419
موج در موج ہواؤں سے بچا لاؤں گا
خود کو میں دشت کے پنجوں سے چھڑا لاؤں گا
حوصلہ رکھئے میں صحرا سے پلٹ آؤں گا
ذرے ذرے سے محبت کا پتہ لاؤں گا
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں جو ہیں الجھے ہوئے
ان ہی گیسو کے لیے پھول بچا لاؤں گا
تیرے ماتھے پہ چمکتے ہوئے رنگوں کی قسم
ترے ہونٹوں پہ ترنم کی صدا لاؤں گا
میں جو پابند وفا ہوں تو وفا زندہ ہے
میں اسی طرز ریاضت کا صلہ لاؤں گا
موسم خشک ہوا تیز مگر وعدہ رہا
سرخ پھولوں کے لیے نام وفا لاؤں گا
شب کی تنہائی میں آنکھوں سے لہو ٹپکے گا
ایسے عالمؔ کی میں تصویر بنا لاؤں گا
افروز عالم
