خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےملبے کا ڈھیر
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ملبے کا ڈھیر

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020 0 تبصرے 340 مناظر
341

ملبے کا ڈھیر

کامنی کے بیاہ کو ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ اس کا پتی دل کے عارضے کی وجہ سے مر گیا اور اپنی ساری جائیداد اس کے لیے چھوڑ گیا۔ کامنی کو بہت صدمہ پہنچا، اس لیے کہ وہ جوانی ہی میں بیوہ ہو گئی تھی۔ اس کی ماں عرصہ ہوا اس کے باپ کو داغ مفارقت دے گئی تھی۔ اگر وہ زندہ ہوتی تو کامنی اس کے پاس جا کر خوب روتی تاکہ اسے دم دلاسہ ملے۔ لیکن اُسے مجبوراً اپنے باپ کے پاس جانا پڑا جو کاٹھیاواڑ میں بہت بڑا کاروباری آدمی تھا۔ جب وہ اپنے پرانے گھر میں داخل ہوئی تو سیٹھ گھنشام داس باہر برآمدے میں ٹہل رہے تھے۔ غالباً اپنے کاروبار کے متعلق سوچ رہے تھے۔ جب کامنی ان کے پاس آئی تو وہ حیران سے ہو کر رہ گئے۔

’’کامنی‘‘

کامنی کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، وہ اپنے پتا سے لپٹ گئی اور زارو قطار رونے لگی۔ سیٹھ گھنشام داس نے اس کو پچکارا اور پوچھا

’’کیابات ہے ؟‘‘

کامنی نے کوئی جواب نہ دیا اور روتی رہی۔ سیٹھ جی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بات کیا ہے۔ انھوں نے صرف ایک ہی چیز کے متعلق سوچا کہ شاید میری بیٹی کے پتی نے اس سے کوئی زیادتی کی ہے جس کے باعث اس کو بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس سے پوچھا

’’کیوں بیٹی۔ کیا رنچھوڑ نے کوئی ایسی ویسی بات کی ہے؟‘‘

اس پر کامنی اور بھی زیادہ رونے لگی۔ سیٹھ گھنشام داس نے بہت پوچھا مگر کامنی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آخر تنگ آگئے اور جھنجھلا کر کہا

’’مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ تم نے میرا آدھا گھنٹہ خراب کر دیا ہے۔ بولو کیا بات ہے ؟‘‘

کامنی نے اپنی آنسو بھری آنکھوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور کہا

’’ان کا دیہانت ہو گیا ہے‘‘

سیٹھ گھنشام نے اپنی دھوتی کالانگ درست کیا اور پوچھا۔ کس کا ؟‘‘

کامنی نے ساڑھی کے پلو سے آنسوخشک کیے۔

’’وہی جن سے آپ نے میرا ویاہ کیا تھا۔ ‘‘

سیٹھ گھنشام سکتے میں آگئے۔

’’کب ؟‘‘

’’پرسوں‘‘

’’تم نے مجھے اطلاع بھی نہ دی‘‘

کامنی نے کہا

’’میں نے آپ کو تار دیا تھا۔ کیا ملا نہیں آپ کو ؟‘‘

اس کے باپ نے تھوڑی دیر سوچا

’’کل تار تو کافی آئے تھے۔ مگر مجھے اتنی فرصت نہیں تھی کہ انھیں دیکھ سکوں۔ اب میں پیڑھی جارہا ہوں۔ ہوسکتا ہے ان تاروں میں تمہارا تار بھی ہو‘‘

کامنی دو دن اپنے باپ کے پاس رہی اس کے بعد واپسی بمبئی چلی آئی اور اپنے شوہر کی جائیداد اپنے نام منتقل کروانے میں مشغول ہو گئی۔ رنچھوڑ کا صرف ایک بھائی تھا مگر اس کا جائیداد پر کوئی حق نہیں تھا، اس لیے کہ وہ اپنا حصہ وصول کر چکا تھا۔ کامنی جب اس کام سے فارغ ہو گئی تو اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ کاٹھیاواڑ گجرات میں دس مکان، احمد آباد میں پانچ، بمبئی میں سات، ان کا کرایہ پر ماہ اُسے مل جاتا جو پانچ ہزار کے قریب ہوتا یہ سب روپے وہ اپنے منیم کے ذریعے سے وصول کرتی اوربینک میں جمع کرا دیتی۔ ایک برس کے اندر اس کے پاس ایک لاکھ روپیہ جمع ہو گئے اس لیے کہ اُس کے شوہر نے بھی تو کافی جائیداد چھوڑی تھی۔ وہ اب بڑی مالدار عورت تھی۔ دولت کے نشے نے اُس کے سارے غم دُور کردیے تھے۔ لیکن اُس کو کسی ساتھی کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ رات کو اکثر اسے نیند نہ آتی۔ گھر میں چار نوکر تھے جو اُس کی خدمت کے لیے چوبیس گھنٹے تیار رہتے۔ ہر قسم کی آسائش میسر تھی۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں خلا محسوس کرتی تھی۔ جیسے موٹر کا ٹائر تو ہے ثابت و سالم مگر اس میں ہوا کم ہے۔ پچک پچک جاتا ہے۔ ایک روز وہ بڑی افسردہ حالت میں باہر برآمدے میں لٹکے ہوئے پنگھوڑے پر بیٹھی تھی کہ اس کا منیم آیا۔ کامنی اسے صرف منیم جی کہتی تھی۔ وہ عام منیموں جیسا بڈھا اور جھڑوس نہیں تھا۔ اُس کی عمر یہی تیس برس کے قریب ہو گی۔ صاف ستھرا۔ دھوتی بڑے سلیقے سے باندھتا تھا۔ خوش شکل اور تندرست و توانا تھا۔ پہلی مرتبہ کامنی نے اُسے غور سے دیکھا اور جھولا جھولتے ہوئے اس کے پرنام کا جواب دیا اور اُس سے پوچھا۔

’’کیوں منیم جی آپ کیسے آئے ؟‘‘

منیم نے اپنا بستہ جو اس کی بغل میں تھا نکالا۔ کھولنے ہی والا تھا کہ کامنی نے اس سے کہا

’’رہنے دیجیے حساب کتاب، چلیے چائے پئیں‘‘

دونوں اندر چلے گئے۔ چائے تیار تھی، گجراتی انداز کی۔ منیم کچھ جھینپا، اس لیے کہ وہ اس کا ملازم تھا اور دو سو روپے ماہوار لیتا تھا مگر کامنی نے اصرار کیا کہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھے۔ چائے کے ساتھ نمکین بسکٹ، کھاری سینگ ( نمک لگی مونگ پھلی) اور دال مونٹھ اور کچھ اسی قسم کی تین چار چیزیں اور تھیں۔ کامنی غور سے منیم کو دیکھ رہی تھی جو پہلی مرتبہ اس نوازش سے دو چار ہوا تھا۔ کامنی نے چائے کا ایک گھونٹ پی کر اُس سے پوچھا

’’منیم جی آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

نوجوان منیم کے ہاتھ سے بسکٹ گر کر چائے کی پیالی میں ڈبکیاں لگانے لگا

’’جی میرا۔ میرا نام۔ رنچھوڑ داس ہے۔ ‘‘

کامنی کے ہاتھ سے چائے کی پیالی گرتے گرتے بچی۔

’’رنچھوڑ داس‘‘

جی ہاں‘‘

یہ تو میرے سورگ باشی پتی کا نام ہے‘‘

منیم نے کہا

’’مجھے معلوم ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اپنا نام بدل لوں گا‘‘

کامنی نے ایک بار پھر منیم کو غور سے دیکھا

’’نہیں نہیں۔ یہ نام مجھے پسند ہے۔ ‘‘

چائے کا سلسلہ ختم ہوا تو منیم نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔ ایک بلڈنگ پانچ منزلہ بنانے کا ٹھیکہ انھیں مل سکتا تھا۔ اُس نے کامنی سے کہا کہ اس سودے میں کم از کم پچاس ہزار روپے بلکہ اس سے زیادہ بچ جائیں گے۔ کامنی کے پاس کافی دولت موجود تھی اس کو کسی قسم کا لالچ نہیں تھا۔ لیکن منیم کے مشورے کو وہ نہ ٹال سکی۔ اس نے کہا

’’ہاں منیم جی۔ میں یہ ٹھیکہ لینے کے لیے تیار ہوں اس لیے کہ آپ چاہتے ہیں‘‘

منیم کی باچھیں کھل گئیں

’’بائی جی۔ ٹھیکہ کیا ہے بس سونا ہی سونا ہے‘‘

’’سونا ہو یا لوہا۔ آپ کو روپیہ کتنا چاہیے؟‘‘

’’دس ہزار‘‘

’’کل دس ہزار ؟‘‘

’’جی نہیں۔ یہ تو فوکٹ میں جائے گا۔ میرا مطلب ہے کہ رشوت میں۔ جب ٹھیکہ مل جائے گا تو ہم اُسے کسی اور کے حوالے کر دیں گے اور اپنے پیسے کھرے کر لیں گے‘‘

کامنی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی

’’ٹھیکہ مل جائے گا تو آپ اسے کسی دوسرے آدمی کے حوالے کیوں کریں گے ؟‘‘

منیم ہنسا۔

’’بائی جی۔ یہ دنیا اسی طرح چلتی ہے۔ ہم محنت کیوں کریں۔ دس ہزار دیں گے۔ یہ کیا کم ہے اور سالا جس کو ہم دیں گے ہزاروں کمائے گا۔ ‘‘

کامنی کے دماغ میں روپے پیسے نہیں تھے وہ بار بار منیم کو دیکھ رہی تھی۔ منیم کو بھی اس کا علم تھا کہ وہ اس کی ذات میں دلچسپی لے رہی ہے۔ تھوڑی دیر ٹھیکے بارے میں گفتگو ہوتی رہی لیکن بالکل ٹھس اور بے کیف۔ اچانک منیم نے کامنی کا ہاتھ پکڑ لیا اور دوسرے کمرے میں لے گیا۔ منیم اور کامنی دیر تک اُس کمرے میں رہے۔ منیم اپنی دھوتی کا لانگ ٹھیک کرتے ہوئے باہر نکلا۔ بیڑی سلگا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں زردرو کامنی آئی اور اس کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ منیم نے اس سے کہا

’’بائی جی تو وہ دس ہزار کا چیک لکھ دیجئیے‘‘

کامنی اُٹھی۔ اپنی ساڑھی کے پلو میں اُڑسے ہوئے چابیوں کے چھلے کو نکالا اور الماری کھول کر چیک بک نکالی اور دس ہزار روپے کا چیک کاٹ کر منیم کو دے دیا۔ منیم نے یہ چیک اپنی واسکٹ میں رکھا اور کامنی سے کہا

’’اچھا تو میں چلتا ہوں۔ کل کام ہو جائے گا‘‘

دوسرے روز کام ہو گیا ٹھیکہ مل گیا اب اس کو ٹھکانے لگانے کا کام باقی رہ گیا تھا منیم کامنی بائی کے پاس آیا۔ دونوں کچھ دیر دوسرے کمرے میں رہے اس دوران میں سب باتیں ہو گئیں۔ اب یہ مرحلہ باقی رہ گیا کہ ٹھیکہ کس کے نام فروخت کیا جائے۔ کوئی ایسی پارٹی ہونی چاہیے کہ جو یک مشت روپیہ ادا کر دے۔ منیم ہوشیار آدمی تھا۔ اس نے کافی دوڑ دھوپ کی آخر ایک پارٹی ڈُھونڈ نکالی جس نے دو لاکھ روپیہ یک مشت ادا کردیا۔ اور بلڈنگ کا کام شروع ہو گیا۔ منیم نے جب دو لاکھ روپے کامنی کو دیے تو اسے کوئی خاص خوشی نہ ہوئی۔ البتہ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر دوسرے کمرے میں لے گئی۔ جہاں وہ دیر تک زیر تعمیر بلڈنگ کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔ بلڈنگ کا کام دن رات جاری تھا۔ پانچ سو مزدور کام کررہے تھے۔ پانچ منزلہ عمارت بن رہی تھی۔ اُدھر کامنی اور اُس کا منیم دوسرے کمرے میں کئی منزلیں طے کر چکے تھے۔ منیم بہت خوش تھا کہ اس نے بہت اچھا سودا کیا۔ دو لاکھ روپے بغیر کسی محنت کے وصول ہو گئے لیکن جس پارٹی نے یہ ٹھیکہ خریدا تھا اس کو اپنی دانست کے مطابق خسارہ ہی خسارہ نظر آرہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ منافع کی اُمید نہیں تھی۔ ایک مہینہ گزر گیا۔ بلڈنگ پانچوں منزل تک پہنچ گئی۔ پانچ سو مزدور دن رات عمارت سازی میں مصروف تھے۔ رات کو گیس کے لیمپ روشن کیے جاتے سیمنٹ اور بجری کو ملا کر مشین چلتی رہتی۔ مزدوروں میں مردوں کے علاوہ عورتیں بھی تھیں جو مردوں کے مقابلے میں بڑی تن دہی سے کام کرتی تھیں اپنے شیر خوار بچوں کو جو نیچے زمین پر پڑے ہوئے دودھ بھی پلاتیں اور سیمنٹ بجری اُٹھا کر پانچویں منزل تک پہنچاتیں۔ کامنی کے دوسرے کمرے میں ایک دن یہ طے ہوا کہ وہ شادی کر لیں۔ دوسرے دن صبح اخبار میں منیم نے پڑھا کہ وہ بلڈنگ جو تعمیر ہو رہی تھی ناقص مسالہ استعمال کرنے کے باعث اچانک گر گئی۔ پچاس مزدور نیچے دب گئے۔ اُن کی لاشیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ منیم کامنی کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔ جب کامنی نے یہ خبر سنی تو اُس نے منیم کو دھکا دے کر ایک طرف کر دیا جیسے وہ ملبے کا ڈھیر ہے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خیبر پختونخوا امن جرگہ کا اعلامیہ
  • سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم
  • تائی ایسری
  • عظمت صحابہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شب وصل تھی، چاندنی کا سماں تھا
پچھلی پوسٹ
روز ِ مولود سے، ساتھ اپنے ہوا، غم پیدا

متعلقہ پوسٹس

اقبال احمد ساجد

مارچ 28, 2020

بارِ خاک

دسمبر 10, 2024

فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں!

مارچ 30, 2021

بڑھتی ہوئی ویڈیو گرافی

نومبر 19, 2025

آپ اتنے بھی محترم نہیں

دسمبر 3, 2020

پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیا موڑ

ستمبر 19, 2025

فلسفہ استقبالِ ربیع الاول

اکتوبر 16, 2020

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)

اکتوبر 30, 2025

کنگ پوش

جون 14, 2020

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

اگست 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رقعہ بنام نواب میر غلام بابا...

دسمبر 8, 2019

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

شفیق الرحمٰن: اردو مزاح کا لازوال...

ستمبر 19, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں