465
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت
رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت
درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح
تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت
ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف
ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت
راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن
راہ رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے بہت
اس کو پانے کی تمنا ہی رہی جیون بھر
دور سے ہم نے مسرت کو نہارا ہے بہت
فاصلے بڑھتے گئے عمر بھی ڈھلتی ہی گئی
وصل کا خواب لئے وقت گزارا ہے بہت
ہونٹ خاموش تھے اک آہ بھی ہم بھر نہ سکے
بارہا دل نے مگر تم کو پکارا ہے بہت
جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر موناؔ
میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت
ایلزبتھ کورین مونا
