101
نا مکیں یہاں کے ہم نا تو ہم وہاں کے ہیں
یہ ورق جو بکھرے ہیں اپنی داستاں کے ہیں
کب گلوں کو سینچا ہے، تھوڑی آبیاری کی؟؟
سچ کہا اے طائر! ہم کون گلستاں کے ہیں؟
کتنی جاں فشانی سے پنچھیوں نے اٹکایا
جا بجا پریشاں اب تنکے آشیاں کے ہیں
ہم نے تان رکھا ہے اک حصار اپنے گرد
اب کی بار حملے وہ بزمِ دوستاں کے ہیں
وہ جو دل کی مسند پر آج جلوہ افگن ہیں
کون سمت سے آئے، کون ہیں، کہاں کے ہیں؟؟
جب پڑے کوئی مشکل بیٹیاں سہارا دیں
یہ ہماری ہمدرد، اور بیٹے اپنی ماں کے ہیں
ہم نے چند سانسوں کی التجا جو کی حسرتؔ
تب سے سب کنارے ہی سرخ آسماں کے ہیں
رشِید حسرتؔ
۱۹ جون ۲۰۲۵
