103
رند مدہوش ہیں اور جام اٹھاتے بھی نہیں
عذر پینے میں بھی ہے اٹھ کے یہ جاتے بھی نہیں
تو میسر نہ ہوا آج تلک جانتے ہیں
ساقیا تجھ سے مگر آنکھ ہٹاتے بھی نہیں
دیکھتے بھی نہیں وہ مجھ کو بلاتے بھی نہیں
میری آغوش سے کیوں اٹھ کے وہ جاتے بھی نہیں
ساقیا روز بھلا کیوں ترے جلوے دیکھیں
تیرے عاشق بھی نہیں ہم ترے ماتے بھی نہیں
روتے پھرتے ہیں گلی کوچوں میں رند اور خستہ
دل مگر اپنا وہ ظالم سے بچاتے بھی نہیں
ذیشان احمد خستہ
