104
جاب کرنا ہے تو سرکاری نہ کر
بے وجہ اپنی گرفتاری نہ کر
پِس نہ جاؤں میں ترے قدموں تلے
جسم اپنا اس قدر بھاری نہ کر
زندگانی ہے گزر ہی جائے گی
زندگی کے خوف کو طاری نہ کر
یہ حسینائیں بہت ہشیار ہیں
بے سبب ان کی طرفداری نہ کر
چار کی رکھی ہے گنجائش کہ تو
خواہ مخواہ ہر در پہ منہ ماری نہ کر
خود تو مے خانے سے ٹلتے ہی نہیں
ہم سے کہتے ہیں کہ مے خواری نہ کر
لوگ کہتے ہیں سفارش گر نہیں
نوکری مت ڈھونڈ اور خواری نہ کر
بے عمل کو عِلم سے کیا فائدہ
صرف مظہر بار بُرداری نہ کر
ڈاکٹر سید مظہر عباس رضوی
