102
وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں
میں کیا پاؤں گی بس کھونے چلی ہوں
جنوں کی حد سے بھی آگے قدم ہے
نہ جانے اور کیا ہونے چلی ہوں
یہ ممکن تو نظر آتا نہیں ہے
انا کو اپنی میں دھونے چلی ہوں
سمندر آ گیا میرے مقابل
جب اس نے دیکھا میں رونے چلی ہوں
یہی نیکی مجھے زندہ رکھے گی
کہ بوجھ اوروں کا میں ڈھونے چلی ہوں
رہی ہوں مضطرب خود کو بھی پا کر
پھر اپنے آپ کو کھونے چلی ہوں
اتر آئی ہے یاد آنکھوں میں تیری
میں تیرے واسطے سونے چلی ہوں
بہت ہے بارش آلام رومیؔ
حفاظت کو کسی کونے چلی ہوں
رومانہ رومی
