104
دل ایسے مبتلا ہوا تیرے ملال میں
زلفیں سفید ہو گئیں انیس سال میں
ایسے وہ رو رہا تھا مرا حال دیکھ کر
آیا ہوا ہو جیسے کسی انتقال میں
یہ بات جانتی ہوں مگر مانتی نہیں
دن کٹ رہے ہیں آج بھی تیرے خیال میں
اک بار مجھ کو اپنی نگہبانی سونپ دے
عمریں گزار دوں گی تری دیکھ بھال میں
وہ تو سوال پوچھ کے آگے نکل گیا
اٹکی ہوئی ہوں میں مگر اس کے سوال میں
ہمانشی بابرا
