خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےگھر کا پتہ
اردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر نور ظہیر

گھر کا پتہ

ایک اردو افسانہ از ڈاکٹر نور ظہیر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 359 مناظر
360

گھر کا پتہ ۔ ڈاکٹر نور ظہیر

کامنی ہر تیسرے چوتھے دن، شام کو لگنے والے اس بازار میں آتی تھی۔ کالونی کے گیٹ میں داخل ہونے سے پہلے، ذرا آگے کو بڑھ کر لگنے والا یہ بازار تھا بڑے آرام کا۔ تازی سبزیاں اور موسمی پھل تو مل ہی جاتے تھے، ساتھ میں پلاسٹک کی بالٹیاں، مگّے، صابن دانیاں وغیرہ بھی مل جاتے۔ گرم گرم مُرمُرے، گجک، نمکین، مونگ پھلی، چاشنی ٹپکتی جلیبی اور وہ سموسے، جن کے مصالحوں کا اصلی مزا اگلی صبح کو ہی پتہ چلتا تھا، اپنی طرف للچاتے۔ پریشر کوکر، سلائی مشین، گیس کے چولہے کی مرمت کرنے والے بھی اپنی بساط بچھائے ہوتے، ایک موچی کا ٹھیا بھی تھا۔ کبھی کبھار چوہے مارنے کے زہروالا، چاقو چھری دھارنے والا اور لکڑ ہضم پتھر ہضم چورن والے بھی اپنی سائیکل پر ٹکر جاتے۔ غرض یہ کہ گھر کی روز کی ضرورتیں اور ٹوٹ پھوٹ نمٹ جاتی۔ پھر وہ جہاں چارٹرڈ بس سے اترتی تھی وہاں سے یہ بازار دو قدم پر تھا۔ بھلا اس سے سہولیت اور کیا ہوسکتا تھا؟

ویسے اس کی کالونی کے بالکل برابر میں، اشتہاروں کے مطابق، ایشیا کا سب سے بڑا مال تھا، جسے اس کی انگریزی آنرز کررہی بیٹی بار بار ’مول‘ کہہ کر اس کا تلفظ سہی کروانے کی ناکامیاب کوشش کرتی تھی۔ لیکن بات یہ تھی کہ مال جانے میں بڑا رکھ رکھاؤ درکار ہوتا تھا ۔ کپڑے بدلو، ساڑی سے بلاؤز میچنگ بھی ہو اور استری کیا ہوا بھی، سینڈل میچنگ ہو، چوڑیاں بوندے، یہاں تک کہ نیل پالش میچنگ ہو اور ذرا سی بھی اُکھڑی نہ ہو۔ اس میچ باکس بننے میں کامنی کو بے حد کوفت ہوتی۔ یہ کوفت مہینے میں ایک بار تو اٹھائی جاسکتی تھی لیکن ہر دوسرے تیسرے دن۔۔۔؟۔ ویسے ایسا کرنا ضروری تھا، یہ وہ بھی مانتی تھی۔ ورنہ تو مال کی تیز چوندھیا دینے والی روشنی میں کھڑی، مینکون سی لگتی سیلز گرل ایک نظر اس کی ’سر جھاڑ منہ پھاڑ‘ صورت پر ڈالتی اور دوسرے کسٹمر سے، جو درجے میں اضافہ ہوکر اب ’کلائنٹ‘ کہلانے لگے ہیں، مخاطب ہوجاتی۔ ویسے ان سڑکی بازاروں میں بھی آج کل جنریٹر لگاکر، بجلی کی روشنی ہے لیکن صاحب ان ٹمٹماتے بلبوں میں اتنی تاب کہاں جو دن بھر کی ملی دلی ساڑی اور باسی میک اَپ والے چہرے کا سچ بتادیں۔

بچپن سے ماں نے سکھایا تھا — ”عزت رہے گی تو گیا بھی لوٹ آئے گا اور اگر عزت گئی تو مانو سب گیا!“ اب بھلا کامنی کیسے نہ چنتی ایسی جگہ جہاں اس کی عزت کی پٹاری کی چندیاں نہ بکھرتی ہوں۔
آج بھی وہ تیز تیز چلتی ہوئی اس عورت کے سامنے سے گزرتی۔ چار اینٹوں کی پیڑھی پر اپنے بھاری بھرکم کولہوں کو ٹکائے وہ زمین پر طرح طرح کے ساگوں سے گھری بیٹھی تھی۔ کوئی تین ہفتے پہلے تک اس کی دکان پر اچھی خاصی رونق رہا کرتی تھی۔ لیکن تب سے، ایک اور سبزی والا، ساگ کاٹنے کی مشین لے آیا تھا اور ایسا باریک ساگ کتر کر دیتا تھا کہ ساگ پکانے کا کوئی جھنجھٹ ہی نہیں رہ گیا تھا۔ کامنی بھی اُسی کو نشانہ بناکر، اس کی آنکھیں بچاکر نکلنا چاہ رہی تھی کہ اس نے آواز دی —
”کا بی بی جی آج ساگ نہیں لے ہے؟“
”پرسوں ہی تو تمہارے یہاں سے پالک لیا تھا بھئی۔ آج ساگ نہیں چاہیے، دوسری سبزی لیں گے۔“
”تون چنے کا ساگ لے جائیے نا۔ موسم کا پہلا پہل آوا ہے۔“
کیا چنے کے ساگ نے کامنی کی یادداشت کے کچھ تار چھیڑے تھے یا اس کی بولی نے۔ اس نے تو اتنی بار اس سے ساگ خریدا تھا لیکن کبھی نہ تو ٹھیک سے سنا تھا نہ نظر بھر دیکھا تھا۔ وہ رُک گئی اور لوٹتے ہوئے بولی — ”کیا پورب کی ہو؟“
لال لال، پان کھائے ہونٹ سکڑے، پیچھے کو منہ کرکے اس نے پِچ سے پیک تھوکی اور پرانی چھینٹ کی، بدرنگ مگر صاف ساری کے آنچل سے منہ پونچھ کر بولی —”آپ بھی کا ہمرے جوار کی ہیں؟“
جواب میں کامنی نے سوال کیا — ”کون ضلع؟“
”ضلع تو رائے بریلی اور آپ؟“
”ہم تو بارابنکی کے ہیں۔“
”ارے تو کون دور ہیں، اگلے بگلے ہی تو ہیں۔ بارابنکی کی ہیں اور پوس میں چنے کا ساگ نہیں کھات ہیں، ای بھلا کیسن؟“
اس کی بڑی بڑی، کاجل بھری آنکھوں میں شک کی لہریں ہلچل کرنے لگیں، کامنی کو لگا اسے جلدی سے صفائی دے دینی چاہیے ورنہ تو اس پر دھوکہ دھڑی کا الزام لگ جائے گا کہ وہ غلط ضلع بتاکر، ایک ساگ والی کے نزدیک ہونے کی کوشش کررہی ہے۔
”کیا کریں، گاؤں چھوڑے تو زمانہ ہوگیا۔ اب تو لکھنؤ بھی چھوٹے برسوں ہوگئے۔“
”ارے تو کا بھوا، ساگ تو ہئیے نہ۔“ وہ ترازو سنبھال کر، چنے کے ساگ کے گٹھر سے مٹھی بھرنے لگی۔
”نہیں – نہیں، ہم لیں گے نہیں۔“
”کاہے؟ بڑا نیِک ہے، ایک دم کڑیل۔“
”ہمیں بنانا کہاں آتا ہے ہے بھئی، جو لے لیں۔ جب تک اماں تھیں، وہ بناکر کھلادیتی تھیں، ہر جاڑے میں تین چار بار۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ، کاٹیں کیسے، بگھاریں کیسے؟“
اب اس کی آنکھوں میں شک کی جگہ حیرانی نے لے لی۔
”کا کہت ہو بِٹیا، جون جاڑا چنے کے ساگ اور بیسن کی روٹی کے بِنا گزرجائے اُو کونو جاڑا بھوا؟ موسم میں موسم کا مزا نہ لیجیے گا تو رِیتو بدلنے کا فائدہ کا؟ سنئے، ہم سب سکھائے دیتے ہیں۔ دیکھئے پہلے تو ساگ کے اچھی طرح دھو لیجیے گا۔ کاٹے کے بعد کبہوں نہ دھوئیے، نہیں تو کھٹاس سب ختم ہوئی جات ہے اور بھیٹامن بھی سب ناس ہوئی جئیہیں۔“
”بھیٹامن؟“ کامنی نے ذرا حیرت سے پوچھا۔
”ہاں ۔۔ آں۔۔ وئی جاکے مارے ڈاکٹر سب ساگ کھائے کے کہت ہیں۔“
”اچھا اچھا، وٹامن!“
”ہاں، اُوکے انگریزی یا بھیٹامن کہت ہیں۔ تو دھوئے کے کچھ گھڑی پلاسٹک کی ڈلیہ میں رکھ دیجیے، پانی سب نتھر جائے۔ پانی نتھرے کے بعد باریک باریک کاٹ لیجیے۔“ کامنی کی حسرت بھری نظریں مشین کے ساگ والے کی طرف مڑتے دیکھ وہ جلدی سے بولی — ”ویسن نہیں جیسے گائے بیل کا چارہ کاٹت ہیں۔ ایسن مٹھی میں دھر کے یوں یوں یوں، سمجھی؟ اُو کے بعد کڑھائی میں تنی کڑوا تیل ڈال دیجیے۔ ہمرے اُدھر تو کڑوا تیل کہتے ہیں، ہیاں جانے سروں کا تیل کا، مونگ پھلی کا، پھلانے کا، ڈھماکے کا۔ ارے آدمی اور تیل دو ہی ہوت ہیں۔ کڑوا اور میٹھا۔ مہین مہین کاٹ کے ایک ٹھو پیاز ریڈی رکھیے۔ جب تیل جلنے لگے تو اس میں چھوڑ دیجیے۔ جلائیے گا ناہیں، بس گلابی جیسن۔ پھر تین چار سوکھا مرچہ اوہی میں ڈار دیجیے اور لال ہونے دیجیے۔ کب تلک؟ جب تلک دھواں نہ پھوٹے اور چوکے باہر لوگ چھینکنے نہ لگیں۔ بس تبہئی ایک چٹکی ہینگ گرا دیجیے۔ بس اب ساگ چھونک دیجیے اور خوب بھونجئے۔ اِتّا کہ سب پانی سوکھ جائے اور ساگ کڑھائی چھوڑ دے۔ اب ڈاریے نیمک اور ہلدی اور کوٹی لال مرچ۔ پھر بھونئے، پھر کاہے؟ نیمک پڑ کے پانی نہ چھوڑیئے؟ اِتّا بھونجئے کہ تیل دِکھنے لگے۔ اور گرماگرم ہی کھائیے، نہ تو ٹھنڈا ہوئیکے چنے کا ساگ بھلا کونو کام کا؟ اور ساتھ میں رکھئے بیسن کی موٹی موٹی روٹی، دیسی گھی ما چُپڑی ہوئی۔ بیسن کی روٹی تو بنانا جانت ہیں نہ، نہ تو اوہو سکھئے کے پری؟“
کامنی جلدی سے نہ میں سر ہلا رہی تھی کہ ایک گاہک نے اس سے سوال کیا — ”پالک کیسے لگا رہی ہو — ہیں؟“
شاید وہ دیر سے کھڑا تھا اور دوسری یا تیسری بار پوچھ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی۔ ”جون آگے ساگ کی دُکان ہے نہ ہواں سے لیئی لیؤ۔“
گاہک ذرا اڑیل تھا، بولا — ”کیوں، تمہارے پاس بھی تو ہے تو بیچتی کیوں نہیں ہو؟“
وہ کمر سے ایک ہاتھ ہٹاکر نچاتے ہوئے بولی — ”وہ، دیکھت نہیں ہو، جروری کام کرت ہیں۔ ہمرے پاس ٹیم ہے کا؟“
”کیا ضروری کام کررہی ہو تم؟ گاہک اڑیل کیا پورا اڑیل اٹّو تھا۔
”تمہرے سمجھے کا ناہیں ہے نا۔ کاہے ہجت کرت ہو؟ ہاں ہم کا کہت رہے؟ سب بات ہِرائیے دیہن …… ہاں، گرم ہی کٹوری ماں پروسئیے اور اوپر سے ایک پور دیسی گھی ڈار کے بھتار کو کھلائیے، انگلی نہ چاٹے تب کہیے۔ اور ہاں، تازہ گڑ ساتھ میں ضرورے رکھئے، بال گوپالن کے لیے ۔۔“
وہ سمجھا سمجھاکر ساگ تول رہی تھی اور کامنی سوچ رہی تھی، ٹھیک ہی تو کہا تھا اس نے۔ وہ ایک اپنی ہی جیسی کو، جو مہانگر میں آکر بھٹک گئی تھی، گھر کا پتہ بتا رہی تھی۔ بھلا اس سے ضروری اور کام کیا ہوسکتا تھا؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہجویاتِ سودا
  • رازِحیات
  • نپولین کی محبوبہ
  • چوتھی کا جوڑا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک بیوقوف عورت
پچھلی پوسٹ
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

متعلقہ پوسٹس

یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!

نومبر 18, 2021

جسمانی طاقت کی بنیاد

اپریل 1, 2023

مرزا اسداللہ خاں غالبؔ ؔ

اپریل 16, 2023

میرا ہم سفر

جنوری 15, 2020

ڈیجیٹل معیشت اور فری لانسنگ

اکتوبر 29, 2025

عالمی سطح پر جنونیت کیا گل کھلا رہی ہے

اکتوبر 9, 2017

ڈیجیٹل دہشتگردی

جنوری 4, 2026

مینارِمحبت کا شہزادہ

فروری 17, 2020

جمود فکر پر تازیانہ برساتے اختصارئیے

جون 2, 2023

زمین اور انسان

اگست 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تین جذبے

مارچ 14, 2020

زیست

مئی 18, 2020

ایسی پستی ایسی بلندی کا تنقیدی...

اگست 20, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں