115
میلے میں گر نظر نہ آتا روپ کسی متوالی کا
پھیکا پھیکا رہ جاتا تہوار بھی اس دیوالی کا
مایوں بیٹھے روپ سروپ کے روگ سے واقف لگتی ہے
آنچل بھیگا جاتا ہے اس دولہن کی شہبالی کا
برتن برتن چیخ رہی تھی کون سمجھتا اس کی بات
دل کا برتن خالی تھا اس برتن بیچنے والی کا
گال کی جانب جھکتی ہے شرماتی ہے ہٹ جاتی ہے
آج ارادہ ٹھیک نہیں ہے جان تمہاری بالی کا
شہزادے تلوار تھما دے اب دربان کے ہاتھوں میں
کہہ دے خالی ہاتھ نہ جائے اب کے بار سوالی کا
پھر ممتازؔ کسی کی یادیں کونجیں بن کر لوٹیں گی
موسم آنے والا ہے پھر زخموں کی ہریالی کا
ممتاز گورمانی
