108
سیر کرنے کو میں کیوں جاؤں کہیں شام کے بعد
جب میسر ہے مجھے عرش بریں شام کے بعد
سیر کرنے کو میں کیوں جاؤں کہیں شام کے بعد
جب میسر ہے مجھے خلد بریں شام کے بعد
سب سمجھتے ہیں مجھے ہوں میں گنہ گار مگر
در پہ اس کے مری جھکتی ہے جبیں شام کے بعد
تیرے عاشق ہیں کہیں جائیں بھی تو جائیں کہاں
پڑے رہتے ہیں ترے در پہ یہیں شام کے بعد
دل ہے مصروف تیری یاد میں اب شام و سحر
روتی رہتی ہیں مری چشم حزیں شام کے بعد
روز کہتا ہوں ترا ہجر مقدر ہے مرا
دل مری بات سمجھتا ہی نہیں شام کے بعد
فیاض ڈومکی
