109
کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا
شعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
وہ بھی منسوب ہوتا جاتا ہے
میں نے جو کچھ کہا نہیں ہوتا
دلِ مجنوں کہ عام چیز نہیں
راستوں میں پڑا نہیں ہوتا
سوچتے سوچتے ٹھٹک جانا
جیسے کچھ بھی بچا نہیں ہوتا
مر نہ جائوں گا چھوڑ دینے سے
چھوڑ دوں، حوصلہ نہیں ہوتا
ناصر ملک
