خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 20, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 20, 2025 0 تبصرے 101 مناظر
102

saim khan

زمانے کے فکری افق پر بعض اسما ایسے نمودار ہوتے ہیں جن کی جلوہ گری وقتی نہیں بل کہ وہ شعور کی تہوں میں اتر کر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ انھی سنجیدہ اذہان میں عابد ہاشمی کا نام ایک ایسے متفکر کے طور پر ابھرتا ہے جس کی شخصیت میں خاموش وقار، فکری تربیت اور درونِ ذات مکالمے کا سلیقہ مجتمع ہے۔ ان کی موجودگی کسی شورِ تحسین کی مرہونِ منت نہیں بل کہ ایک ایسی خاموش فکری روشنی ہے جو دیکھنے والے پر یک بارگی آشکار نہیں ہوتی بل کہ بتدریج منکشف ہوتی ہے۔
عابدضمیر ہاشمی کا مزاج تدبر سے لبریز، اسلوب متانت سے معمور اور اندازِ بیان میں ایک خاص قسم کا توازن پایا جاتا ہے۔ وہ اظہار میں خطیبانہ جوش نہیں رکھتے بل کہ علمی سکون سے بات کرتے ہیں۔ یہی سکون ان کی شخصیت کی شناخت بھی ہے اور ان کے قلم کی تاثیر بھی۔ان کی تصنیف ’’مقصدِ حیات‘‘ محض اخلاقی یا مذہبی نصیحت کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک فکری محاکمہ ہے جس میں انسان اپنی موجودگی کے سوالات سے براہِ راست متصادم ہوتا ہے۔ مصنف نے زندگی کی غایت کو محض لفظوں کے پیرائے میں نہیں باندھا بل کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو منطقی، روحانی اور تجرباتی سطح پر پرکھنے کی سعی کی ہے۔
کتاب کے ابواب کسی سطحی قاری کے لیے نہیں بل کہ اس ذہن کے لیے ہیں جو مکث کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے اور معنی کی تہوں کو دریافت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ہر فصل میں مصنف نے انسانی شعور کے کسی نہ کسی گوشے کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ کبھی وہ ارادے کی ساخت پر روشنی ڈالتے ہیں کبھی مقصد کے تخلقّی پہلو پر اور کہیں زندگی کو ایک مسلسل ارتقا کی علامت قرار دیتے ہیں۔عابد ہاشمی کا طرزِ تحریر فلسفیانہ اصطلاحات سے زیادہ فکری اشاریت پر قائم ہے۔ وہ نعرہ پرداز نہیں اشارہ گر ہیں۔ ان کے جملوں میں نہ مبالغہ ہے نہ سطحیت۔ وہ لفظ کو اس کے بارِ معنویت کے ساتھ برتتے ہیں۔ یہی وصف ان کی تحریر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔
ان کی کتاب میں مذہبی حوالہ جات بھی ہیں مگر وہ انہیں محض تزئینی حیثیت سے نہیں لاتے بل کہ ان سے فکری استدلال اخذ کرتے ہیں۔ وہ قاری کو ایمان کی تلقین نہیں کرتے بل کہ ایمان کے پسِ پشت موجود سوالات سے روبرو کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سوال کا درجہ جواب سے کہیں زیادہ مقدس ہے کیوں کہ سوال زندہ رکھتا ہے اور جواب اکثر ذہن کو موقوف کر دیتا ہے۔
’’مقصدِ حیات‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک تاثر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مصنف نے زندگی کو کسی جامد تصور کے طور پر نہیں دیکھا بل کہ اسے متحرک قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک وجود جامد نہیں بل کہ خود اپنی تعبیر کا متلاشی ہے۔ یہی تصور ان کی تحریر کو وجودی رنگ عطا کرتا ہے۔اگر تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو کتاب میں بعض مقامات پر استدلال کا تسلسل جان بوجھ کر منقطع سا محسوس ہوتا ہے جو دراصل مصنف کی شعوری ترکیب ہے۔ وہ قاری کو فکر کی ایک منزل پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ خود اگلا زینہ تلاش کرے۔ یہ اسلوب ان کی فکری خودداری کی دلیل ہے۔کتاب کا اسلوب سادہ بیانی سے گریزاں ہے۔ جملوں میں ایک علمی پیچیدگی ہے جو ابتدا میں مانعِ فہم معلوم ہوتی ہے مگر چند صفحوں کے بعد یہی پیچیدگی قاری کے لیے لطف کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنف نے بیان کو محض تفہیم کا وسیلہ نہیں سمجھا بل کہ ایک تجربہ قرار دیا ہے۔
’’مقصدِ حیات‘‘ کو اگر ادب کے کسی خانے میں رکھا جائے تو یہ مذہبی تصوف، فلسفۂ اخلاق اور نفسیاتی بصیرت کے سنگم پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ مصنف نے کسی مکتبِ فکر کی تقلید نہیں کی بل کہ مختلف نظریات سے اخذ کرتے ہوئے ایک ایسا متوازن فکری قالب وضع کیا ہے جسے محض تصنیف کہنا انصاف نہیں ہوگا۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عابد ہاشمی نے اپنی کتاب میں خود کو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ وہ قاری پر اپنی موجودگی مسلط نہیں کرتے۔ ان کی زبان میں اَنا کی بلند آہنگی نہیں بل کہ ایک معلمانہ ضبط ہے۔ وہ مخاطب کو فکری جبر کے بجائے غور کے لیے مائل کرتے ہیں۔
ان کے طرزِ اظہار میں کہیں کہیں وہ شائستہ سنجیدگی جھلکتی ہے جو کلاسیکی اساتذۂ فکر کی تحریروں میں دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ان کا اسلوب تقلیدی نہیں بل کہ جدید فکری اظہار کی جہتوں سے ہم آہنگ ہے۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ’’مقصدِ حیات‘‘ ایک ایسی کاوش ہے جسے نہ عقیدت کی عینک سے پڑھنا چاہیے نہ تنقید کے غصے سے۔ اسے سمجھنے کے لیے خاموشی درکار ہے کیوں کہ یہ کتاب قاری سے مکالمہ نہیں کرتی اسے غور میں لے جاتی ہے۔
عابدضمیر ہاشمی کی فکری کاوش کا یہ پہلو سب سے اہم ہے کہ وہ مطالعے کو تجربے میں بدل دیتے ہیں۔ ان کی تحریر اختتام پر نہیں رُکتی بل کہ قاری کے ذہن میں ایک اور آغاز کا احساس جگاتی ہے۔ یہی احساس ان کی فکری دیانت اور تصنیفی مہارت کی دلیل ہے۔

تحریر: صائم خان راستؔ
(ریڈیو براڈکاسٹر، شاعر و ادیب، ناول نگار)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں
  • جنون لطیفہ
  • کچھ ایسے اگلے سفر کی تکان طاری ہوئی
  • سیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
پچھلی پوسٹ
نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں

متعلقہ پوسٹس

عدم اعتماد کا بحران اور عمران خان!

مارچ 11, 2022

کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے

دسمبر 15, 2019

مقدس ناتا

دسمبر 29, 2019

مسلمانوں کی حالت زار

اکتوبر 24, 2024

یادش بخیریا

دسمبر 8, 2019

یزید

اکتوبر 29, 2019

دنیا ترے خیال سے آباد کر چلے

دسمبر 20, 2020

یہ زمیں جو ثقافت میں زرخیز تھی

جنوری 12, 2022

‘مرغ جنگ’ اور معاشی استبداد کا نیا رخ

مئی 12, 2026

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 15, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آلو کھا کر آنسو جھیل دیکھیے

اکتوبر 9, 2022

مصوّر

نومبر 6, 2020

سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو...

جنوری 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں