474
اب تیرے پیار کی تشہیر مرے بس میں نہیں
ٹوٹ جاتی ہے یہ زنجیر مرے بس میں نہیں
رنگ بکھرے ہوئے ہر سمت نظر آتے ہیں
اب دھنک میں تری تصویر مرے بس میں نہیں
میں ہدف کو تو کہیں دور چھُپا سکتا ہوں
جانتا ہوں کہ ترا تیر مرے بس میں نہیں
حکم تھا، خواب میں ، صحرا کو میں سیراب کروں
خواب ایسا ہے کہ تعبیر مرے بس میں نہیں
اے محبت تیری بنیاد نہیں رکھ پایا
یہ ہی افسوس ہے تعمیر مرے بس میں نہیں
شاذ کیسا ہے یہ شکوہ ترا دیوانے سے
جانتا تُو بھی ہے تقدیر مرے بس میں نہیں
شجاع شاذ
