686
کب سماں تھا بہار سے پہلے
غم کہاں تھا بہار سے پہلے
ایک ننھا سا آرزو کا دیا
ضو فشاں تھا بہار سے پہلے
اب تماشا ہے چار تنکوںکا
آشیاں تھا بہار سے پہلے
اے مرے دل کے داغ یہ تو بتا
تو کہاں تھا بہار سے پہلے
پچھلی شب میں خزاں کا سناٹا
ہم زباںتھا بہار سے پہلے
چاندنی میںیہ آگ کا دریا
کب رواں تھا بہار سے پہلے
بن گیا ہے سحابِ موسمِ گل
جو دھواں تھا بہار سے پہلے
لُٹ گئی دل کی زندگی ساغر
دل جواںتھا بہار سے پہلے
ساغر صدیقی
