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کو جیت یا ہار سے فائدے میں کمی اور زیادتی سے مطلب ہوتا ہے۔

موجودہ منتخب شدہ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بدترین صورتحال کا سامنا ہے(ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اور ہر نئی اقتدار میں آنے والی حکومت عوام کو یہ بتاتی ہے کہ ملک تقریباً دیوالیہ ہونے والا ہے) اور یہاں تک پہنچانے میں پچھلی حکومتوں کی بد عنوانیاں اور قانون کا جانبدارانہ استعمال ہے (یہ بیانیہ بھی نیا نہیں)۔تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں میں اکثریت ایسے منتخب نمائندوں کی ہے جو ماضی کی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اور گنتی کے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے عام پاکستانی کو اسکا حق دلانے کیلئے جدوجہد کی ہے اور ایوانوں تک پہنچنے کا ایک کھٹن سفر کیا ہے۔تقریباً تین سال گزرجانے کے بعد وہ ثمرات عوام تک نہیں پہنچے ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان کی عوام نے تبدیلی کے نعرے کو اپنا قیمتی ووٹ دیا تھا۔ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بدعنوانی کی جڑوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے لیکن ناسور کا علاج اتنا آسان نہیں ہوتا۔ بہت سارے ایسے اقدامات کئے گئے ہیں کہ جن سے بدعنوانی کا راستہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ ایک رہنما کی سچائی، لگن اور دیانتداری اگر سارے کارکنان میں سرائیت کر جائے تو راتوں رات تبدیلی آسکتی ہے لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں۔ حضرت شیخ ابراہیم ذوق نے اس سارے قصے کو کیا خوب سمیٹا کہ

اے ذوق دیکھ دختر رز کو منہ نہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

دنیاکو چلانے کیلئے انسانوں نے بہت سارے قدیم و جدید نظاموں کو رائج کیا لیکن کوئی ایک بھی مکمل کارگر ثابت نہیں ہوسکا، جو اس بات کا دائمی ثبوت ہے کہ اللہ کا نظام جو کہ خلافت میں پوشیدہ ہے دنیا کے امن و سکون کیلئے عوام الناس کی بھلائی کیلئے بہترین ہے۔ جن ممالک میں صدارتی نظام ہیں وہ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ خلافت کا نفاذ کیلئے تو اسلام کا ہوناضروری ہے تو اس نعملبدل کے طور پر صدارتی نظام تشکیل دیا گیا ہے اور ان ممالک میں امور بھی کافی حد تک بہتر ین ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت سوائے انتقامی سیاست کے اور کچھ بھی نہیں رہی۔موضوع پر اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کیجئے اور مناسب سمجھیں تو اصلاح فرمائیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے
  • تمہارے لوٹ کے آنے سے
  • سفرهےاوربارهاسفرمیں یوں بھی هوگیا
  • غربت میں جکڑا بچپن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محسوس نہ ہوگا کبھی آزار مجھے بھی
پچھلی پوسٹ
حافظ محمد نفیس

متعلقہ پوسٹس

یاروں میں تو مشہور ہے

مئی 18, 2025

اپنا ہونا بنا رہا ہوں میں

مئی 14, 2020

جاگیر

نومبر 14, 2021

ایک بارپھروہی پیشکش

فروری 26, 2020

مسلمانوں کالباس (پہلاحصہ)

مئی 12, 2024

محبت اور ماضی و حال

جولائی 26, 2020

گلشن امید کی بہار

جنوری 16, 2026

حیات ایسے گزاری جارہی ہے

اکتوبر 24, 2025

اپنا ملن کسی کی دلی

نومبر 11, 2025

توبۃ النصوح – فصل دوم

اکتوبر 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خود سے شرمندہ ہیں

اگست 5, 2025

مناجات

جولائی 8, 2020

ہس ہس سکھ نَل وسدے لوکی

اکتوبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں