36
کسی کے آنے کے کامل یقیں پہ چلتا ہے
یہ دل ابھی بھی محبت کے دیں پہ چلتا ہے
مجال ہے جو کبھی آۓ اہل دل کی طرف
خرد کا زور ہمیشہ ذہیں پہ چلتا ہے
ہمارے پالے ہوئے ہیں یہ سامری کے نہیں
عصائے موسی کہاں آستیں پہ چلتا ہے
کہ جیسے شاہ کوئی جائے تخت کی جانب
یوں میرا بوسہ لب آتشیں پہ چلتا ہے
مقام خلد سے اترا ہے یہ بنی آدم
اسی لیے تو اکڑ کر زمیں پہ چلتا ہے
مرے بغیر بھلا اس کی کوئی وقعت ہے؟
تمھارا حسن مری آفریں پہ چلتا ہے
کمایا میں نے نہیں نام دشت میں یونہی
جہاں کا سکہ ہو صاحب وہیں پہ چلتا ہے
کبھی تو سوچیے کیونکر بطور خنجر کے
ہمارا شعر دل ناقدیں پہ چلتا ہے
خدا کے خوف کا آرا عجیب ہے اظہر
ہمارے دل پہ، تمھاری جبیں پہ چلتا ہے
اظہر عباس خان
