33
دے دے رشوت کا مال چپکے سے
مجھ کو کردے نہال چپکے سے
ہے ”کرپشن“ کا ”آپشن“ اچھا
اس کو کر ”استمال“ چپکے سے
لبِ لعلیں نہیں ، ہے پان کا عکس
اب تو نظریں نہ ڈال چپکے سے
شور کرکے اُسے کیا ”ڈِس ِمس“
ہوگیا وہ بحال چپکے سے
ممتحن سے جو کرلیا سودا
حل ہوا ہر سوال چپکے سے
کام اپنا کرا کے چھوڑوں گا
مجھ کو ہرگز نہ ٹال چپکے سے
کھا گئے خود تو وہ چکن برگر
ہم کو پکڑا دی دال چپکے سے
دیکھتے ہیں انہیں کنکھیوں سے
پھر گراتے ہیں رال چپکے سے
اب ببانگِ دھل وہ مانگتے ہیں
کب وہ لیتے ہیں مال چپکے سے
حال ہم پوچھتے رہے اُن کا
چل گئے پر وہ چال چپکے سے
ہو نہ جائے خبر زمانے کو
مجھ کو کر فون کال چپکے سے
عیدِ قُرباں پہ اس طرح بھی ہوا
اوڑھ لی ہم نے کھال چپکے سے
لُوٹ کر لے گیا ہمارا دِل
صاحبِ خوش جمال چپکے سے
کچھ پتہ ہی نہیں چلا مظہر
گزرے یوں ماہ و سال چپکے سے
ڈاکٹر سید مظہر عباس رضوی
