104
کسی کے آنے کے کامل یقیں پہ چلتا ہے
یہ دل ابھی بھی محبت کے دیں پہ چلتا ہے
مجال ہے جو کبھی آۓ اہل دل کی طرف
خرد کا زور ہمیشہ ذہیں پہ چلتا ہے
ہمارے پالے ہوئے ہیں یہ سامری کے نہیں
عصائے موسی کہاں آستیں پہ چلتا ہے
کہ جیسے شاہ کوئی جائے تخت کی جانب
یوں میرا بوسہ لب آتشیں پہ چلتا ہے
مقام خلد سے اترا ہے یہ بنی آدم
اسی لیے تو اکڑ کر زمیں پہ چلتا ہے
مرے بغیر بھلا اس کی کوئی وقعت ہے؟
تمھارا حسن مری آفریں پہ چلتا ہے
کمایا میں نے نہیں نام دشت میں یونہی
جہاں کا سکہ ہو صاحب وہیں پہ چلتا ہے
کبھی تو سوچیے کیونکر بطور خنجر کے
ہمارا شعر دل ناقدیں پہ چلتا ہے
خدا کے خوف کا آرا عجیب ہے اظہر
ہمارے دل پہ، تمھاری جبیں پہ چلتا ہے
اظہر عباس خان
