460
ٹوٹ جانے میں کھلونوں کی طرح ہوتا ہے
آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے
اس لئے مجھ کو پسند آتا ہے صحرا کا سکوت
اس کا نشہ تری باتوں کی طرح ہوتا ہے
ہم جسے عشق میں دیتے ہیں خدا کا منصب
پہلے پہلے ہمیں لوگوں کی طرح ہوتا ہے
جس سے بننا ہو تعلق وہی ظالم پہلے
غیر ہوتا ہے نہ اپنوں کی طرح ہوتا ہے
چاندنی رات میں سڑکوں پہ قدم مت رکھنا
شہر جاگے ہوئے ناگوں کی طرح ہوتا ہے
بس یہی دیکھنے کو جاگتے ہیں شہر کے لوگ
آسماں کب تری آنکھوں کی طرح ہوتا ہے
اس سے کہنا کہ وہ ساون میں نہ گھر سے نکلے
حافظہ عشق کا سانپوں کی طرح ہوتا ہے
اس کی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں آنسو تابشؔ
وہ جدا چاہنے والوں کی طرح ہوتا ہے
عباس تابش
