100
بن کے رستہ آرزو میں رہ گئے
ہم کسی کی جستجو میں رہ گئے
کھو گئے ہیں پھول گردش میں کہیں
رنگ لیکن آبجو میں رہ گئے
ہو گئیں جب ختم باتیں تو کھلا
لفظ کتنے آرزو میں رہ گئے
لے گیا ہے کوئی یادوں کے ہرن
ہم اکیلے دشت ہو میں رہ گئے
نیند وحشت میں کہیں گم ہو گئی
خواب جتنے تھے لہو میں رہ گئے
کس پہ کھلتا پھر خزاں کا انتظار
دھیان سارے جب نمو میں رہ گئے
عثمان اقبال خان
