خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 20, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 20, 2025 0 تبصرے 68 مناظر
69

saim khan

زمانے کے فکری افق پر بعض اسما ایسے نمودار ہوتے ہیں جن کی جلوہ گری وقتی نہیں بل کہ وہ شعور کی تہوں میں اتر کر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ انھی سنجیدہ اذہان میں عابد ہاشمی کا نام ایک ایسے متفکر کے طور پر ابھرتا ہے جس کی شخصیت میں خاموش وقار، فکری تربیت اور درونِ ذات مکالمے کا سلیقہ مجتمع ہے۔ ان کی موجودگی کسی شورِ تحسین کی مرہونِ منت نہیں بل کہ ایک ایسی خاموش فکری روشنی ہے جو دیکھنے والے پر یک بارگی آشکار نہیں ہوتی بل کہ بتدریج منکشف ہوتی ہے۔
عابدضمیر ہاشمی کا مزاج تدبر سے لبریز، اسلوب متانت سے معمور اور اندازِ بیان میں ایک خاص قسم کا توازن پایا جاتا ہے۔ وہ اظہار میں خطیبانہ جوش نہیں رکھتے بل کہ علمی سکون سے بات کرتے ہیں۔ یہی سکون ان کی شخصیت کی شناخت بھی ہے اور ان کے قلم کی تاثیر بھی۔ان کی تصنیف ’’مقصدِ حیات‘‘ محض اخلاقی یا مذہبی نصیحت کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک فکری محاکمہ ہے جس میں انسان اپنی موجودگی کے سوالات سے براہِ راست متصادم ہوتا ہے۔ مصنف نے زندگی کی غایت کو محض لفظوں کے پیرائے میں نہیں باندھا بل کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو منطقی، روحانی اور تجرباتی سطح پر پرکھنے کی سعی کی ہے۔
کتاب کے ابواب کسی سطحی قاری کے لیے نہیں بل کہ اس ذہن کے لیے ہیں جو مکث کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے اور معنی کی تہوں کو دریافت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ہر فصل میں مصنف نے انسانی شعور کے کسی نہ کسی گوشے کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ کبھی وہ ارادے کی ساخت پر روشنی ڈالتے ہیں کبھی مقصد کے تخلقّی پہلو پر اور کہیں زندگی کو ایک مسلسل ارتقا کی علامت قرار دیتے ہیں۔عابد ہاشمی کا طرزِ تحریر فلسفیانہ اصطلاحات سے زیادہ فکری اشاریت پر قائم ہے۔ وہ نعرہ پرداز نہیں اشارہ گر ہیں۔ ان کے جملوں میں نہ مبالغہ ہے نہ سطحیت۔ وہ لفظ کو اس کے بارِ معنویت کے ساتھ برتتے ہیں۔ یہی وصف ان کی تحریر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔
ان کی کتاب میں مذہبی حوالہ جات بھی ہیں مگر وہ انہیں محض تزئینی حیثیت سے نہیں لاتے بل کہ ان سے فکری استدلال اخذ کرتے ہیں۔ وہ قاری کو ایمان کی تلقین نہیں کرتے بل کہ ایمان کے پسِ پشت موجود سوالات سے روبرو کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سوال کا درجہ جواب سے کہیں زیادہ مقدس ہے کیوں کہ سوال زندہ رکھتا ہے اور جواب اکثر ذہن کو موقوف کر دیتا ہے۔
’’مقصدِ حیات‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک تاثر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مصنف نے زندگی کو کسی جامد تصور کے طور پر نہیں دیکھا بل کہ اسے متحرک قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک وجود جامد نہیں بل کہ خود اپنی تعبیر کا متلاشی ہے۔ یہی تصور ان کی تحریر کو وجودی رنگ عطا کرتا ہے۔اگر تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو کتاب میں بعض مقامات پر استدلال کا تسلسل جان بوجھ کر منقطع سا محسوس ہوتا ہے جو دراصل مصنف کی شعوری ترکیب ہے۔ وہ قاری کو فکر کی ایک منزل پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ خود اگلا زینہ تلاش کرے۔ یہ اسلوب ان کی فکری خودداری کی دلیل ہے۔کتاب کا اسلوب سادہ بیانی سے گریزاں ہے۔ جملوں میں ایک علمی پیچیدگی ہے جو ابتدا میں مانعِ فہم معلوم ہوتی ہے مگر چند صفحوں کے بعد یہی پیچیدگی قاری کے لیے لطف کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنف نے بیان کو محض تفہیم کا وسیلہ نہیں سمجھا بل کہ ایک تجربہ قرار دیا ہے۔
’’مقصدِ حیات‘‘ کو اگر ادب کے کسی خانے میں رکھا جائے تو یہ مذہبی تصوف، فلسفۂ اخلاق اور نفسیاتی بصیرت کے سنگم پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ مصنف نے کسی مکتبِ فکر کی تقلید نہیں کی بل کہ مختلف نظریات سے اخذ کرتے ہوئے ایک ایسا متوازن فکری قالب وضع کیا ہے جسے محض تصنیف کہنا انصاف نہیں ہوگا۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عابد ہاشمی نے اپنی کتاب میں خود کو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ وہ قاری پر اپنی موجودگی مسلط نہیں کرتے۔ ان کی زبان میں اَنا کی بلند آہنگی نہیں بل کہ ایک معلمانہ ضبط ہے۔ وہ مخاطب کو فکری جبر کے بجائے غور کے لیے مائل کرتے ہیں۔
ان کے طرزِ اظہار میں کہیں کہیں وہ شائستہ سنجیدگی جھلکتی ہے جو کلاسیکی اساتذۂ فکر کی تحریروں میں دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ان کا اسلوب تقلیدی نہیں بل کہ جدید فکری اظہار کی جہتوں سے ہم آہنگ ہے۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ’’مقصدِ حیات‘‘ ایک ایسی کاوش ہے جسے نہ عقیدت کی عینک سے پڑھنا چاہیے نہ تنقید کے غصے سے۔ اسے سمجھنے کے لیے خاموشی درکار ہے کیوں کہ یہ کتاب قاری سے مکالمہ نہیں کرتی اسے غور میں لے جاتی ہے۔
عابدضمیر ہاشمی کی فکری کاوش کا یہ پہلو سب سے اہم ہے کہ وہ مطالعے کو تجربے میں بدل دیتے ہیں۔ ان کی تحریر اختتام پر نہیں رُکتی بل کہ قاری کے ذہن میں ایک اور آغاز کا احساس جگاتی ہے۔ یہی احساس ان کی فکری دیانت اور تصنیفی مہارت کی دلیل ہے۔

تحریر: صائم خان راستؔ
(ریڈیو براڈکاسٹر، شاعر و ادیب، ناول نگار)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرے چراغ ہمیشہ یہ جستجو کرنا
  • ٍ بے عمل ٹرینر
  • ٹی ٹی پی کا بڑھتا ہوا سایہ
  • مصطفےٰﷺ آپ کی چاہت کی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
پچھلی پوسٹ
نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں

متعلقہ پوسٹس

کون جنوں کی اصل کو پہنچے

ستمبر 20, 2020

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے

مئی 23, 2020

کبوتر

دسمبر 16, 2019

عید کی جوتی

دسمبر 30, 2017

دل میں پھر غم کی

جون 24, 2025

آگ (نا مکمل مگر مکمل)

جون 25, 2025

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) : نئے امکانات

مئی 14, 2023

سلام کس کو کرنا ہے

فروری 8, 2025

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!

اگست 28, 2025

چلتے ہو تو سوات کو چلئے

مارچ 2, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ...

اپریل 8, 2026

درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں...

مارچ 21, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں