33
سنگ لرزاں کے انسانی پیکر نے یکبارگی کہا
میں کیا کروں ! میں تو قیدی ہوں لاکھ دروازہ کھٹکھٹاؤں کوئی کھولے تب نا ۔۔۔ آنکھوں کی فریاد آنسو بن کر بہہ نکلی ۔۔۔
سائے نے کہا ارے پگلی دروازہ کون کھولے گا ! کھولنا تو تم کو ہی پڑے گا کیونکہ دروازہ کوئی باہر سے تھوڑا ہی بند ہے !
