113
جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے
اس نے اپنا رنگ دکھانا ہوتا ہے
تجھ کو چھو کر اس قانون کا علم ہوا
آگ کا پہلا کام جلانا ہوتا ہے
اس میں تیرا نام نہ آئے ، تو آۓ
اچھے شعر کا یہ پیمانہ ہوتا ہے
آنکھ میں مصرعے بُن کر رکھتے جاتے ہیں
ہم نے کون سا اشک بہانا ہوتا ہے
ہر چہرے میں ایک ہی چہرہ دیکھے ہے
دل نے اپنا کام چلانا ہوتا ہے
ان میں کیسے کیسے سپنے اگتے ہیں
جن ہاتھوں نے دیپ جلانا ہوتا ہے
دروازے پر فرضی دستک سنتے ہیں
آخر جی کو بھی بہلانا ہوتا ہے
رستوں اور پیڑوں کو کیسے سمجھائیں
لوگوں نے بس آنا جانا ہوتا ہے
اظہر عباس خان
