34
جگر میں، آنکھ میں، خُوں میں، کہاں پہ رکھا جائے ؟
سوالِ وصل تو نوکِ زُباں پہ رکھا جائے ؟
زماں پہ اور نہ کون و مکاں پہ رکھا جائے ؟
یہ بارِ غم تو دلِ ناتواں پہ رکھا جائے ؟
ہے رٙتجگوں کا پڑاؤ ہماری آنکھوں میں،
تو کیوں نہ خواب کو دل کی دُکاں پہ رکھا جائے ؟
یہ کاروبارِ مُحبّت جُنُوں کا سودا ہے،
تو کیا خیال ہے اس کو زیاں پہ رکھا جائے ؟
ہمارے پاس ہے چاہت، جُنُوں، بد عہدی،
سوال یہ ہے کہ کِس کو کہاں پہ رکھا جائے ؟
یہ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو بہتر ہے،
زمیں کا فیصلہ کیوں آسماں پہ رکھا جائے ؟
اُسی روایتِ شبیرؓ کے ہیں داعی ہم،
ہمارے سر کا عٙلٙم بھی سِناں پہ رکھا جائے ؟
عُظمی جٙون
