خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!

از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2025 0 تبصرے 54 مناظر
55

کسی بھی مہذب اور باشعور معاشرے کی پہچان اس کے اہل ِقلم سے ہوتی ہے۔ مصنف، شاعر، محقق اور ادیب وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے قوموں کو شعور، نظریہ، مقصد اور سمت عطا کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں نسلوں کے اذہان پر اثر انداز ہوتی ہیں، دلوں کو جلا بخشتی ہیں اور اندھیروں میں چراغ کی مانند راستہ دکھاتی ہیں۔ہمارے ہاتھوں انہی مصنفین کی حوصلہ شکنی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ہم ایک ایسے ماحول میں جی رہے ہیں جہاں اہل ِ قلم کی قدر نہیں، ان کی تخلیقات کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے۔کتاب لکھنا آسان نہیں، یہ مہینوں اور برسوں کی محنت کا ثمر ہوتی ہے، مگر اس کا اعتراف، پذیرائی یا سراہنے کی روایت ہماری سوسائٹی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔یہ روش صرف افراد کی نہیں؛ بل کہ پورے معاشرے کی فکری گراوٹ کا پتہ دیتی ہے۔ کیونکہ جب اہل ِ علم کی حوصلہ شکنی کی جائے، تو نوجوان نسل تحقیق، مطالعے اور تخلیق سے منہ موڑ لیتی ہے، نتیجتاً ایک ایسا خلا جنم لیتا ہے جو معاشرے کو فکری بانجھ پن کی طرف لے جاتا ہے۔آج اکثریت کتاب لکھنے والے ہمارے معاشرتی رویے سے پریشان ہی نہیں،بل کہ دلبراشتہ ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا رویہ ہے جو اہل ِکتاب سے کیا جاتا ہے اور اسے قابل ِ فخر سمجھا جاتا ہے؛ حالانکہ اپنے وسائل، وقت کو دوسروں کے لئے وقف کر کے کتابیں لکھی جاتی ہیں، جن کا مقصد انسانیت کو شعور کی بیداری ہوتا ہے۔کتب ہی ہیں جو معاشرتی ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ نسل ِ نو کو اپنی تاریخ سے آشنا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارا رویہ اہل ِ قلم کے لئے ناقابل ِ بیان ہے۔ہم کتاب لکھنے والے جن کا خون شامل ہوتا ہے اس گلستان میں، ان کی داد کے بجائے ہم کتاب تحفہ لینا بھی ایک احسان سمجھتے ہیں۔
کتاب ایک ایسا خاموش استاد ہے جو بنا کسی تعصب، آواز اور تفریق کے علم بانٹتی ہے۔ اقوامِ عالم کی ترقی، تہذیبی ارتقاء اور فکری بیداری میں کتاب کا کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ یہ محض اوراق کا مجموعہ نہیں، بلکہ صدیوں کے تجربات، مشاہدات، خوابوں اور خیالات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ ”ابو الفرج اصفہانی“ اپنی مشہور ادبی کتاب ”الاغانی“ لکھ رہے تھے تو اندلس کے امیر کو علم ہوگیا، تو اس نے اندلس سے ایک نسخے کی قیمت کے طور پر ایک ہزار دینار بھیج دیے اور کہا کہ جوں ہی کتاب مکمل ہو، مجھے بھیج دی جائے۔
معاشرتی تبدیلی محض نظام کی تبدیلی نہیں، بلکہ فکر کی تبدیلی ہے۔ جب معاشرے میں رہنے والے افراد کی سوچ بدلتی ہے، جب وہ جہالت سے علم کی طرف سفر کرتے ہیں تو تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ کتاب اس سفر کی اولین سیڑھی ہے۔ کتاب انسان کو شعور عطاء کرتی ہے، اسے اپنے حقوق و فرائض کا شعور دیتی ہے، ظالم اور مظلوم میں فرق سکھاتی ہے، خاموشی کے خلاف آواز بناتی ہے، اور انسان کو انسانیت کی اصل پہچان سے روشناس کرواتی ہے۔کتابیں صرف سبق نہیں دیتیں، یہ خواب دیتی ہیں۔ یہ ہمیں عظمتوں کا سبق پڑھاتی ہیں۔ اقبال، قائداعظم، نیلسن منڈیلا، گاندھی یا دنیا کے کسی بھی بڑے انقلابی رہنما کو دیکھ لیجیے، ان کی شخصیت سازی میں کتاب کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔
ہمارے رویوں سے نسل ِ نو کتاب سے دور ہورہی ہے اورکتاب دوری کے سبب آج تک مسلمان مسلسل نشیب میں جا رہے ہیں اور اہل ِمغرب فراز پر چڑھ رہے ہیں، کیوں کہ آج امریکہ، جاپان، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور اٹلی وغیرہ ممالک میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھی اور لکھی جارہی ہیں۔
بدقسمتی سے دُنیا میں 28 سے زیادہ وہ ممالک ہیں، جہاں کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں، ان میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں۔ پاکستان میں تو 72 فیصد پاکستانی کتاب سے دوری اور 27 فیصد کتب بینی کے شوقین ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ کتابوں کا وجود رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا سبب بن گیا تھا یعنی لڑکیوں کو جہیز میں کتب خانے دیے جاتے تھے۔ ”امام اسحاق بن راہویہ“ نے ”سلیمان بن عبداللہ“ کی بیٹی سے شادی اس لیے کی تھی کہ اس سے انہیں امام شافعی کی جملہ تصانیف پر مشتمل لائبریری مل گئی تھی۔
خلیفہ ہارون الرشید، کاتب ”ابن ِ اسحاق“ کو ہر اس کتاب کا سونے سے تول کر معاوضہ دیا کرتا تھا جو وہ غیردیگر زبانوں سے عربی میں منتقل کرتا تھا۔ غرض یہ کہ عوام سے لے کر امرا تک سارے لوگ علوم و فنون کے قدردان تھے۔ تب ہی تو اسے مسلمانوں کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ اُس وقت عالمِ اسلام میں کوئی شہر، کوئی گاؤں ایسا نہیں تھا جس میں لائبریری نہیں تھی۔ مثلاً ”دارالحکمت“ قاہرہ میں اس قدر عظیم الشان ذخیرہ کتب جمع کیا گیا تھا، جو اس سے پہلے کسی بادشاہ نے جمع نہیں کیا تھا۔

تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے کتاب سے دوستی رکھی، وہ زندگی کے ہر میدان میں ترقی اور عروج کی منازل طے کرتی گئیں، لیکن جیسے ہی کتاب و علم سے رشتہ توڑا پستی اور ذلت نے انہیں گھیر لیا۔ ساتویں صدی سے تیرہویں صدی عیسوی تک بغداد علم و ادب کا گہوارہ رہا۔ غرناطہ، قرطبہ اور قاہرہ دنیا کے عظیم تاریخی اور علمی سرمایے تصور ہوتے تھے، لیکن آج علم و ادب سے دوری نے مسلمانوں سے ان کا وقار اور تخت تک چھین لیا ہے۔ 1858ء میں جب مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا، تو انگریزوں نے لال قلعہ کے شاہی لائبریری سے بھی ہزاروں کتابیں لندن پہنچا دیں۔ آج بھی لندن میں انڈیا آفس لائبریری اور پیرس لائبریری میں مسلمانوں کی ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ آج ہمارے منظر کا ذکر علامہ محمد اقبال نے کچھ اس طرح کیا کہ:مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی،جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا۔

آج جب معاشرہ نفرت، عدم برداشت، جھوٹ، بے حیائی اور فکری انحطاط کا شکار ہے، تو ایسے میں کتاب ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ہمیں فکری پستی سے نکال سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کتاب سے اپنا رشتہ دوبارہ مضبوط کریں، لائبریریوں کو آباد کریں، مطالعے کو فیشن نہیں، ضرورت بنائیں۔کیونکہ یاد رکھیں! قلم کی توہین، فکر کی توہین ہے۔ اور فکر کی توہین، زوال کی پہلی سیڑھی!

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • لباسِ شب سا بدن
  • شَجَرِ شعر کے پَھل سُرخ ، ہری شاخِ سُخَن
  • موسم بدل رہا ہے
  • ایسا بھی کہیں دیکھا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا کہنے
پچھلی پوسٹ
صدائے رفتگاں پھر دل سے گزری

متعلقہ پوسٹس

کیسے رہیں نہ لوگ یہاں

مئی 31, 2024

عشق نے مجھ میں

اکتوبر 16, 2025

میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں

مئی 31, 2020

تریاق

جون 3, 2023

ایک رشتے کو نبھانے کے لیے

مارچ 27, 2019

 کمپی کاری کا قاتل

نومبر 23, 2019

کباڑی غنچے

مارچ 24, 2026

اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر

جنوری 23, 2020

بادشاہ چیل

جنوری 24, 2026

مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ

دسمبر 22, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہے بحرِ بے کَنار سے اَفزُود...

اکتوبر 27, 2025

جنت

جون 9, 2020

پتھروں کی گواہی

دسمبر 23, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں