102
کاش ایسی تقدیر نہ ہوتی
شام اتنی دلگیر نہ ہوتی
یوں میری تحقیر نہ ہوتی
دل سے اگر تقصیر نہ ہوتی
عینِ عشق ادھورارہتا
رانجھا ہوتا ہیر نہ ہوتی
اسکی دعائیں ساتھ نہ ہوتیں
کوئی دوا اکسیر نہ ہوتی
عکس اترتاآنکھ میں تیرا
اوردھندلی تصویرنہ ہوتی
شعروسخن کےشاہ نہ ہوتے
لفظوں کی جاگیرنہ ہوتی
نیت اسکی صاف جوہوتی
باتوں کی تفسیرنہ ہوتی
عقل و ہنر کو کام میں لاتے
یوں الٹی تدبیرنہ ہوتی
عشبہ تیرے خواب نہ ہوتے
خوابوں کی تعبیر نہ ہوتی
عشبہ تعبیر
