خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسچ کی جیت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سچ کی جیت

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 12, 2025 0 تبصرے 61 مناظر
62

دنیا کے شور شرابے میں جب الفاظ کی گولیاں بارود سے زیادہ خطرناک ہو جائیں تو عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ برطانیہ کی ایک عدالت نے حال ہی میں ایک ایسا فیصلہ سنایا جو نہ صرف ایک مقدمے کا اختتام ہے بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ فیصلہ اس مقدمے میں سامنے آیا جو سابق پاکستانی انٹیلی جنس افسر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے خود ساختہ تجزیہ کار اور یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف دائر کیا تھا۔

یہ مقدمہ محض ایک شخص کی شہرت کا نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کا امتحان تھا کہ کیا آزادیِ اظہار کے نام پر الزام تراشی بھی جائز ہے؟ عادل راجہ نے مختلف ویڈیوز، بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں بار بار ایسے دعوے کیے جن میں انہوں نے ریاستی اداروں کے افسران کو ارشد شریف کے قتل جیسے سنگین واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ عدالت نے تفصیلی سماعت کے بعد قرار دیا کہ یہ تمام بیانات بے بنیاد تھے، ان کی بنیاد قیاس آرائی تھی، ثبوت نہیں۔

برطانوی عدالت نے نو ایسے بیانات کی نشاندہی کی جو سنگین حد تک ہتکِ عزت پر مبنی تھے۔ ان میں ایک نمایاں الزام یہ تھا کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے کسی ریاستی ادارے کے کہنے پر صحافی ارشد شریف کے قتل میں کوئی کردار ادا کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان کی حکومت کی اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں۔ اس رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ ارشد شریف کا قتل کینیا میں ہوا اور تفتیش ابھی مکمل نہیں۔ اس کے باوجود عادل راجہ اپنے پلیٹ فارمز پر یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ کسی ناقابلِ تردید حقیقت سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عادل راجہ نے جو ذرائع پیش کیے وہ ناقابلِ تصدیق اور غیر معتبر تھے۔ یہ تمام معلومات سوشل میڈیا کے غیر مصدقہ حلقوں یا ذاتی قیاس پر مبنی تھیں۔ برطانوی جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اظہارِ رائے کا حق کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ الزام کو سچ بنا کر پیش کرے۔ اگر کوئی شخص کسی پر جرم کا الزام لگاتا ہے تو اسے لازم ہے کہ وہ اسے ثبوت سے ثابت کرے۔

فیصلے میں عدالت نے عادل راجہ کو غلط قرار دیتے ہوئے ان پر بھاری اخراجات عائد کیے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً تیرہ کروڑ روپے کے برابر ہیں۔ عدالت نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے تمام آن لائن پلیٹ فارمز پر معافی نامہ شائع کریں اور آئندہ کسی قسم کے ہتک آمیز بیانات سے گریز کریں۔ سب سے بڑا نقصان مالی نہیں بلکہ اخلاقی ہے، کیونکہ عدالت نے ان کے بیانیے کو محض غیر ذمہ دارانہ افواہ قرار دیا۔

عدالت کے فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ عادل راجہ نے ۱۴ سے ۲۹ جون ۲۰۲۲ کے دوران اپنے ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب اکاؤنٹس پر ایسے بیانات دیے جو راشد نصیر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر لگائے گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ عادل راجہ اپنے الزامات عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہے اور ان کے بیانات نے راشد نصیر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ عادل راجہ نے اپنے دفاع میں کہا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنے خاندان کے ہمراہ پناہ حاصل کی ہے اور وہ آئی ایس آئی کے ناقدین میں سے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے ذرائع آئی ایس آئی اور فوج کے اندر قابلِ اعتماد ہیں اور وہ بیرونِ ملک دہشت گردی اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ دعوے ثبوت کے بغیر تھے۔

جج نے حکم دیا کہ عادل راجہ اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیس کا خلاصہ شائع کریں اور فالورز کو یہ بتائیں کہ تمام الزامات جھوٹے اور ہتک آمیز تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ وقت، طریقہ کار، الفاظ اور جگہ کا تعین فریقین کے اتفاق سے ہونا چاہیے، بصورت دیگر عدالت فیصلہ کرے گی۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سوال یہ نہیں کہ آئی ایس آئی الیکشن میںmaj adil ملوث ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا مدعی راشد نصیر نے اپنے عہدے کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی یا نہیں۔ عادل راجہ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا لیکن کسی بھی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ آئی ایس آئی ملوث تھی۔

عدالت نے عادل راجہ کے گواہان کے بیانات کا ذکر بھی کیا۔ شاہین صہبائی نے الیکشن میں مداخلت کے خطرے کا اظہار کیا، لیکن راشد نصیر کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ بیشتر تحریریں راشد نصیر کے دفتر سے میڈیا میں لگوائی گئی، لیکن عدالت نے کہا کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ مدعی اس دعوے سے واقف تھے۔

یہ فیصلہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔ اس نے سوشل میڈیا کے اس المیے کو واضح کر دیا کہ اب ہر شخص ذرائع کے نام پر جھوٹ کو سچ کی شکل دے سکتا ہے اور ہر جھوٹ چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سچ کی تصدیق کوئی نہیں کرتا مگر الزام ہر زبان پر چڑھ جاتا ہے۔ عادل راجہ کے ٹویٹس اس کی واضح مثال ہیں۔

یہ خاموشی دراصل وہ لمحہ تھی جب عدالت اور سوشل میڈیا کی دنیا میں فرق واضح ہو گیا۔ عدالت دلیل مانگتی ہے، سوشل میڈیا تاثر پر زندہ ہے۔ عدالت شہادت چاہتی ہے، سوشل میڈیا سنسنی پر تالیاں بجاتا ہے۔ عدالت انصاف دیتی ہے، سوشل میڈیا فیصلہ سناتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو اس فیصلے نے پوری دنیا کے سامنے واضح کر دیا۔

یہ معاملہ پاکستان کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ ہمارے ہاں آزادیِ اظہار کا نعرہ اکثر بدزبان آزادی میں بدل جاتا ہے۔ ہم نے الزام کو اظہار اور تضحیک کو تجزیہ سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق دیا مگر بولنے سے پہلے سوچنے کی ذمہ داری ہم بھول گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر روز کسی کی عزت، کسی کی ساکھ اور کسی کے کردار کو چند لمحوں میں تباہ کر دیا جاتا ہے، اور جب جھوٹ بے نقاب ہوتا ہے تو کوئی معافی مانگنے کو تیار نہیں ہوتا۔

یہ فیصلہ آزادیِ اظہار کے تصور کو بھی ایک نیا زاویہ دیتا ہے۔ آزادیِ اظہار اس وقت باوقار رہتی ہے جب اس کے پیچھے دیانت، تحقیق اور نیک نیتی ہو۔ اگر اسے نفرت، الزام تراشی یا ذاتی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرتی زہر بن جاتی ہے۔ اس مقدمے نے یہ پیغام دیا کہ لفظ مقدس ہیں، مگر جب وہ جھوٹ پر قائم ہوں تو وہ ہتھیار بن جاتے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں جھوٹے الزام کی کوئی گنجائش نہیں۔ عدالت نے طے کر دیا کہ عزتِ نفس انسان کا بنیادی حق ہے، اور سوشل میڈیا پر اسے پامال کرنے والے کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان کے لیے بھی ایک راستہ دکھاتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں بھی قانون اسی سختی سے عمل کرے تو شاید کردار کشی کا یہ بازار ٹھنڈا پڑ جائے۔

یہ معاملہ محض ایک مقدمے تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ تاریخ کا وہ باب بن سکتا ہے جہاں عدالت نے الفاظ کے زہر کو قانون کے ہتھوڑے سے توڑ دیا۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کھینچ دی گئی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سبق دیا کہ سچ ثابت کرو یا خاموش رہو۔

دنیا میں اب جنگیں صرف بندوق سے نہیں، زبان سے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ اور جب زبان قانون سے ٹکرا جائے تو فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں آتا ہے۔ برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا جھوٹے بیانیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ اب دلیل کی زبان میں بات ہوگی، اور جو زبان دلیل کے بغیر الزام لگائے گی وہ انصاف کے ہتھوڑے کے نیچے آ جائے گی۔ آخرکار انصاف وہ قوت ہے جو شور سے نہیں، سچ سے جنم لیتی ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی ہے
  • ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے
  • اب جو آئی ہے تو ویسے
  • ناقابلِ شکست بندھن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خمارِ عشق نے دل کو بھی مبتلا ہے کیا
پچھلی پوسٹ
زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی

متعلقہ پوسٹس

وحشی

اکتوبر 29, 2019

مجھ کودل سے بھی چاہتے ہیں آپ

اگست 19, 2020

تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات

دسمبر 11, 2020

آنندی

جنوری 15, 2020

موت بے موت مارےجاٸیں گے

مئی 5, 2020

ساغر و پیمانہ خالی

جولائی 6, 2025

بس اسٹینڈ

جنوری 24, 2020

اب تیرے پیار کی تشہیر مرے بس میں نہیں

مارچ 19, 2020

گناہوں سے دور نہیں ہیں

نومبر 26, 2025

اس کے بھی تو ہاتھ میں پیسہ

جون 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اِسی ندامت سے اُس کے کندھے...

مئی 13, 2020

تمثیل

مئی 19, 2020

ساگر

اکتوبر 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں