خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےجنت
اردو افسانےاردو تحاریرسریندر پرکاش

جنت

از فضّہ جون 9, 2020
از فضّہ جون 9, 2020 0 تبصرے 84 مناظر
85

جنت

اس واقعہ کے بعد میرے وِژن میں ایک عجیب سی تبدیلی آگئی ہے۔ میں جب کسی چیز کو دیکھتا ہوں تو وہ ویسی نظر نہیں آتی جیسی کہ بظاہر دکھائی دیتی ہے۔۔۔ اس چیز میں چھپا ہواکچھ اور ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ جو کچھ اور ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہوسکتاہے۔ میں ٹھیک طرح سے بیان نہیں کرسکتا۔

وہ واقعہ مردہ خانہ میں پیش آیا تھا۔۔۔ وہ دانا جس نے ایک لمبا سفید چغہ پہن رکھا تھا۔ چہرے پر سبز رنگ کا نقاب تھا،جس میں سے محض اس کی آنکھیں ہی دکھائی دیتی تھیں۔ اور آنکھیں بھی ایسی کہ ہر لحظہ مچلتی ہوئی۔۔۔ کبھی فرش پر دیکھ رہی ہیں تو کبھی عرش پر۔۔۔ اور اگر کسی آدمی پر ایک پل کے لیے نظر گڑ گئی ہے تو لگتا کہ جسم کے آر پار ہی توہوگئی ہے۔ آگے بڑھا اور اس نے لمبی میز پر پڑے ایک آدمی کے جسم کو ایک انتہائی تیز چمکتے ہوئے چاقو سےگردن کی جڑ سے لے کر بالکل نیچے تک ایک ہی وار میں کاٹ دیا۔۔۔ ایسے کہ جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور جسم کے اندر جو کچھ تھا وہ سب صاف صاف دکھائی دینے لگا۔ تعفن بے انتہا تھا لیکن ایک ربڑ کی پائپ اس جسم کے کاٹے ہوئے حصوں پر لگاتار پانی ڈال رہی تھی۔ ہر چیز دھل کر بالکل اچھی طرح سامنے تھی۔ سانس اور کھانے کی نلی، پھیپھڑے، دل، پسلیوں کی ہڈیاں، انتڑیاں معدہ، جگر اور گردے اس کے پیشاب اور فضلے کی نلیاں۔۔۔ اور اس کے نیچے تو ٹانگیں ہی رہ گئی تھیں جن پر انسان کھڑا ہوسکتا ہے۔

عجیب دہشت ناک منظر تھا۔۔۔ لمبی میز پر لیٹا ہوا آدمی بے حس و حرکت پڑاتھا۔ شاید وہ مرچکا تھا۔۔۔ دانا نے ایک ایک چیز جسم میں سےنکال کر دکھائی اور پھر اسی جگہ پر رکھ دی جہاں وہ پہلے پڑی تھی۔۔۔ جب اس نے اپنی نظریں اٹھاکر سب کےچہروں پر دیکھا تو سب کارنگ فق ہو چکاتھا،سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ اس دانا نے ٹٹولتی ہوئی نظریں سب پر ڈالیں اور پھر بغیر کچھ بولے میز کا پورا چکر لگاکر لیٹے ہوئے آدمی کےسر کی طرف آگیا۔ اس بار اس کے ہاتھ میں ایک بڑا ہی پتلا سا مگر بڑا ہی تیز چھوٹا ساچاقو تھا۔ اس نے میز پر لیٹے ہوئے آدمی کے سر کو ذراسا اٹھایا اور پھر اس چاقو کی تیز نوک سر کے گرد گھمادی، دوسرے ہی لمحہ کھوپڑی کااوپری حصہ ناریل کےآدھے ٹکڑے کی طرح اس کے ہاتھ میں تھا اور میز پر لیٹے ہوئے آدمی کا بھیجا دکھائی دےرہاتھا۔

اوہ تو ایسا ہوتاہےآدمی کادماغ؟ آخر اس میں اور کسی جانور کے دماغ میں فرق ہی کیا تھا۔ اس طرح جیسے برسات کے موسم میں زمین میں سے اپنے آپ نکل آنے والے لمبے لمبے گنڈھویوں کاایک گچھا ہو۔۔۔ یہ سب دیکھ کر میں سکتے میں آگیا تھا، اور اس دن سے میرا وژن بالکل بدل گیا تھا۔

اب میں یا میرے گھر کاکوئی فرد بیمار ہوتا ہے اور ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور وہ اچھی طرح سے دیکھ بھال کرنےکے بعد جب یہ کہتاہے۔

“Don’t worry everything will be all right” تو میں سمجھتا ہوں۔۔۔ اس کی بات کامطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ میں ٹھیک ہوجاؤں گا۔ بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہارے جسم کا وہ حصہ جس میں خرابی ہے ٹھیک ہوجائے گا۔ ڈاکٹر کا وہ جملہ مجھے بار بار اپنے ذہن میں گونجتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سوتے میں کوئی کام کرتے ہوئے اور یا پھر سڑک پر چلتے پھرتے۔

ڈاکٹر کی آواز، دانا کاخاموش پراسرار چہرہ اور اس بزرگ کاہیولہ جس کی کہانی میں سنانے جارہا ہوں۔ میری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ان تینوں چیزوں نے مجھے دوسرے لوگوں سے ذرامختلف کردیا ہے۔۔۔ ویسے ہی جیسے کوہِ طور پر چڑھنے کے بعد۔۔۔

پہلے سارا کاسارا جنگل تھا۔۔۔ چٹانیں، درخت، جھاڑ جھنکار، اور جھرنے۔۔۔ سورج ان سب چیزوں پر اپنی انگلیاں پھراتا ہوا گزر جاتاتھا۔ اور ہر شے سورج کی انگلیوں کو احترام سےبوسے دے کر سرجھکالیتی تھی اور پھر سب طرف اندھیرا چھا جاتا تھا۔

وہ دانا۔ جس کاچہرہ سبز نقاب میں چھپا تھا۔۔۔ اس کی آنکھیں ہی صرف اس کی پہچان تھیں۔ ایک روز، اس جنگل میں ایک بزرگ وارد ہواجس کی آنکھیں بالکل اس دانا جیسی تھیں۔ چہرے پر لمبی سفید داڑھی سر پر سفید پگڑی، پیشانی پر بے مثال نور اور سر کے پیچھے روشن ہالہ اور جسم پر دھنک کے رنگوں کا لمبا چغہ۔ اس بزرگ نے اپنی چمکیلی خوبصورت آنکھیں سارےجنگل کی ایک ایک چیز پر ٹکائیں اور پھر بےاختیار بول اٹھا۔

’’سب بہت خوبصورت ہے لیکن بکھراہوا۔‘‘

حسن سب طرف بکھرا ہوا تھا۔ ہر چیز اپنے آپ میں حسن کااستعارہ تھی اور اس کی خوبصورت، لمبی طلسمی انگلیوں میں حرکت پیدا ہوئی اور ہرچیز جو کائنات میں بکھری ہوئی تھی اورحسین تھی اس نے اکٹھا کرنا شروع کی۔۔۔ ایک ایک چیز اور انھیں ایک ترتیب دینے لگا۔۔۔ جیسے آدمی کےجسم میں ترتیب سے رکھی ہوئی چیزیں۔ اس طرح کئی صدیاں گزرگئیں۔ کائنات میں زمین سےآسمان تک دس انگلیاں، دوپیر اور خوبصورت نورانی آنکھیں حرکت کرتی رہیں اور پھر سب مکمل ہوگیا اور وہ بزرگ تھک کر نڈھال ہوا اور ایک بہت بڑی فصیل کے بڑے سےدروازے کی بہت بڑی دہلیز پر بیٹھ گیا۔۔۔ کافی دیر تک وہ بیٹھا سستاتا رہا۔ اس کی نورانی آنکھوں کو لمبی پلکوں نے ڈھانپ دیا اس کی خوبصورت ملکوتی انگلیوں میں اب بالکل حرکت نہ تھی اور اس کے گارے سے اٹے ہوئے پاؤں پر کی پرانی کھال آہستہ آہستہ اترنےلگی اور اس کے نیچے سے نئی کھال نکل آئی۔۔۔ کئی صدیاں اور بیت گئیں۔

اور پھر ایک دن اچانک اس کی پلکوں میں جنبش ہوئی اور اس نے انکھیں کھول دیں۔ سب طرف ایک نظر ڈالی اس کے چہرے پر کسی قسم کی تکان کے کوئی اثرات نہ تھے۔ وہ اٹھااور اس نے بڑے گیٹ میں بنی ہوئی چھوٹی سی کھڑکی کے دروازے پر ہاتھ جمادیا۔ بڑا گیٹ سونے کا بنا ہوا تھا۔ اور اس میں جابجا قیمتی پتھر، ہیرے اور جواہرات جڑے تھے۔ کھڑکی کھل گئی اور اندر سے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور بزرگ کے چہرے سے ٹکراکر جنگل کی طرف نکل گیا۔ ہوا میں خوشبو بسی ہوئی تھی جسے بزرگ نےاپے نتھنوں کے راستے اپنے اندر تک کھینچ لیا۔ اس کی داڑھی کے بال ہوا کے جھونکے سےمرتعش ہوئے اور بزرگ کے چہرے پر ایک خوشگوار سفید سی پرت ایک لمحہ کے لیے پھیل گئی۔۔۔ اور پھر وہی پرانا نور دھیرے دھیرے ابھرآیا۔

وہ کھڑکی کے راستے اندر داخل ہوا۔۔۔ اندر جنت بنی ہوئی تھی جس کی فصیل کی دیواریں چاندی کی تھیں، فرش مخمل کااور جنگل میں اپنے آپ کھلے ہوئے تمام پھول بڑی ترتیب سےکیاریوں میں سجےتھے۔ وہ دنیا کی حسین ترین جگہ تھی۔ جس کے پیڑوں پر رنگا رنگ پروں والے پرندے خاموش بیٹھے تھے۔۔۔ دنیا کی حسین ترین عورتوں کے مجسمے جابجا کھڑے تھے، فوارے میں سے آبِ حیات کی پہلی بوند اچھلنے کے کے لیے تڑپ رہی تھی، ندیوں کی آغوش دودھ اور شہد کی دھاروں کے لیے اپنے بازو کھولے ہوئے تھی۔۔۔ اور کیاریوں میں ایستادہ غنچے چٹکنے کے لیے بے تاب تھے۔۔۔ وہ بزرگ آہستہ آہستہ چلتا ہوا او ریہ سب دیکھتا ہوا جنت کے بالکل وسط میں کاریگری کے بہترین نمونےاور عجیب و غریب دھات سے بنے تخت پر جابیٹھا۔ اور پھر اس بےحرکت منظر کا ایک بے حرکت حصہ بن گیا۔۔۔ پھر کئی صدیاں بیت گئیں۔ اس سارے ماحول اور سارے حالات میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ بس اس اثنا میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک تیز رفتار پرندہ جنگل میں اڑتا ہوا اس جنت کی چہاردیواری پر سے گزرنےلگا تھاکہ اچانک اس کے پنکھ جل گئے اور وہ چیختا ہواکہیں دور پہاڑ کی ڈھلان پر سے لڑھکتا ہوا گہری کھائی میں جاگرااور ایک دو بار تڑپا اور سرد ہوگیا پھر اس کا سارا جلاہوا جسم ہوا میں اڑتا ہوا کائنات میں پھیل گیا۔

اس حادثے کو اس بزرگ نے دیکھا تھا اور پھر قدرے مسرور ہواتھا۔ اور وہ مسرت وقتی تھی جو آہستہ آہستہ اس کے چہرے سے ڈھل گئی اور ایک انجانی سی اداسی اس کے چہرے پر لمحہ لمحہ پھیلنے لگی۔

وہ اپنے تخت پر سے اٹھا۔ اور آہستہ آہستہ چلتاہوا بڑے پھاٹک تک پہنچا۔ اسے باہر ایک آہٹ سنائی دی۔ وہ دم سادھے کھڑا ہوگیا اور آنے والے کاانتظار کرنے لگا۔ مگر کسی نے دروازے پر دستک نہ دی۔ اس نےمایوس ہوکر کھڑکی کی جھری میں سے دیکھا۔۔۔ اس نے دیکھ لیا کہ ایک کتا کھڑاحیرانی سے اس تختی کی طرف منہ اٹھائے دیکھ رہا ہے جو بڑے پھاٹک پر آویزاں تھی اور جس پر اندر داخل ہونے کی سات شرائط لکھی تھیں۔۔۔ اس بزرگ کو لگا کتے کو تختی کا مطالعہ کرنے میں کئی صدیاں بیت گئی ہیں۔ بزرگ بے چین ہو اٹھا اور اس نے لپک کر کھڑکی کا ایک پٹ کھول دیا۔

کتا گھبراکر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ جیسے ہی اس نے بزرگ کانورانی چہرہ دیکھا وہ دم دباکر اور ایک دلدوز چیخ مارتا ہواجنگل کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ بزرگ اس واقعہ سے بہت حیران ہوا۔۔۔ اس نےجنگل کی طرف دیکھا۔ پیڑوں پر رنگارنگ پنکھوں والے پرندے چہچہارہے تھے، پہاڑ پر سے جھرنے گر رہے تھے، ہریالی کی زلفوں میں سورج اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہا تھا، کچھ چرندے آہستہ آہستہ گھاس چرتے ہوئے ایک سمت جارہے تھے اور دور اسی بزرگ کی شکل و صورت کے کچھ لوگ جو بدن سے ننگے تھے ایک پگڈنڈی پر چلے جارہے تھے۔ تب بزرگ نے اندر کی طرف پلٹ کر دیکھا۔ وہاں ہر خوبصورت چیز بے حرکت تھی۔ پھر اس نے بڑے گیٹ پر لٹکی ہوئی سات شرائط کی تختی دیکھی جس پر آخری شرط یہ تھی کہ جنت کی ہر چیز میں اس وقت زندگی آئے گی جب پہلا آدمی پہلے چھ شرائط پوری کرکے اندر قدم رکھے گا۔۔۔ دیر تک وہ اس تختی کو دیکھتا رہا اور پھر مایوسی سے سرجھکا کر اندر داخل ہوا اور اس نےکھڑکی کے پٹ بند کردیے۔ وہ چلتا ہوا تخت پر جابیٹھا اور سوچنے لگا۔۔۔ آدمی اپنے ہی بتائے ہوئے قوانین کے سامنے ایک دن کس طرح بے دست و پا آکھڑا ہوتا ہے اور اس دن وہ دنیا کا سب سے بے بس آدمی ہوتا ہے۔

وہ اپنےتخت پر بیٹھا رہا۔۔۔ اور سوچتا رہا۔۔۔ اور پھر شاید کئی صدیاں اور بیت گئیں۔۔۔ کہ اچانک اس بے جان ماحول میں اوب کر اس نے اپنے پاؤں پر نظر ڈالی۔ اس کے داہنے پاؤں کا انگوٹھا پتھر کا ہوگیا تھا۔ وہ گھبراگیا اور ایک جھٹکے سے اپنے تخت پر سے اٹھا اور بڑے پھاٹک کی طرف بڑھا۔۔۔ باہر کوئی آہٹ نہ تھی۔

اس نے کھڑکی کا دروازہ کھولا۔۔۔ اور باہر نکل آیا۔۔۔ سامنے ہر چیز میں زندگی تھی اور ہر چیز حرکت میں تھی۔ اس نے پلٹ کر سونے کے چمکتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا اور کھڑکی کے کھلے ہوئے پٹ میں سے دکھائی دینے والی ہرچیز کو دیکھا جو بالکل بے حرکت تھی اور پھر اپنے داہنے پاؤں کے انگوٹھے کو دیکھا جو پتھر کا ہو چکا تھا۔۔۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ اور آسمان پر آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے سورج کو دیکھنے لگا جس کے سامنے کائنات کی ہر چیز نے سرجھکادیا تھا اور اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے جارہے تھے۔

اور پھر سب طرف اندھیرا چھا گیا۔۔۔ اندھیرے میں بیٹھا ہوا بزرگ اوب گیا اور اس نے نظریں اٹھاکر جنگل کی طرف دیکھا اور۔۔۔ کہیں بہت دور اسے روشنی دکھائی دی۔ وہ غیر ارادی طور پر اٹھا اور اس نے اس روشنی کی طرف چلنا شروع کیا۔ چلتے چلتے کئی صدیاں اور بیت گئیں۔۔۔ اس نے دیکھا سامنے جنگل کے بالکل وسط میں ایک الاؤ جل رہا ہے۔ جس کے شعلے بہت بلندی تک پہنچ رہے ہیں۔ آگ کی روشنی میں اسے کچھی مٹی کے بہت سے جھونپڑے دکھائی دیے۔۔۔ جن کی دیواریوں پر شعلےرقص کر رہے تھے۔ الاؤ کے گرد بہت سے لوگ بیٹھے تھے جو بالکل ننگ دھڑنگ تھے۔ وہ سب بہت خوش تھے اور آپس میں خوش گپیاں کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر اداسی اور مایوسی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اندھیرے میں آگ نےان کے چہروں کو اور بھی زیادہ چمکا دیا تھا۔

اس بزرگ نے بغیر کچھ سوچے ہوئے۔ اپنے سر پر سے پگڑی اتار پھینکی، پھر اپنا لمبا چغہ اتار دیا۔۔۔ آگ کی روشنی میں اسے لگا کہ وہ اب بالکل ان جیسا ہوگیا ہے پھر وہ دھیرے دھیرے چلتاہوا ان لوگوں کے قریب پہنچا اور ان میں شامل ہوگیا اور انھیں کی طرح خوش گپیوں میں مصروف ہوگیا اور ان کاایک حصہ بن گیا۔

اس دن کے بعد میں نے اسے اس دن دیکھا تھا جس دن اس نے مردہ خانے میں میز پر لیٹے ایک آدمی کا جسم چیر کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر میں نے اسے پہچان لیا تھا اور پھر میں ایکا ایکی خوف زدہ ہوگیا۔

سریندر پرکاش

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اکیس توپوں کی سلامی
  • آب گزیدے
  • جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو
  • ستلج پھر بپھرا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
بازگوئی
پچھلی پوسٹ
ساحل پر لیٹی ہوئی عورت

متعلقہ پوسٹس

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟

مارچ 10, 2020

کھول دو

اکتوبر 16, 2019

جب قربانیوں کا صلہ اجنبیت بن جائے

اکتوبر 1, 2025

خط اور انتظار

نومبر 14, 2019

برصغیر،ہومیو پیتھی اور اردو

ستمبر 19, 2020

محبتوں كی سفیر شاعرہ

جنوری 21, 2020

اسکریبل آن لائن اجنبی کے ساتھ

جون 10, 2024

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020

ملبے کا ڈھیر

جنوری 16, 2020

عبد العلیم صدیقی اور تیسری بساط

ستمبر 7, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوابناک لمحہ

نومبر 24, 2024

ماہ صفر المظفر اور اس کی...

جولائی 19, 2026

کہنو مجنوں کے مرنے کی

جولائی 5, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں