خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025 0 تبصرے 101 مناظر
102

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد تک کا سفر
خصوصی فیچر

مملکت خداداد پاکستان کے قیام کے بعد دارالحکومت کراچی رہا، لیکن بڑھتی آبادی، معاشی دباؤ اور جغرافیائی پیچیدگیوں نے نئے دارالحکومت کی ضرورت پیدا کی۔ 1958 میں جنرل ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب پوٹھوہار کے میدان میں نئے شہر کے قیام کا فیصلہ کیا۔ 14 اگست 1967 کو دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوا اور 1968 میں مرکزی حکومت مکمل طور پر یہاں منتقل کر دی گئی۔

اسلام آباد ایک منصوبہ ساز شہر کے طور پر تعمیر ہوا جس میں شہری منصوبہ بندی، محفوظ رہائش، سبزہ زار، تعلیمی و انتظامی زون اس کے بنیادی خدوخال تھے۔ اسے وفاقی دارالحکومت کے طور پر اس لیے منتخب کیا گیا کہ یہ کسی ایک نسلی، لسانی یا صوبائی اکثریت کے زیر اثر نہ ہو۔

اسلام آباد کا موجودہ رقبہ صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا سے حاصل کردہ زمین پر مشتمل ہے۔ اس خطے کی شناخت پشتون، پوٹھوہاری، گوجر، دھنیال اور کشمیری آبادیوں کے ایک تاریخی ملاپ سے بنتی ہے۔ یہ علاقہ بدھ مت، ہندو تہذیب اور مغلیہ ورثے کا حامل بھی رہا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد ہمیشہ ایک "وفاقی علامت” سمجھا جاتا رہا ہے، نہ کہ صوبائی اکائی۔

اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا حکومتی فیصلے کے تناظر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اسلام آباد کو پاکستان کا نیا صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کئی اہم سیاسی و انتظامی پہلو رکھتا ہے جن کا تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے آئینی پہلووں کو مڈ نظر رکھنا ہوگا۔ اسلام آباد اس وقت وفاقی دارالحکومت کے طور پر آئین کے آرٹیکل 1(2)(b) کے تحت ایک الگ وفاقی علاقہ ہے۔ اسے صوبے کا درجہ دینے کے لیے آرٹیکل 1 میں ترمیم کرنی ہوگی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ، پولیس اور مقامی حکومتوں کا نیا ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا۔ اختیارات کی واضح تقسیم کرنی ہوگی۔ اِن سب کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ یہ تبدیلی ملک کے وفاقی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی ہوگی۔
سیاسی خدشات کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے کئی فوائد بھی ہیں۔ فی الحال اس فیصلے کو دو زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کو مکمل صوبائی حقوق ملیں گے۔ قانون سازی کا اختیار بڑھ جائے گا۔ مالیاتی خودمختاری بہتر ہوگی۔ پولیس، انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں میں جواب دہی مضبوط ہوسکے گی۔ایک منظم شہری صوبہ مقامی ترقی کا نیا ماڈل بن سکتا ہے۔

لیکن ان فوائد کے ساتھ ساتھ چند خدشات بھی ہیں۔ اسلام آباد کا وفاقی غیر جانبدار کردار متاثر ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نئے صوبے کی سیٹوں پر مفادات کی کشمکش پیدا ہوگی۔islamabad پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جانب سے زمینی سرحدوں اور پانی کے مسائل پر اختلافات ابھر سکتے ہیں۔اسلام آباد کے چھوٹے رقبے کے باوجود اس کے وفاقی کردار کو صوبائی رنگ دینا غیر ضروری بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی آبادیاتی ساخت کی وجہ سے نئے صوبے کی بنیاد میں پیچیدگاں آسکتی ہیں۔ اسلام آباد پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں پنجابی تقریباً 50 فیصد، پشتو 18 فیصد، اردو 15 فیصد، ہندکو، کشمیری، سرائیکی، بلتی، شینا،کھوار(چترالی ) اور دیگر زبانیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایسے لسانی تنوع میں صوبائی سطح کی قانون سازی ایک محتاط حکمت عملی کی متقاضی ہے۔ اسلام آباد کا شہری انفراسٹرکچر مضبوط ہے، مگر دیہی علاقوں کی 133 سے زیادہ سوسائٹیاں اب بھی نیم دیہی طرز پر چل رہی ہیں۔ اس تضاد کو ختم کیے بغیر صوبہ بنانا انتظامی مسائل کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔

اسلام آباد کی تعمیر کے وقت اس کا مقصد ایک غیر صوبائی دارالحکومت کا قیام تھا۔ زمین پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں سے لی گئی، مگر وفاق نے اسے ایک ’’دائرۂ اختیار‘‘ کے طور پر چلایا۔ کبھی بھی اسے ایک ’’صوبہ‘‘ بنانے پر غور نہیں کیا گیا، کیونکہ اس کا بنیادی کردار ایک قومی مرکز تھا۔

اسلام آباد کو صوبہ بنانا اس پورے تاریخی تصور کو بدل دے گا۔ یہ وہی صورتحال پیدا کر سکتا ہے جو بھارت میں دہلی کے حوالے سے کئی دہائیوں تک جاری رہی، جہاں مرکز اور صوبہ بااختیار ہونے کے معاملے پر مسلسل تنازع رہا۔ اب ایک آئینی سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی دارالحکومت اور صوبہ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں؟ پاکستان میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ اگر اسلام آباد صوبہ بنتا ہے تو تین راستے ہو سکتے ہیں جن میں سرفہرست وفاق کو صوبے کے ماتحت بنانا ہوگا۔ یعنی وفاقی دارالحکومت کو اسی صوبے کے اندر رکھا جائے۔ اس سے مرکز اور صوبے کے اختیارات میں تضاد پیدا ہوگا۔
ایک نیا "فیڈرل زون” بنایا جائے (جیسے امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی) میں موجود ہیں۔ چند کلومیٹر کا علاقہ وفاق کے زیر اختیار اور باقی صوبہ کیسے کے گا۔ وفاقی دارالحکومت کسی اور شہر میں منتقل کیا جائے یہ راستہ غیر حقیقت پسندانہ اور انتہائی مہنگا ہوگا۔ فی الحال موجودہ حکومت کے فیصلے میں ان پہلوؤں کی وضاحت موجود نہیں۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک نئے صوبے کی تشکیل انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسلام آباد کی تین قومی اسمبلی نشستیں بڑھ کر زیادہ ہو سکتی ہیں۔ صوبائی حکومت، گورنر، وزیراعلیٰ اور اسمبلی بننے سے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ جبکہ انتظامی ماہرین کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود ادارے جیسے سی ڈی اے، ایم سی آئی، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ہاؤسنگ اتھارٹیز پہلے ہی اختیارات کی تقسیم کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ نیا صوبہ بنانا ساختی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید بوجھ بڑھا سکتا ہے۔

اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا فیصلہ محض ایک انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی نقشے کی تشکیل نو ہے۔ اس کے اثرات صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مرکز، صوبہ تعلقات، سیاست، آبادیاتی توازن، مالیاتی وسائل اور آئینی ڈھانچے پر بھی پڑیں گے۔

اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا یہ معاملہ گہری مشاورت، آئینی اتفاق رائے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر طے ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ایک تاریخی، تہذیبی اور وفاقی علامت ہے۔ اس علامت کو مضبوط بنانا ریاستی استحکام کے لیے ضروری ہے، مگر اس کی حیثیت بدلنے سے پہلے قومی سطح پر کھلی بحث ناگزیر ہے۔ اگر حکومت یہ قدم اٹھانے میں سنجیدہ ہے تو اسے سخت سوالوں کا واضح جواب دینا ہوگا یعنی اسلام آباد کا وفاقی کردار کیسے برقرار رہے گا؟ صوبائی ڈھانچے میں اختیارات کی تقسیم کیا ہوگی؟ شہری و دیہی آبادی کے مسائل کس طرح حل ہوں گے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا یہ تبدیلی واقعی عوام کی ضرورت ہے؟ یہ وہ چیدہ چیدہ نکات ہیں جن پر اسمبلی کے فلور پر بحث کیے بغیر صوبہ اسلام آباد کا قیام ایک ادھورا تجربہ بن سکتا ہے۔ امید ہے ارباب اختیار اس معاملے پر خود کو جنجھوڑنے کی زحمت گوارا کریں گے۔
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کافی وِد انڈر ٹیکر
  • آہ ! اے دوست
  • اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات
  • پرواز کے بعد
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن
پچھلی پوسٹ
اختر شہاب کی کتاب

متعلقہ پوسٹس

عِشق حقیقی

جنوری 21, 2020

چچا چھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے

اگست 22, 2022

نہ جانے کیا بات تھی اس شخص میں

اپریل 17, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

ادب کی روشنی میں اُردو

اکتوبر 14, 2025

شامت اعمال ہیں

جون 19, 2023

خانہ جنگی کی دھمکیاں

مئی 1, 2022

قاری ٹائم پیس اور مریم بی ایم ڈبلیو

ستمبر 8, 2019

آشفتہ خوابِ آشپزخانه

دسمبر 6, 2024

یوں برملا یہ اشک بہانا فضول ہے

اپریل 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ستائیسویں آئینی ترمیم

نومبر 7, 2025

افسر کا فن

مئی 17, 2025

آروو ایجوکیشن پریس

اکتوبر 1, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں